آگاہی اور حفاظتی اقدامات ذیابیطس سے نمٹنے کا اہم طریقہ ہیںماہرین

خون میں شکر کی مقدار کی نگرانی سے ذیابیطس سے محفوظ رہا جا سکتا ہے،آغاخان اسپتال میں منعقدہ سیمینار سے خطاب


Staff Reporter November 11, 2013
پری ڈایابیٹیز ایسا مرحلہ ہے جس میں خون میں موجود شکر کی مقدار معمول سے زیادہ لیکن خطرے کی حد سے کم ہوتی ہے۔ فوٹو: فائل

NEW DELHI: آغا خان یونیورسٹی اسپتال کے تحت منعقدہ سیمینار سے خطاب میں ماہرین نے کہاہے کہ دنیا بھر میں ذیابیطس کے ہر5 میں سے 4 مریضوں کا تعلق درمیانے اور کم آمدنی والے ممالک سے ہے اور ان میں سے نصف تعداد اپنے مرض سے بے خبر ہے۔

آگاہی اور حفاظتی اقدامات ذیابیطس سے نمٹنے کا سب سے اہم طریقہ ہیں، خون میں شکر کی مقدار جانچنے کا ٹیسٹ ذیابیطس کی بڑھتی ہوئی شرح کو روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ذیابیطس کے خطرے کا شکار10فیصد سے زائد افراد کو امکانات ظاہر ہونے کے 3 سال کے اندریہ مرض لاحق ہو جاتا ہے، ماہرین نے بتایا کہ اگر مرض کے آغاز سے قبل خون میں شکر کی مقدار کا باقاعدگی سے معائنہ کرایا جائے تو مرض کی شرح میں تقریباً58فیصد کمی واقع ہو سکتی ہے، اے کے یو کے سیکشن آف اینڈو کرائنولوجی کے سربراہ اور کنسلٹنٹ اینڈو کرائنولوجسٹ ڈاکٹر جاوید اختر نے اس موقع پر کہا کہ پری ڈایابیٹیز ایک ایسا مرحلہ ہے جس میں خون میں موجود شکر کی مقدار معمول سے زیادہ لیکن خطرے کی حد سے کم ہوتی ہے اور اسے ذیابیطس نہیں کہا جا سکتا تاہم متوازن خوراک اور باقاعدگی سے ورزش کرکے اسے ذیابیطس میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔



ڈاکٹر جاوید نے مزید کہاکہ ہر سال پاکستان میں تقریباًایک لاکھ20ہزار افراد ذیابیطس کی وجہ سے ہلاک جبکہ بے شمار معذور ہو جاتے ہیں، تحقیقی مقالات سے ظاہر ہوا ہے کہ خون میں شکر کی مقدار پر قابو پانے جیسے معمولی اقدامات کے ذریعے ذیابیطس کی پیچیدگیوں میں خاطر خواہ کمی کی جا سکتی ہے، ذیابیطس ہو جانے کے بعد لبلبے کی انسولین پیدا کرنے کی صلاحیت میں کمی آ جاتی ہے جس کی وجہ سے مرض کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے، اگر خون میں شکر کی مقدار پر قابو نہ پایا جائے تو مرض سے وابستہ پیچیدگیوں میں اضافہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے آنکھیں، گردے، اعصاب، خون کی روانی اور دل کے افعال متاثر ہوتے ہیں، بد قسمتی سے ذیابیطس سے وابستہ پیچیدگیوں کے باعث ہلاک ہونے والوں میں تقریباً نصف تعداد60سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہوتی ہے، اے کے یو کی کنسلٹنٹ اینڈو کرائنولوجسٹ ڈاکٹر اسما احمد نے کہا خطرے سے جلد آگاہ ہونے کیلیے فربہ افراد کو پری ڈایابیٹیز جانچ لازمی کرانی چاہیے خصوصاً اگر وہ ہائی بلڈ پریشر یا ہائی ٹرائی گلیسرائڈز کا شکار ہوں یا ان کے خاندان کے دیگر افراد کو ذیابیطس رہی ہو۔

پروفیسر نجم الاسلام نے اس موقعے پر ذیابیطس کے علاج کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ فشارخون، خون میں شکر اور کولیسٹرول کی سطح پر قابو پانے کے معیاری طریقوں پر عمل کر کے ذیابیطس سے وابستہ پیچیدگیوں کو نہ صرف کم کیا جا سکتا ہے بلکہ ان سے مکمل بچائو بھی ممکن ہے، پیچیدگیوں کی بر وقت نشاندہی اس حوالے سے بے حد اہم ہے ذیابیطس سے بچائو کی حکمت عملی کا سب سے اہم پہلو اچھی غذائی عادات اپنانا ہے، اے کے یو ایچ کی کلینیکل نیوٹریشنسٹ موتی خان نے کہاکہ متوازن خوراک استعمال کرنے سے بیشتر مریضو ں کے خو ن میں شکر کی سطح اور مٹاپے کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے، ماہرین کے پینل نے علاج اور تحفظ کے طریقوں پر بات کرتے ہوئے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ یہ مرض معاشرے کے تمام طبقوں کو متاثر کر رہا ہے، سیمینار کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن ہوا۔