سندھ کابینہ سولر اور ونڈ پاور کیلیے 30 سالہ لیز پر زمین الاٹ کرنیکی منظوری

5801ایکڑ زمین10 پاور کمپنیوں بشمول این ٹی ڈی سی کو الاٹ کی جائیگی جس سے صوبائی خزانے کو9.13بلین روپے حاصل ہونگے


Staff Reporter November 27, 2019
سندھ بلڈنگ کنٹرول کی عدالتیں قائم کرنیکی بھی منظوری، سندھ کابینہ کے اجلاس میں تمام جامعات کو مزید بھرتیوں سے روکدیاگیا ۔ فوٹو: فائل

سندھ کابینہ نے10 نجی فرمز اور نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی(این ٹی ڈی سی) کو سپریم کورٹ کی رہنمائی کے تحت ری نیوایبل پاور پلانٹس کی تنصیب اور نیشنل گرڈ اسٹیشن کے قیام کیلیے 30 سالہ لیز پر 5801ایکڑ زمین الاٹ کرنے کی منظوری دیدی۔

5801 ایکڑ زمین 10 پاور کمپنیوں بشمول این ٹی ڈی سی کو الاٹ کی جائے گی جس سے صوبائی خزانے کو 9.13بلین روپے حاصل ہوں گے، اس بات کا فیصلہ وزیراعلی مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا، اجلاس میں کابینہ نے ری نیو ایبل پاور پلانٹس کے پلانٹرس کی بھی اجازت دی کہ وہ دیگر پاور پلانٹس بھی نصب کرسکتے ہیں اگر اْن کی ضرورت ہوتو مگر حکومتی ضروریات کو پورا کرکے اور لیز منی کی کلیئرنس کے بعد۔

صوبائی وزیر انرجی امتیاز شیخ نے کابینہ کو بتایا کہ ونڈ اور سولر کی 10 ری نیوایبل پاور کمپنیوں اور این ٹی ڈی سی نے 3 اضلاع ٹھٹھہ،دادو اورجام شورو میں ونڈ اور سولر پروجیکٹس لگانے کے لیے 5801 ایکڑ زمین کی الاٹمنٹ کے لیے درخواست دی تھی۔

سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو قاضی شاہد پرویز نے کابینہ کو بتایا کہ زمین صرف سپریم کورٹ کی گائیڈنس کے مطابق ہی الاٹ کی جاسکتی ہے، کابینہ نے زمین کی الاٹمنٹ کی منظوری دی اور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو ضروری انتظامات کرنے کی ہدایت کی،کابینہ کے اجلاس میں کابینہ کی مختلف سب کمیٹی کی رپورٹس پر غورکیاگیا۔

سندھ کابینہ نے سندھ بینک کو اپنے ملازمین کو قرضے دینے کی اجازت دی مگر اس کی منظوری اسٹیٹ بینک کی اجازت/منظوری سے مشروط ہوگی، اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ سندھ مائیکرو فنانس بینک نے 2.2 بلین روپے سے ایک لاکھ غریب خواتین کو چھوٹے چھوٹے قرضے دیے ہیں، سندھ مائیکرو فناننس بینک پرافٹ میں چل رہی ہے۔

سندھ کابینہ میں دوسرے ایجنڈے پر بات چیت کرتے ہوئے کہاگیا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھاٹی نے خصوصی عدالتیں بنانے کی درخواست کی ہے، خصوصی عدالتوں میں بلڈنگ کنٹرول سے متعلق مقدمات چلیں گی، وزیر بلدیات سید ناصر شاہ نے اجلاس کو بتایا کہ عمارتوں کی تعمیرات کے حوالے سے کافی مقدمہ بازی ہوتی ہے جس پر کابینہ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول کی عدالتیں قائم کرنے کی منظوری دے دی۔

