حکومت مداخلت شروع جامعات اور تعلیمی بورڈ میں بھرتیوں پر پابندی لگادی گئی

ہزاروں ملازم بے چینی کا شکار،سکھر بورڈ میں ناظم امتحانات کی تبدیلی کی کوششیں۔


Safdar Rizvi November 11, 2013
تعلیمی بورڈز اور جامعات کے امور چلانا مشکل ہوگئے،ہزاروں ملازم بے چینی کا شکار،سکھر بورڈ میں ناظم امتحانات کی تبدیلی کی کوششیں. فوٹو فائل

کنٹرولنگ اتھارٹی کی تبدیلی کے بعد سندھ حکومت نے صوبے کے تعلیمی بورڈز اور سرکاری جامعات کی خودمختار حیثیت میں مداخلت شروع کردی۔

پہلے مرحلے میں حکم نامے کے ذریعے سرکاری جامعات اور کراچی سمیت سندھ کے تمام تعلیمی بورڈز میں بھرتیوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے، بورڈزکے قانون کے برخلاف ملازمین کی ایک سے دوسرے بورڈ میں تبادلوں کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں، حکام کو اعتماد میں لیے بغیر وزیراعلیٰ ہائوس کے اسپیشل سیکریٹری ریاض میمن تعلیمی بورڈ سکھر کے ناظم امتحانات کو تبدیل کرکے من پسند شخص کی ناظم امتحانات تعیناتی کے لیے دبائو ڈال رہے ہیں، معلوم ہوا ہے کہ سندھ کے تعلیمی بورڈز اور جامعات کے معاملات کے ذمے دار وزیراعلیٰ ہائوس کے اسپیشل سیکریٹری ریاض میمن نے تعلیمی بورڈ اور جامعات کے انتظامی امور میں مداخلت شروع کردی ہے جس سے خود مختار حیثیت کے حامل تعلیمی بورڈز اور جامعات کے انتظامی امور چلانے میں مشکلات ہورہی ہے جبکہ تعلیمی بورڈزکے ہزاروں ملازمین میں بے چینی پائی جاتی ہے۔



اسپیشل سیکریٹری ریاض میمن کے حکم پر ڈپٹی سیکریٹری شفیع الدین نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں سروس جنرل اینڈ ایڈمنسٹریشن کوآرڈی نیشن ڈپارٹمنٹ کے رواں سال 4 جون کے جاری کردہ حکم نامے کاحوالہ دیتے ہوئے سندھ کے تمام سرکاری تعلیمی بورڈزاورسرکاری جامعات میں تقرریوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے، واضح رہے کہ تعلیمی بورڈز اور سرکاری جامعات کے منظور شدہ ایکٹ کے تحت بورڈز اور جامعات خودمختارادارے ہیں جہاں گریڈایک سے 15تک تقرریوں کااختیار متعلقہ ادارے کی ''تقرری کمیٹی''جبکہ گریڈ16اوراس سے اوپر تقرریوں کا اختیار بورڈز میں ''بورڈآف گورنرز''جبکہ جامعات میں ''سینڈیکیٹ ''کے پاس ہے جبکہ تبادلوں کااختیار بھی ایکٹ کے تحت انہی آئینی اداروں کوحاصل ہے۔

دوسری جانب ایک سے دوسرے بورڈمیں ملازمین کے تبادلوں کی تیاریاں کی جارہی ہیں جبکہ یہ تبادلے محض ڈپوٹیشن کے ذریعے ہی ممکن ہے جس پر سپریم کورٹ کی جانب سے پابندی عائد ہے ،حکومت سندھ کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا ہے کہ اسپیشل سیکریٹری ریاض میمن کے مذکورہ اقدامات سے حکومت سندھ لاعلم ہے ، جاری کیے گئے حکم نامے (نوٹیفیکیشن) میں اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈکراچی، ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی، ثانوی واعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈحیدرآباد،،ثانوی واعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈلاڑکانہ،،ثانوی واعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈسکھر،،ثانوی واعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈمیرپورخاص کے علاوہ سرکاری جامعات میں سندھ یونیورسٹی جامشورو،جامعہ کراچی، این ای ڈی یونیورسٹی، ڈائویونیورسٹی،مہران یونیورسٹی ،لیاقت میڈیکل یونیورسٹی،سندھ زرعی یونیورسٹی،قائدعوام یونیورسٹی، شاہ عبدالطیف یونیورسٹی، شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ،بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری،پیپلز یونیورسٹی بینظیرآباد، سندھ مدرسۃ الاسلام،دائودانجینئرنگ یونیورسٹی،شہید بینظیربھٹویونیورسٹی سکرنڈ،آئی بی اے کراچی اورآئی بی اے سکھرمیں تقرریوں پرپابندی عائد کردی گئی ہے۔

مقبول خبریں