ہفتہ رفتہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے اثرات روئی کی قیمتوں میں اضافہ

ملک کے بیشتر حصوں میں روئی کی قیمتیں دوبارہ 6ہزار 600 سے 6 ہزار50 6روپے،اسپاٹ ریٹ 6 ہزار 400 روپے من تک پہنچ گئے


Ehtisham Mufti November 11, 2013
ٹیکسٹائل ملز مالکان کی جانب سے خریداری رجحان میں اضافے کے باعث رواں ہفتے قیمتوں میں مزید تیزی کا امکان ہے، احسان الحق۔ فوٹو: فائل

عالمی سطح پرکپاس کی ابتدائی تخمینوں سے کم پیداواراورکھپت میں اضافے کے حوالے سے یونائٹیڈاسٹیٹس ڈپارٹمنٹ آف ایگریکلچرل (یوایس ڈی اے) کی جاری کردہ رپورٹ کے علاوہ یورپین یونین کی جانب سے پاکستان کوجی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے فیصلے کے بعد پاکستان میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان غالب ہونے سے اس بات کی توقع ہوگئی ہے کہ رواں ہفتے کی دوران دنیا بھر میں روئی کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان جاری رہے گا۔

پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے "ایکسپریس"کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے یورپی یونین نے کثرت رائے سے پاکستا ن کو جی ایس پی پلس اسٹیٹس دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد پاکستان سے یورپی یونین کو برآمد ہونے والی بیشترکاٹن پروڈکٹس پر 8فیصد ڈیوٹی اور 3فیصد ٹیکس ختم ہونے کے بعد توقع ہے کہ پاکستان میں روئی کی کھپت میں کم از کم 15لاکھ بیلز کااضافہ اور ایک بلین ڈالر کی مزید کاٹن ایکسپورٹس ہونگی تاہم یورپی یونین 6دسمبر کو ہونے والے ایک اور اہم اجلاس میں اس کی حتمی منظوری دیگی جس کے بعد جنوری 2014 سے پاکستان سے یورپی یونین کوجی ایس پی پلس اسٹیٹس کے تحت برآمدات شروع ہوجائینگی جو آئندہ 3سے 5سال تک جاری رہنے کاامکان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کی دوران یو ایس ڈی اے کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق 2013-14 کے دوران دنیا بھر میں کپاس کی پیداوار 117.22ملین بیلز (480پائونڈ) ہوگی جو پہلے تخمینوں کے مقابلے میں 2لاکھ بیلز کم ہیں جب کہ یو ایس ڈی اے کی رپورٹ میں 2013-14 کے دوران روئی کی کھپت کااندازہ 109.63ملین بیلز لگایا گیا ہے جو پہلے تخمینوں کے مقابلے میں 1لاکھ بیلز زیادہ ہیں۔



مذکورہ رپورٹ میں امریکا اور برازیل میں کپاس کی پیداوار میں پہلے تخمینوں کے مقابلے میں اضافہ جبکہ چین کی کپاس کی پیداوار میں کمی بارے رپورٹس جاری کی گئیں ہیں۔ یو ایس ڈی اے کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ کی اہم ترین بات بھارت میں 2013-14 کے روئی کے اوپننگ اسٹاکس میں 19لاکھ 25ہزار بیلز کا اضافہ ہے جو رپورٹ کے مطابق 2006-07ء سے 2012-13 کے دوران بھارتی حکام کی جانب سے کپاس کی ملکی پیداوار بارے غلط اعداد و شمار جاری کیا جانا ہے جس کے باعث یو ایس ڈی اے حکام کو بھارت کے روئی کے اوپننگ اسٹاکس میں اضافہ کرنا پڑا ہے۔ یاد رہے کہ مذکورہ یو ایس ڈی اے کو دو ماہ بعد جاری کی گئی ہے کیونکہ اکتوبر میں امریکا میں جاری شٹ ڈائون بحران کے باعث مذکورہ رپورٹ جاری نہیں کی گئی تھی جو امریکا کی 147سالہ تاریخ میں پہلی بار جاری نہیں کی جاسکی تھی۔ احسان الحق نے بتایا کہ چینی حکام کی جانب سے روئی کے نیشنل ریزرو زمیں سے روئی فروخت کرنے کی اطلاعات بھی گردش کررہی ہیں اور اگر اطلاعات کے مطابق چینی حکام نے اپنے روئی کے نیشنل ریزروز میں سے روئی کی فروخت شروع کردی تو اس سے روئی کی عالمی منڈیوں میں روئی کی قیمتوں میں مندی کا رجحان سامنے آسکتا ہے۔

یاد رہے کہ چائنا کے نیشنل ریزروز میں اس وقت روئی کے 10ملین ٹن سے زائد کے ریزروز موجود ہیں جو 31جولائی تک 12.67ملین ٹن تک پہنچ جائینگے۔ انہوں نے بتایاکہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیو یارک کاٹن ایکسچینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے 0.15سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ 5 85.0سینٹ فی پائونڈ تک جب کہ دسمبر ڈلیوری روئی کے سودے 0.30 سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ 76.88سینٹ فی پائونڈ تک پہنچ گئے جب کہ چائنہ میں دسمبر ڈلیوری روئی کے سودے 190یوآن فی ٹن اضافے کے ساتھ 20ہزار 195 یوآن ف ٹن تک پہنچ گئے جب کہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ 150روپے فی من کمی کے بعد 6 ہزار 4سو روپے فی من تک پہنچ گئے جب کہ ملک کے بیشتر حصوں میں روئی کی قیمتیں جو گزشتہ ہفتے کے اوائل میں 6ہزار 4سو روپے فی من تک گر گئیں تھیں دوبارہ 6ہزار 600 سے 6ہزار50 6روپے فی من تک پہنچ گئیں اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ ٹیکسٹائل ملز مالکان کی جانب سے روئی خریداری رجحان میں اضافے کے باعث رواں ہفتے کے دوران روئی کی قیمتوں میں مزید تیزی متوقع ہے۔

مقبول خبریں