اساتذہ کا احتجاج نظر انداز حکومت سندھ نے جامعات کیلیے نئی تلاش کمیٹی قائم کردی

ترمیمی بل کی منظوری کے بعد حکومتی اقدام،پرووائس چانسلر،رجسٹرار اوراہم عہدوں پر بھی امیدواروںکا انتخاب تلاش کمیٹی کریگی


Safdar Rizvi October 25, 2013
کمیٹی میں عذراپیچوہو، ڈاکٹرعاصم حسین،پروفیسر مظہرالحق صدیقی اور سیکریٹری تعلیمی بورڈز شامل،جامعات کے اساتذہ کا احتجاج رائیگاں فوٹو: فائل

حکومت سندھ نے جامعات کے ترمیمی بل کی منظوری کے 2 ماہ بعد پہلا بڑا قدم اٹھاتے ہوئے صوبے کی سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کے انتخاب اورتقررکے لیے نئی''تلاش کمیٹی ''قائم کردی ہے ۔

سندھ کی جامعات کی اساتذہ انجمنوں کے احتجاج کے باوجود تلاش کمیٹی کو وائس چانسلرکے انتخاب تک محدود نہیں رکھا گیا ہے بلکہ سرکاری جامعات اور انسٹی ٹیوٹس کے ''پرووائس چانسلر ، رجسٹرار اوردیگر اہم عہدوں پرامیدواروں کے انتخاب کی ذمے داری بھی تلاش کمیٹی کے سپرد کردی ہے جس کے بعد سندھ کی سرکاری جامعات کے وائس چانسلرزکی حیثیت مکمل طور پر ایک کالج پرنسپل جبکہ یونیورسٹی کے چانسلرگورنرسندھ کی حیثیت تقررکے لیے موجود ایک ''دستخطی اتھارٹی''کے برابر رہ گئی ہے۔

وزیراعلیٰ ہاؤس سے جمعرات کو 4 رکنی نئی تلاش کمیٹی کے قیام کا حکم (نوٹیفکیشن) جاری کردیا گیا ہے کمیٹی میں سابق صدرآصف زرداری کی ہمشیرہ عذراپیچوہو، سابق وفاقی وزیر ڈاکٹرعاصم حسین اور سندھ یونیورسٹی جامشوروکے سابق وائس چانسلر پروفیسر مظہرالحق صدیقی شامل ہیں وزیراعلیٰ کے سیکریٹری برائے تعلیمی بورڈزاور جامعات تلاش کمیٹی کے سیکریٹری کے فرائض انجام دیں گے اس سے قبل قائم تلاش کمیٹی 5 ماہرین پرمشتمل ہوتی تھی اورسرکاری جامعات کے وائس چانسلرز، حاضرسروس جج اور سبجیکٹ اسپیشلسٹ کمیٹی کے اراکین میں شامل ہواکرتے تھے۔



نئی تلاش کمیٹی کے قیام کے حوالے سے وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ اراکین پر مشتمل تلاش کمیٹی سرکاری جامعات اوراسناد تفویض کرنے والے اداروں میں وائس چانسلرز، ڈائریکٹرز،پرووائس چانسلر،رجسٹراراوردیگرعہدوں پر اہل امیدواروں کا انتخاب کریں گے، یاد رہے کہ سندھ اسمبلی19اگست کو سرکاری جامعات کے ترمیمی بل کی منظوری دے چکی ہے جس سے سرکاری جامعات کے کنٹرولنگ اتھارٹی گورنرسندھ سے حکومت سندھ کومنتقل ہوگئی تھی۔

بل کی کچھ شقوں پر سندھ کی سرکاری جامعات کے اساتذہ نے احتجاج اور ہڑتال کی تھی جس پر حکومت سندھ نے جامعات کے اساتذہ کی نمائندہ تنظیم ''فپواسا''کو متنازع شقوں میں ترمیم کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود معترضہ عہدوں پرامیدواروں کے انتخاب کا اختیار بھی تلاش کمیٹی کو دے دیاگیا ہے۔

مقبول خبریں