جامعہ اردو سینیٹ اجلاس میں حیدرآباد کیمپس کے قیام کی منظوری

اسسٹنٹ پروفیسرزکوایسوسی ایٹ پروفیسرزکاعہدہ تفویض کرنے کے فیصلے کی منظوری آئندہ اجلاس تک موخر


Safdar Rizvi October 30, 2013
ملازمین جامعہ اردوکومزید ترقی سے ہمکنار کرنے کے لیے کوشاں رہیں گے،صدر ممنون حسین کا اجلاس سے خطاب ۔ فوٹو : اے پی پی

ISLAMABAD: وفاقی اردو یونیورسٹی کی سینیٹ کا غیر معمولی اجلاس اہم اور بڑے فیصلوں پر پہنچے بغیر ختم ہوگیا۔

گورنرہاؤس کراچی میں سینیٹ کا اجلاس صدر مملکت اور یونیورسٹی کے چانسلرممنون حسین کی زیرصدارت ہوا، اجلاس میں حیدرآباد میں نئے کیمپس کے قیام کی محض اصولی منظوری دی جاسکی تاہم اجلاس میں حیدرآباد میں کیمپس کے قیام کے لیے قطعہ اراضی اورفنڈزکے حوالے سے کوئی بات ہی نہیں ہوئی مزیدبراں اجلاس میں اردویونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسرز کو ایسوسی ایٹ پروفیسرزبنائے جانے کے معاملے پر تحفظات کااظہارکرتے ہوئے اس کی منظوری بھی روک دی گئی، ذرائع کے مطابق صدرمملکت اپنی سربراہی میں منعقدہ اجلاس میں کسی کے بھی خلاف ضابطہ امرکی منظوری نہیں چاہتے تھے۔

جس کے سبب اس معاملے کو موخرکرتے ہوئے آئندہ کے اجلاس پرچھوڑ دیا گیا، اجلاس میں قائم مقام گورنرسندھ آغاسراج درانی، وفاقی اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرظفر اقبال، ڈاکٹر نوشاد شیخ،ڈاکٹراے کیومغل،ڈاکٹر جاویدمنظر پروفیسر ناصر عباس اورپروفیسر سیماناز صدیقی کے علاوہ دیگراراکین بھی شریک ہوئے ''ایکسپریس''کواجلاس میں شریک ایک رکن نے بتایا کہ سینیٹ کے اجلاس میں وفاقی اردویونیورسٹی کے دودرجن سے زائد اسسٹنٹ پروفیسرزکوایسوسی ایٹ پروفیسرز کاعہدہ تفویض کیے جانے کی منظوری کامعاملہ آیاتواجلاس میں معاملہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے قواعد کے برعکس ہونے کی باز گشت سنی گئی اورایک سینئررکن کاکہناتھاکہ ایچ ای سی کے قوانین کے تحت پی ایچ ڈی کے بغیرکسی ٹیچرکوایسوسی ایٹ پروفیسرمقررنہیں کیاجا سکتا ۔

جبکہ ان اساتذہ کوگریڈ 20کے مساوی پہلے ہی مالی مراعات دی جاچکی ہیں سینیٹ کے ایک رکن کے مطابق صدرمملکت اپنی سربراہی میں منعقدہ اجلاس میں کسی متنازعہ فیصلے کی منظوری سے گریزاں تھے جس کے بعد اس معاملے کوآئندہ پرچھوڑدیاگیامزیدبراں اردویونیورسٹی کے اعلامیے کے مطابق اجلاس میں حیدرآباد میں جامعہ اردوکے کیمپس کے قیام کی اصولی منظوری دی گئی اوراس کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی جو پی سی ون تیارکرے گی ذرائع کے مطابق اس کمیٹی میں نوشاد شیخ اور اے کیومغل کوشامل کیاگیاہے۔



مزیدبراں اجلاس میں کراچی کے ہرضلع میں یونیورسٹی کے ''سب کیمپسز''کے قیام کے معاملے پر بھی کوئی خاطرخواہ بات چیت نہیں ہوئی ''ایکسپریس''نے یونیورسٹی کی سینیٹ میں کیے گئے فیصلوں پرجامعہ اردوکاموقف لینے کے لیے جب یونیورسٹی کے رجسٹرارپروفیسرفہیم الدین سے رابطہ کیاتوابتداء میں وہ بات چیت سے گریز کرتے رہے جبکہ بعدازاں انھوں نے اپناموبائل فون ہی بند کردیاعلاوہ ازیں اردویونیورسٹی کے اعلامیے کے مطابق اجلاس میں کیمپس ڈائریکٹر کیاسامی کی اصولی منظوری دی گئی۔

جبکہ انسٹیوٹ آف ارتھ سائنسز کی بھی منظوری دی گئی، اس موقع پرصدر مملکت ممنون حسین نے جامعہ اردو کی سینیٹ کے 25ویں اجلاس کے ایجنڈے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جامعہ کی انتظامیہ ، تدریسی وغیر تدریسی ملازمین دن رات محنت کرکے بابائے اردو مولوی عبدالحق کے خواب جامعہ اردو کوترقی کی اولین منازل سے ہمکنار کرنے میں کوشاں رہیں گے، اجلاس سے قبل وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال نے جامعہ کے گزشتہ آٹھ ماہ کی کارکردگی رپورٹ پیش کی۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال کی رپورٹ کے مطابق اس دورانئے میں جامعہ میں تین کلیات اور چار شعبہ جات کا قیام عمل میں لایا گیا ، دریں اثناء سرکاری اعلامیے کے مطابق صدرمملکت اور جامعہ اردو کے چانسلر ممنون حسین نے کہا ہے کہ وفاقی اردو یونیورسٹی برائے آرٹس اینڈ سائنس ٹیکنالوجی ملک کا واحد اعلیٰ تعلیمی اداراہ ہے جو کہ قومی زبان میں تعلیم دیتا ہے اجلاس میں اس پر اتفاق کیا گیا کہ اردو یونیورسٹی کا ایک کمپیس حیدرآباد اور دو مزید کمپیس کراچی و ملک کے دیگر شہروں میں کھولیں جائیں گے ۔

مقبول خبریں