بلدیاتی انتخابات پر اتفاق رائے کی ضرورت

قرارداد کی حیثیت محض ایک اخلاقی پیغام کے سوا کچھ نہیں ہے۔


Editorial November 08, 2013
قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ پرائیوٹ پرنٹنگ پریس سے بیلٹ پیپر چھپوا کر بلدیاتی انتخابات کرائے گئے تو تسلیم نہیں کریں گے۔ فوٹو: فائل

NEW DELHI: بلدیاتی انتخابات ملتوی کرانے کے لیے حکومت اور اپوزیشن جماعتیں متحد ہو گئیں ، جمعرات کوانتخابات کے التوا کے لیے قومی اسمبلی سے متفقہ قرارداد منظور کرا لی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے دی گئی تاریخوں پر بلدیاتی انتخابات مشکل ہیں، سارا عمل تیزی سے مکمل کیا گیا تو انتخابات غیر شفاف ہوںگے، عجلت کا عمل نتائج پر اثر انداز ہوگا، بلدیاتی انتخاب کے انعقاد کے لیے مناسب وقت دیا جائے، اس سلسلے میں سپریم کورٹ معاونت کرے۔ سیاسی جماعتوں نے یہ استدلال اختیار کیا ہے کہ عجلت میں انتخابات منعقد کیے گئے تو پاکستان کا (خدانخواستہ) بیڑا غرق ہوجائیگا ۔الیکشن کے امکانی التوا یا طے شدہ شیڈول کی ہر قیمت پر پابندی کافیصلہ تو بہر حال وفاقی و صوبائی حکومتیں، عدلیہ اور الیکشن کمیشن ہی نے کرنا ہے تاکہ قوم کو اس بات کا یقین دلایا جاسکے کہ جمہوری حکومتیں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے گریز کی کسی نفسیاتی الجھن میں مبتلا نہیں ، تاہم پوری دنیا میں بلدیاتی الیکشن جمہوری عمل میں معاونت کرتے ہیں، گراس روٹ لیول پر قیادت کی تربیت اور اس کی اہم نرسری ہونے کا تشکیلی ادارہ ثابت ہوتے ہیں۔

جمہوری رویے بلدیاتی انتخابات کی کھیتی سے نمو پاتے ہیں اور مقامی شناخت رکھنے والے بے لوث رہنمائوں کو ان کے اپنے حلقہ انتخاب کے روزمرہ کے مسائل کے حل میں اختیارات کی نچلی سطح سے استفادہ کرنے کا ایک عملی میدان میسر ہوتا ہے جہاں وہ سماج کو ابتدائی سطح پر تبدیلیوں سے دوچار کرسکتے ہیں۔ مگر یہاں صورتحال یہ ہے کہ حکمراں اور اپوزیشن دونوں کا خیال ہے کہ الیکشن ملتوی ہوں اور نئے سال کی پہلی سہ ماہی میں ان کے انعقاد کا سوچا جائے۔یوں ہنگامی بلدیاتی الیکشن سے گریز یا اس کی تپش سے بچنے کے لیے اس منطق کا مشترکہ سہارا لینا کہ اس سے ملکی سالمیت متاثر ہوگی اس حقیقت کو نشان زد کرتا ہے کہ قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن نے اپنے موقف کے حوالے سے ایک ٹوٹل شو ڈائون کیا ہے اور گیند سپریم کورٹ،الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت کی کورٹ میں پھینک دی ہے ۔

قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ پرائیوٹ پرنٹنگ پریس سے بیلٹ پیپر چھپوا کر بلدیاتی انتخابات کرائے گئے تو تسلیم نہیں کریں گے۔ بیلٹ پیپرز کی چھپائی سے وفاق کا انکار سمجھ سے بالاتر ہے، وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ حکومت بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے معاملے میں نہیں پڑنا چاہتی لہٰذا الیکشن کمیشن خود اس معاملے کو حل کرے۔ انھوں نے کہا 50 کروڑ بیلٹ پیپرز کی چھپائی 2 دن میں تو کیا 20 سے 25 دن میں بھی ممکن نہیں، لاہور ہائیکورٹ کی طرف سے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرانے کے فیصلے کی خوشی میں تحریک انصاف نے بھرپور جشن منایا اور کارکنوں نے مٹھائیاں تقسیم کیں ۔

ادھر سینئر وکلاء اورآئینی ماہرین نے بلدیاتی انتخابات کے التواء کی قومی اسمبلی میں منظورکردہ قراردادکے آئینی وقانونی پہلوئوں کے حوالے سے ایکسپریس سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کی قراردادسپریم کورٹ کے حکم کو غیر موثر نہیں کرسکتی، قرارداد کی حیثیت محض ایک اخلاقی پیغام کے سوا کچھ نہیں ہے۔ حکومت سندھ نے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ میں تبدیلی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کافیصلہ کیا ہے جب کہ ن لیگ کے رہنما طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اگر بلدیاتی الیکشن متنازع ہوئے تو پھر عدلیہ پر بھی اعتراض اٹھے گا۔بہر کیف امید کی جانی چاہیے کہ بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کو سیاسی انا کا اجتماعی مسئلہ بنائے بغیر آئین کی روح کے مطابق اس کے انعقاد پر اتفاق رائے کی جمہوی رٹ کا مظاہرہ کیا جائے گا۔اسی میں ملک کا مفاد ہے۔