لیاری میں لاقانونیت کا دی اینڈ ہونا چاہیے

منی پاکستان کے شورش زدہ اور گینگ وار سے نڈھال علاقے لیاری میں قتل وغارت اورلاقانونیت کے باعث ایک بار پھر بڑے پیمانے...


Editorial November 04, 2013
اس سے قبل بھی کالعدم پیپلز امن کمیٹی اور کچھی رابطہ کمیٹی کے درمیان لڑائی کے باعث ہزاروں خاندان لیاری چھوڑ کر ٹھٹھہ اور بدین پہنچ گئے تھے۔ فوٹو؛فائل

منی پاکستان کے شورش زدہ اور گینگ وار سے نڈھال علاقے لیاری میں قتل وغارت اورلاقانونیت کے باعث ایک بار پھر بڑے پیمانے پر مکینوں کی نقل مکانی شروع ہوگئی ہے اور ان کے خالی ہونے والے گھروں پر گینگ وار کے دو برسرپیکار گروپوں کی طرف سے قبضہ گیری کے ظالمانہ عمل نے خوف وہراس کی ہولناک صورتحال پیدا کی ہے،ایک مبصر کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں بدامنی کا ایک گہرا عکس لیاری کی وارداتوں میں بھی واضح نظر آتا ہے، کوئٹہ میں دھماکا سے گھر تباہ اور خاتون سمیت 2 افراد زخمی ہوگئے جب کہ تخریب کاری کے لیے بم بنائے جارہے ہیں۔یہی حکمت عملی گینگ وار کے کارندوں کی ہے ۔

لیاری سے رات گئے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امن قائم کرنے کے لیے علاقے کے رہائشی شیخ الحدیث مولانا یوسف اشفانی کی سربراہی میں بزرگوں نے گینگ وار کے دونوں گروپوں سے ملاقات کرکے ان کی آپس میں دوستی کرانے کی بات چیت کی ، مفاہمت کے لیے ایک گروپ تو تیار تھا تاہم دوسرے گروپ نے کڑی شرطیں رکھی ہیں ۔ادھر کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران 96 ملزمان گرفتار اور اور ان کے قبضے سے بھاری اسلحہ برآمد کیا گیا۔تاہم خطرناک ٹارگٹ کلرز ابھی سزا کے منتظر ہی ہیں جب کہ قانون نافذکرنے والے ادارے بھی لیاری میں فیصلہ کن کارروائی کے لیے سوچ بچار میں مصروف ہیں ۔

نئی حکمت عملی طے کر لی جس کے تحت گینگ وار کے ملزمان کو3کیٹیگریزمیں تقسیم کیا گیا، پہلی کیٹیگری میں شامل ملزمان کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، بی کیٹیگری میں شامل ملزمان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جائے تاہم وہ مزاحمت کرنے پر کسی رعایت کے بغیر گولی مار دی جائے گی، سی کیٹیگری میں شامل ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کی گرفت میں لایا جائے ، بی کیٹیگری میں ان عناصر کوشامل کیا گیا ہے جو سیاسی اورمذہبی جماعتیں چھوڑ کر گینگ وار کے ساتھ شامل ہوئے ہیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے گینگ وار میں شامل اپنے مخبروں کے بچانے کے لیے سرگرم ہو گئے ۔ان تمام حقائق کے باوجود ایک تلخ حقیقت سب پر بھاری ہے اور وہ یہ ہے کہ لیاری میں گینگ وارکو بالکل فلمی اور ڈرامائی شکل دی جانے لگی ہے اور ایک سوپ اوپیرا کے طور پر وارداتوں کا تسلسل بہیمانہ طریقے سے جاری ہے۔

بظاہر دو سلطانہ ڈاکوؤں اور رابن ہڈوں کی لڑائی میں 15 لاکھ کی محنت کش اور پرامن بستی کا سماجی، سیاسی اور معاشی قتل عام ہورہا ہے ۔ واضح رہے اتوار کودو روزہ عالمی کانفرنس کے آخری سیشن میں مقررین نے کہا ہے کہ لیاری کو پیچیدہ صورتحال کا سامنا ہے، اور اس کے جرائم پیشہ افراد '' جادوئی طاقت'' رکھتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ لیاری ریاست کے اندر ایک ریاست ہے جو نہ صرف ریسرچرز بلکہ پالیسی میکرز کے لیے بھی پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔بعض مقررین نے لیاری میں نسلی تشدد، ریاست کے انحطاط پزیرکردار اور گینگ وارکی غیر انسانی وارداتوں اور ارباب اختیار کی بے حسی پر اظہار خیال کیا۔

سپریم کورٹ نے تین روز قبل کراچی بدامنی کیس کی سماعت کرتے ہوئے پولیس، رینجرز سمیت تمام اہم ساحلی محافظین،کسٹم ،نارکوٹکس افسران کو ہدایت کی کہ وہ منشیات اور اسلحے کے کاروبار میں ملوث عناصر کی سرکوبی کریں ، اسلحے کی بازیابی کے لیے چاہے کرفیو لگانا پرے اس سے بھی گریز نہ کیا جائے، ورنہ کراچی سب کو خدا حافظ کہہ دیگا ۔ یہ انتباہ چشم کشا ہے اور قبل اس کے کہ منی پاکستان دوسرا وزیرستان اور بلوچستان بن جائے قانون شکن گروپوں کو کچلنے میں دیر نہ لگائی جائے۔