ایف بی آرکا آئی پی پیز کو ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ سے انکار

ٹیکس واجبات کی ریکوری کے لیے نجی پاورکمپنیوں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے


Irshad Ansari November 05, 2013
کمپنیوں کے ملاقات کیلیے وقت مانگنے پرفیلڈفارمیشنزسے فرمزکاریکارڈ طلب کرلیا،ذرائع فوٹو: فائل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے نجی بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (آئی پی پیز)کو اربوں روپے کی ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔

ایف بی آر کے سینئر افسر نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کی ایڈوائزری کمیٹی کی طرف سے ایف بی آر کو دو مرتبہ لیٹر لکھ کردرخواست کی گئی کہ نجی پاور کمپنیوں کو ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی اجازت دی جائے، اربوں روپے کی ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ نہ ملنے سے آئی پی پیز کو مالی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے آئی پی پیز کو ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ دینے کے بجائے انہیں شوکاز نوٹس جاری کر کے ریکارڈ طلب کرلیا ہے تاکہ ان کے ذمے ٹیکس واجبات کی ریکوری کی جا سکے۔



ذرائع نے بتایا کہ شوکاز نوٹس جاری کیے جانے کے بعد آئی پی پیز ایڈوائزری کمیٹی نے ایف بی آر کو دوبارہ لیٹر لکھا ہے کہ ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا مسئلہ حل کرنے کے بجائے آئی پی پیز کو شوکاز نوٹس جاری کیے جارہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ایڈوائزری کمیٹی نے لیٹر میں ایف بی آر حکام سے ملاقات کے لیے وقت مانگا ہے تاکہ انھیں صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے آئی پی پیز ایڈوائزری کمیٹی کو فوری طور پر ملاقات کا وقت دینے کے بجائے متعلقہ فیلڈ فارمشنز سے آئی پی پیز کے بارے میں تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے اور فیلڈ فارمشنز کو ایک لیٹر لکھا ہے کہ آئی پی پیز کے ٹیکس گوشواروں کی تمام تر تفصیلات فراہم کی جائیں اور بتایا جائے کہ کس آئی پی پی نے کتنا ٹیکس جمع کرایا ہے، واجبات کی بھی تفصیلات دی جائیں۔