آسٹریلوی سینیٹر پر ساتھی رکن کو نازیبا الفاظ سے پکارنے پر بھاری جرمانہ عائد

پارلیمنٹ اجلاس کے دوران سینیٹر ڈیوڈ نے خاتون رکن کو نازیبا کلمات سے پکارا تھا


ویب ڈیسک November 25, 2019
عدالت نے قانون میں سینیٹرز کو حاصل استثنیٰ کا فائدہ سینیٹر ڈیوڈ کو دینے سے انکار کردیا (فوٹو : فائل)

آسٹریلیا میں لبرٹی پارٹی کے سینیٹر ڈیوڈ پر ساتھی خاتون رکن پارلیمان کے بارے میں نازیبا زبان استعمال کرنے پر ایک لاکھ 20 ہزار آسٹریلوی ڈالر کا جرمانہ عائد کردیا گیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلوی عدالت نے سینیٹر ڈیوڈ کے سینیڑز کو حاصل استثنیٰ کے دفاعی دلائل کو مسترد کرتے ہوئے ساتھی خاتون رکن اسمبلی سے نازیبا زبان استعمال کرنے پر بھاری جرمانہ عائد کردیا گیا۔

سینیٹر ڈیوڈ نے جون 2018ء کو پارلیمنٹ کے اجلاس میں ایک مباحثے کے دوران خاتون سینیٹر سارہ ہانسن کو مباشرت کے حوالے سے نازیبا کلمات کہے تھے۔ سینیٹر ڈیوڈ نے اسی پر ہی بس نہیں کی بلکہ خاتون سینیٹر کے بارے میں میڈیا میں بھی انتہائی غلیظ زبان استعمال کرتے رہے۔

سینیٹر ڈیوڈ نے کہا تھا کہ سارہ ہانسن ایسی خاتون ہیں جو ہر مرد کو ریپسٹ کہتی ہیں اور پھر انہی مردوں کے ساتھ جنسی تعلق بھی استوار کرتی ہیں۔ آسٹریلیا کی سیاسی تاریخ میں قانون ساز ادارے کے دو ارکان کے درمیان یہ پہلی قانونی جنگ تھی جو سارہ ہانسن نے جیت لی۔

سینیٹر ڈیوڈ نے میڈیا میں دہرائے گئے اپنے کلمات کو غلطی قرار دیا تاہم عدالت میں انہوں نے سینیٹر ہونے کی وجہ سے حاصل استثنیٰ سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی جسے جج رچرڈ وائٹ نے مسترد کردیا اور ایک لاکھ 20 ہزار آسٹریلوی ڈالر کا جرمانہ عائد کردیا۔