بھارت طوفانی بارشوں سے تباہی 48 افراد ہلاک ہزاروں گھر تباہ

ہزاروں افراد نے سڑکوں اور ریلوے ٹریک پر پناہ لے لی، ٹرین سروس معطل،72 ہزار افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچا دیاگیا، حکام


AFP October 27, 2013
کولکتہ میں طوفانی بارشوں کے بعد سڑکیں دریا بن گئیں،ایک سائیکل رکشے والا خاتون کو منزل پر پہنچانے کی کوشش کررہا ہے ۔فوٹو: اے ایف پی

KARACHI: مشرقی بھارت میں شدید بارشوں کے دوران دریائوں کے بپھرنے پرسیلاب سے 48 افراد ہلاک ہوگئے۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق گزشتہ 10 برسوں کے دوران یہ شدید ترین بارشیں ہیں جن سے دریا بپھر گئے اور سیلاب کے باعث ساحلی ریاستوں آندھرا پردیش اور اڑیسہ میں ہزاروں افراد اس وقت دیگر مقامات پر منتقل ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔دونوں ریاستوں میں قریباً 45 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 30 اضلاع میں ہزاروں لوگوں نے سڑکوں اور ریلوے ٹریک پر پناہ لے رکھی ہے۔ ریاست آندھرا پردیش میں29 اور اڑیسہ میں 16افراد کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں' ریاست مغربی بنگال میں بھی شدید بارش کے دوران 3 افراد مارے گئے جبکہ 30 سے زائد ریسکیو ٹیمیں لوگوں کو محفوظ جگہوں پر پہنچانے کے لیے امدادی کاموں میں مصروف ہیں جبکہ محکمہ موسمیات نے آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران بھی شدید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔



ایک افسر کے مطابق 9 اضلاع میں سے 72 ہزار افراد کو سیلابی علاقوں سے نکال کر محفوظ مقامات تک پہنچا دیاگیا ہے، ساڑھے 6 ہزار سے زائد گھر تباہ اور 5.64 لاکھ ہیکٹرعلاقوں پر پھیلی فصلیں تباہ ہوگئیں، حکومت نے 9 اضلاع میں 178 ریلیف کیمپ قائم کردیے ہیں۔ نیشنل ڈزاسٹرمینجمنٹ ایجنسی کی خاتون ترجمان ترپتی پرول نے بتایا کہ طوفان کے باعث دونوں ریاستوں میں ٹرین سروس بھی معطل ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 30 کے قریب ریسکیو ٹیمیں امداد کے کاموں پر مامور ہیں۔ انتظامیہ پہلے ہی ایسی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار تھی۔ اس حوالے سے ریاست کھانے پینے کی اشیا متاثرین تک پہنچانے کو یقینی بنا رہی ہے۔