کابینہ نے سر کاؤ جی جہانگیر انسٹیٹیوٹ آف سائیکائیٹری بیہیورل سائنس ایکٹ 2019 کی منظوری دیدی، اسپتال 1865 میں کھڈو میں قائم ہوا تھا، سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن ایمپلائیز (ریکٹروٹمنٹ) رولز 2014 کے قوانین میں اصولی طور پر ترمیم کی منظوری دیدی۔

قوانین میں ترمیم کے بعد تعلیم کے حوالے سے سول سرونٹس بھی تعینات ہوسکتا ہے، یونیورسٹی اینڈ بورڈز کو بھرتیوں کے گریڈز اور پوزیشنز کو بھی واضح کرکے آئندہ کابینہ میں لانے کی ہدایت کردی گئی، سندھ کابینہ نے تمام جامعات کو مزید بھرتیوں سے روک دیا۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ ڈائریکیٹوریٹ آف آرکائیز اور محکمہ ثقافت 1976 میں محکمہ تعلیم کا حصہ تھیں بعد میں محکمہ ثقافت کو ایک علیحدہ محکمہ قرار دیاگیا اور ڈائریکٹوریٹ آف آرکائیز محکمہ تعلیم کا حصہ رہا اور اس کے بعد اسے محکمہ اطلاعات کو منتقل کردیاگیا،کابینہ میں ایف بی آر اور بی او آر کے ٹیبل ویری ایشن کے حوالے سے بتایا گیا کہ کراچی، حیدرآباد اور سکھر کی اربن اموایبل پراپرٹی کی ویلو ایشن ٹیبل اور سندھ بورڈ آف ریونیو کی ٹیبل میں فرق ہے، کچھ میں سندھ حکومت کا ٹیبل ایف بی آر سے کم ہے اور کچھ میں زیادہ،اس ٹیبل کو یکساں کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔

سندھ کابینہ میں سولر اور ونڈ پاور کے لیے زمین الاٹ کرنے کے حوالے سے کہا گیا کہ یہ زمین ٹھٹھہ، دادو اور جامشورو میں الاٹ ہونی ہیں، یہ زمین 10 مختلف کمپنیز کو الاٹ ہونی ہے، زمین نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کو بھی الاٹ ہونی ہے، یہ زمین 30 سالہ لیز پر دی جائے گی۔ بورڈ آف روینیو نے زمین کی سالانہ لیز کی رقم بھی تجویز کردی،سندھ کابینہ میں فیصلہ کیا گیا کہ جو کمپنیاں شرائط پر پورا اترے گیں اْن کو زمین الاٹ کی جائے گی۔

دریں اثنا وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ بینک کے ذریعے سندھ حکومت نے کسی کو نوازا ہے یہ بات اور تاثر سراسر غلط ہے کیونکہ کوئی بھی بینک کسی کو اپنی مرضی سے کوئی قرضہ فراہم نہیں کرتی بلکہ اس کے لئے اسٹیٹ بینک کے تمام قوانین لوگو ہوتے ہیں اور ان تمام قوانین کو مکمل فالو کیا جاتا ہے۔سندھ کابینہ نے صوبے میں انرجی ڈپارٹمنٹ کو زمینوں کی الاٹمنٹ کی منظوری دے دی ہے۔ یہ بات انھوں نے منگل کے روز سندھ کابینہ کے اجلاس کے بعد سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

جن جن اداروں میں سندھ بینک نے سرمایہ کاری کی اور انھیں قرضے دیے ان کی اقساط مکمل طور پر آتی رہی لیکن جب سے نیب کی جانب سے کارروائیوں کا آغاز ہوا ان کی اقساط آنا بند ہوئی اور یہ صرف سندھ بینک نہیں بلکہ اس میں چار بینک شامل ہیں اور ان تمام بینکوں کی جانب سے 41 ارب روپے ان سے وصول کرنے ہیں جب کہ اس کے برعکس ان بینکوں کے پاس 55 ارب روپے کی گارنٹی موجود ہے، اس لیے یہ کہنا کہ یہ سرمایہ ڈوب گیا ہے، یہ تاثر بھی غلط ہے۔