جعلی اسمبلی سے آرمی ایکٹ کی منظوری کی اجازت نہیں دے سکتے فضل الرحمان

(ن) لیگ نے آرمی ایکٹ پر اپوزیشن کو اکٹھا کرنے کے بجائے یکطرفہ فیصلہ کردیا، فضل الرحمان


ویب ڈیسک January 04, 2020
(ن) لیگ نے آرمی ایکٹ پر اپوزیشن کو اکٹھا کرنے کے بجائے یکطرفہ فیصلہ کردیا، فضل الرحمان (فوٹو: فائل)

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جعلی اسمبلی سے قومی اہمیت کے حامل ایکٹ کی منظوری کی اجازت نہیں دے سکتے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں آرمی چیف کی مدت ملازمت کے حوالے سے قانون میں ترمیم کو دو پہلووٴں سے دیکھا گیا، ایک تو ایکٹ کا مسودہ اور مندرجات کو دیکھا گیا اور دوسرا جعلی اسمبلی سے ایسے ایکٹ کی منظوری کے حق کا جائزہ لیا گیا، جے یو آئی کی پارلیمانی پارٹی نے جو فیصلہ کیا تھا مرکزی مجلس عاملہ نے اس کی توثیق کردی ہے، جعلی اسمبلی سے اس طرح کے قومی اہمیت کے حامل ایکٹ کی منظوری کی اجازت نہیں دے سکتے۔

یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی اور جے یو آئی کا آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی مخالفت کا اعلان

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کو اتنے اہم معاملے پر تمام اپوزیشن کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا چاہیے تھا، لیکن اس نے اس کے برعکس یکطرفہ فیصلہ کردیا، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) قواعد پر بحث کررہے ہیں حالانکہ یہ ایکٹ متفقہ مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتا، ہمارا موقف ہے اس کی مخالفت میں ووٹ دیں البتہ اس پر ابھی مزید مشاورت کررہے ہیں۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ نیب ترمیمی آرڈیننس پر بھی غور کیا گیا اور ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کے دعوے بے نقاب ہوچکے ہیں، نیب انتقامی ادارہ ہے جس کی اب تصدیق ہوچکی ہے۔