مصباح کے اعصاب پر سوار انجانے خدشات مزید بڑھ گئے

خطرناک حریف ٹیم ٹف ٹائم دے گی،دوسرے میچ میں کامیابی سے حوصلے تو بلند ہوگئے مگر آزمائش ابھی باقی ہے، پاکستانی کپتان


Sports Desk November 03, 2013
ٹیم کی پرفارمنس کے عدم تسلسل نے مصباح الحق کی کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ فوٹو: فائل

جنوبی افریقہ سے دوسرے ون ڈے میں فتح کے باوجود بے ترتیب پاکستانی دھڑکنیں معمول پر نہ آسکیں، مصباح الحق کے اعصاب پر سوار انجانے خدشات مزید بڑھ گئے۔

ناقابل اعتبار ٹیم کے قائد کا دل خوشیاں منانے سے بھی گھبرانے لگا، ان کا کہنا ہے کہ ہم ایک مشکل سیریز میں خطرناک حریف ٹیم کا سامنا کررہے ہیں، اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ ہمیں ٹف ٹائم دے گی، کامیابی سے حوصلے تو بلند ہوگئے مگر آزمائش ابھی باقی ہے۔ دوسری جانب جنوبی افریقی کپتان اے بی ڈی ویلیئرزکا کہنا ہے کہ کم اسکور نے مجھے دبائو کا شکار کردیا، بیٹسمینوں کا کامیاب نہ ہونا تشویش کا باعث ہے، اگلے معرکے میں گرین شرٹس کو سبق سکھانے کیلیے پُراعتماد ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان نے جنوبی افریقہ کو دوسرے ون ڈے میں 66 رنز سے شکست دے کر 5ون ڈے میچز کی سیریز فی الحال 1-1 سے برابر کردی لیکن کپتان مصباح الحق کے اعصاب پر ابھی تک پہلے میچ میں جیتی ہوئی بازی ہارنے کے اثرات سوار ہیں، ٹیم کی پرفارمنس کے عدم تسلسل نے ان کی نیندیں اڑا دی ہیں۔



گرین شرٹس نے کبھی جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز نہیں جیتی اگر پاکستانی بیٹسمین پہلے ایک روزہ میچ میں غفلت کا مظاہرہ نہ کرتے تو اس وقت برتری 2-0 ہوچکی ہوتی۔ مصباح نے اپنی ٹیم کو خبردار کیا کہ وہ اس ایک فتح پر سکون سے نہ بیٹھیں، باقی معرکوں میں بھی میدان مارکر نئی تاریخ رقم کرنا ہے۔ کپتان نے کہا کہ ہم اس وقت ایک انتہائی ہی دشوار سیریز کھیل رہے ہیں جس میں ہمارا سامنا ایک سخت ترین حریف سے ہے، پروٹیز ہارنے کے بعد پوری شدت سے جوابی وار کرنے کی صلاحیت رکھتے اور مجھے یقین ہے کہ وہ پھر ہمیں ٹف ٹائم دیں گے، ہم نے پہلا ون ڈے بھی فتح کے قریب پہنچ کر گنوا دیا تھا، جب بھی اس طرح کی چیزیں ہوتی ہیں مایوسی اور بھی زیادہ ہوجاتی ہے، اس کے ساتھ میچ کے 95 اوورز پر ہمارا قبضہ رہنے کی وجہ سے ہمارا تھوڑا بہت اعتماد موجود تھا، اب یہ دوسرا ون ڈے جیتنے کے بعد اعتماد بحال ہوگیا لیکن ہمیں مزید چوکنا رہنے اور حریف سائیڈ کے جوابی حملے کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب جنوبی افریقی کپتان ابراہم ڈی ویلیئرز اس بات پر حیران ہیں کہ ان کے بیٹسمینوں سے رنز کیوں نہیں بن رہے، انھوں نے کہاکہ حقیقت تو یہ ہے کہ مجھ پر پریشر بڑھنے لگا،کوئی بھی ایسا کپتان جس کے پاس جنوبی افریقہ جیسی ٹیم کی قیادت ہو وہ اپنے پلیئرز کے رنز نہ بنا پانے پر دبائو میں ضرور آئے گا، میں کپتانی سے لطف اندوز ہورہا ہوں، کھلاڑی مجھے اچھا رسپانس دیتے ہیں، صرف ایک شکست سے ان کا اعتماد کم نہیں ہوسکتا، ہم اگلے میچ میں کامیابی کی پوری کوشش کریں گے۔ڈی ویلیئرز نے مزید کہا کہ ہمیں اپنی بیٹنگ پر تشویش اور خامیاں دور کرنے کیلیے تیسرے میچ سے قبل مزید سخت محنت کریں گے۔