جامعہ کراچی داخلہ ٹیسٹ این ٹی ایس سے کرانے پر اساتذہ کے تحفظات اخراجات طلبا پر ڈال دیے گئے

طلبا کو یونیورسٹی کے داخلہ فارم کی قیمت کے علاوہ ہرشعبے کیلیے این ٹی ایس ٹیسٹ کی مد میں 750روپے علیحدہ جمع کرانے ہونگے


Safdar Rizvi October 29, 2013
این ٹی ایس کے پاس مختلف مضامین کے ماہرین موجود نہیں،اساتذہ، سینئر اساتذہ کا ڈیٹا بیس این ٹی ایس کوفراہم نہ کرنے کا عندیہ . فوٹو: فائل

جامعہ کراچی کی انتظامیہ کی جانب سے داخلہ ٹیسٹ این ٹی ایس کے تحت کرانے کافیصلہ متنازع بن گیاہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے 18شعبہ جات کے داخلہ ٹیسٹ این ٹی ایس سے کرائے جانے کے فیصلے کے بعد نیشنل ٹیسٹنگ سروس کے لاکھوں روپے کے اضافی اخراجات کا بوجھ طلبہ وطالبات پرڈالنے کی تیاری کرلی اور اس سلسلے میں داخلہ فارم کی قیمت میں کئی گنااضافہ کیے جانے کا امکان ہے، جامعہ کراچی کے سینئراساتذہ کی جانب سے این ٹی ایس کے تحت داخلہ ٹیسٹ کرائے جانے کے انتظامی فیصلے کوتنقید کا نشانہ بناناشروع کردیا ہے۔

داخلہ ٹیسٹ این ٹی ایس سے کرانے کی صورت میں اپنے اپنے مضامین کا ڈیٹا بیس این ٹی ایس کوفراہم نہ کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے ،جامعہ کراچی کی اکیڈمک کونسل نے یونیورسٹی کے 18شعبہ جات کے داخلہ ٹیسٹ یونیورسٹی کے بجائے این ٹی ایس سے کرانے کی منظوری دی گئی ،نیشنل ٹیسٹنگ سروس فی طالب علم ایک شعبے کے حساب سے 750 روپے کی رقم وصول کرے گی جوجامعہ کراچی امیدواروں سے وصول کرے گی اگرکوئی طالب علم ایک سے زائد شعبوں کے داخلہ ٹیسٹ میں شرکت کا خواہاں ہوا تواسے ہرشعبے کے حساب سے 750روپے مزید ادا کرنے ہونگے۔



جامعہ کراچی کاداخلہ فارم بمعہ کتابچے کی قیمت اس کے علاوہ ہوگی ، جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے گزشتہ برسوں میں ٹیسٹ کے حامل شعبہ جات کے فارم کی قیمت 1500روپے مقررکی تھی جبکہ ہرامیدوارکویہ اختیارحاصل تھا کہ 1500روپے فارم کی قیمت میں وہ کم از کم 5شعبہ جات کے داخلہ ٹیسٹ میں شریک ہوسکتے تھے اگرایک طالب علم 5شعبوں کے ٹیسٹ میں شرکت کا خواہشمند ہواتواسے 3750روپے اداکرنے ہونگے جبکہ داخلہ فارم کی قیمت اس کے علاوہ ہوگی۔

معلوم ہواہے کہ جامعہ کراچی کے بعض سینئر اساتذہ نے بھی 18مختلف شعبوں کے داخلہ ٹیسٹ انتظامیہ کی جانب سے خود لینے کے بجائے این ٹی ایس سے کروانے کے فیصلے پر شدید تنقید کی ہے اوراس حوالے سے این ٹی ایس کے ڈیٹابینک پربھی شکوک وشبہات کااظہارکیاہے ، اساتذہ کاکہناہے کہ این ٹی ایس کے پاس مختلف مضامین کے ماہرین ہی موجود نہیں ہیں جوڈیٹابینک میں موجود سوالات کامتعلقہ یونیورسٹی کے نصاب کے مطابق تعین کرسکیں اوراس مقصد کے لیے انھیں خود یونیورسٹی اساتذہ کی خدمات درکارہونگی ایک سینئرپروفیسرکاکہناتھاکہ حال ہی میں منعقدہ ایم بی بی ایس کے داخلہ ٹیسٹ میں این ٹی ایس نے 3سوالات نصاب کے باہرسے شامل کردیے تھے۔

جس سے این ٹی ایس کی پیشہ ورانہ مہارت سوالیہ نشان بن گئی ہے ایک سینئرپروفیسرکے مطابق جب یونیورسٹی انتظامیہ ایم ایس؍پی ایچ ڈی کے داخلہ ٹیسٹ خود کراسکتی ہے تویہ ٹیسٹ بھی یونیورسٹی خودلینے کی صلاحیت رکھتی ہے اساتذہ نے شعبہ ویژول اسٹڈیز کے داخلہ ٹیسٹ این ٹی ایس سے نہ کرانے کے فیصلے کودرست قراردیااساتذہ کاکہناتھاکہ یونیورسٹی اس سلسلے میں اپنی دورخی حکمت عملی کوتبدیل کرتے ہوئے باقی شعبوں کے ٹیسٹ بھی خود ہی کرائے۔

مقبول خبریں