حسن علی کا اپنی فٹنس پر تنقید کرنے والے بھارتیوں کو کرارا جواب

ویب ڈیسک  منگل 10 دسمبر 2019
فاسٹ بولر نے پاکستانی مداحوں کی تنقید کا تو کوئی جواب نہیں دیا البتہ بھارتیوں کو آڑے ہاتھوں لیا.

فاسٹ بولر نے پاکستانی مداحوں کی تنقید کا تو کوئی جواب نہیں دیا البتہ بھارتیوں کو آڑے ہاتھوں لیا.

قومی ٹیم کے فاسٹ بولر حسن علی ان فٹ ہونے کے باوجود ریمپ پر واک کرنے پر تنقید کی زد میں آگئے تاہم انہوں نے بھارتی مداحوں کو لاجواب کردیا۔

قومی ٹیم کے فاسٹ بولر حسن علی گزشتہ 2 ماہ سے کمر کی تکلیف کا شکار ہیں اور ڈاکٹرز کی جانب سے انہیں مکمل آرام کا مشورہ دیا گیا ہے، ان فٹ ہونے کے باعث ناصرف دورہ آسٹریلیا سے باہر ہوئے بلکہ وہ قائدآعظم ٹرافی کے کسی ایک میچ میں بھی شرکت نہ کرسکے اور اب سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز کے لیے بھی دستیاب نہیں ہیں۔

حسن علی ڈاکٹرز کی ہدایات کے برعکس آرام کرنے کے بجائے 3 روز قبل لاہور میں ہونے والے برائیڈل فیشن شو میں پہنچ گئے جہاں انہوں نے دلہے کا لباس پہن کر جلوے بکھیرے اور ساتھ میں اپنا مخصوص جنریٹر والا ایکشن کرکے سب کو محظوظ بھی کیا تاہم ایسا کرنا انہیں مہنگا پڑگیا اور ان کے مداحوں نے سوشل میڈیا پر فاسٹ بولر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

سلطان محمود نامی مداح نے ٹوئٹ میں حسن علی کی ویڈیو بھی شیئر کی اور ساتھ لکھا کہ یہ بھائی شادی کے بعد سے ان فٹ ہیں اور ان کی کمر میں تکلیف ہے لیکن یہ ماڈلنگ کے لئے فٹ ہیں۔

حسن علی پر تنقید کرنے والوں میں بھارتی مداح بھی پیش پیش رہے، بھارتی مداح نتیش سکسینا نے ٹوئٹر پر لکھا کہ حسن علی پسلیوں میں تکلیف کی وجہ سے ٹیم سے باہر ہیں لیکن مداح انہیں ریمپ پر واک کرتا دیکھ رہے ہیں۔

نیوز اسٹیٹ نامی بھارتی ویب سائٹ کی جانب سے بھی حسن علی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا، ایک ٹوئٹ میں نیوز اسٹیٹ کی جانب سے کہا گیا کہ حسن علی کو ریمپ پر واک کرتا دیکھ کر ایسا نہیں لگتا کہ ان کی پسلیوں میں تکلیف ہے اور ان کے اس عمل کے بعد پاکستانی مداح مخمصے میں ہیں کہ کیا حسن علی واقعی ان فٹ ہیں یا وہ غلط بیانی کرکے ٹیم سے باہر ہوئے۔

فاسٹ بولر نے پاکستانی مداحوں کی تنقید کا تو کوئی جواب نہیں دیا البتہ بھارتیوں کو آڑے ہاتھوں لیا. فاسٹ بولر نے بھارتیوں کی جانب سے ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ میں نے 70 فیصد ریکوری حاصل کرلی ہے، میری فکر کرنے کے لیے میرے مداح کافی ہیں، آپ کو فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