کنٹینرزٹرمینلزپرکل سے وی باکس مکمل نافذہوجائیگا

پی آئی سی ٹی اور کے آئی سی ٹی پرون کسٹم سے برآمدکیلیے کلیئرنس روک دی جائیگی.


Irshad Ansari September 04, 2012
پی آئی سی ٹی اور کے آئی سی ٹی پرون کسٹم سے برآمدکیلیے کلیئرنس روک دی جائیگی. فوٹو: پی پی آئی

KARACHI: فیڈرل بورڈ آف ریونیونے بدھ سے ون کسٹمز سسٹمز کے ذریعے پاکستان انٹرنیشنل کنٹینرز ٹرمینل اور کراچی انٹرنیشنل کنٹینرز ٹرمینل سے اشیا کی برآمد پر پابندی عائد کردی ہے۔

ایف بی آر کے ماتحت ادار ے ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ آف ایکسپورٹ کسٹمز ہائوس کراچی سے جاری کردہ لیٹر نمبر SI/MISC/14/2012/EXP(HQ) میں بتایا گیا ہے کہ ایف بی آر کی طرف سے 4جولائی کو جاری کردہ لیٹر C.NO.I(I)PS(MC)/2011 کے ذریعے کسٹمز کلیئرنس کے نئے سسٹم وی باکس کو بتدریج ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ (ایم سی سی) ایکسپورٹ کراچی میں متعارف کرانے کی منظوری دی جاچکی ہے اور اس فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلیے پاکستان انٹرنیشنل کنٹینرز ٹرمینل(پی آئی سی ٹی) اور کراچی انٹرنیشنل کنٹینرز ٹرمینل (کے آئی سی ٹی) سے ون کسٹمز سسٹم کے ذریعے اشیا کی برآمد پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق ملک بھر کے تمام برآمدکنندگان اوران کے کلیئرنگ ایجنٹس کو ہدایت کی گئی کہ پاکستان انٹرنیشنل کنٹینرز ٹرمینل اور کراچی انٹرنیشنل کنٹینرز ٹرمینل سے فل کنٹینر لوڈ کی کلیئرنس کیلیے گڈز ڈکلیئریشن وی باکس سسٹم کے ذریعے جمع کرائیں اور5 ستمبر کے بعد سے تمام برآمد کنندگان اورکلیئرنگ ایجنٹس پر ون کسٹمز سسٹم کے ذریعے پاکستان انٹرنیشنل کنٹینرز ٹرمینل اورکراچی انٹرنیشنل کنٹینرز ٹرمینل سے اشیا کی برآمد کیلیے کنٹینرز کی کلیئرنس روک دی جائے گی اور صرف وی باکس سسٹم کے ذریعے برآمدی اشیاکی کلیئرنس ہوسکے گی۔

لیٹر میں کہاگیا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل کنٹینرز ٹرمینل اور کراچی انٹرنیشنل کنٹینرز ٹرمینل پر کلیئرنس کیلیے موجود فل لوڈ کنٹینرز کو4 ستمبر کی رات 12بجے سے قبل ون کسٹمز سسٹم کے ذریعے کلیئرنس کیلیے مین گیٹ سے داخل ہونے کی اجازت ہو گی، اس کے بعدکوئی کنٹینر ون کسٹمزسسٹم سے کلیئرنس کیلیے مین گیٹ سے داخل نہیں ہوسکے گا اورصرف وی باکس سسٹمزکے ذریعے کنٹینرز کی کلیئرنس ہو گی۔ دستاویز میں بتایاگیا ہے کہ ایم سی سی ایکسپورٹ سے مشرقی و مغربی واروزکی حدود میںواقع ڈاک ٹرمینل اور یارڈزسے فل کنٹینر لوڈ اورکم کنٹینرلوڈ کی فائل کردہ گڈز ڈکلیئریشن کی ون کسٹمز سسٹم کے ذریعے کلیئرنس وقتی طور پر جاری رہے گی۔

دستاویز میں ٹرمینل آپریٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 5 ستمبر کے بعدسے ون کسٹمز سسٹم کے ذریعے فل کنٹینر لوڈ کی شپمنٹس کی کلیئرنس نہ کریں اور ایم سی سی ایکسپورٹ کراچی کی طرف سے پاکستان انٹرنیشنل کنٹینرز ٹرمینل اورکراچی انٹرنیشنل کنٹینرز ٹرمینل پر تمام فل کنٹینر لوڈ ایکسپورٹ کارگو وی باکس کے ذریعے ہینڈل کریں اور تمام ایکسپورٹ کارگو کی وی باکس کے ذریعے کلیئرنس پر ایف بی آر کے 18 جولائی 2001 کے جاری کردہ ایس آر او نمبر 450(I)/2001 کے تحت جاری ہونیو الے کسٹمز رُولز کے چیپٹر 21 کا مکمل اطلاق ہوگا۔

دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسی طرح تمام شپنگ ایجنٹس کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ 5 ستمبر2012سے پاکستان انٹرنیشنل کنٹینرز ٹرمینل اورکراچی انٹرنیشنل کنٹینرزٹرمینل سے متعلقہ ایم سی سی ایکسپورٹ کراچی کے ذریعے فل کنٹینر لوڈ ایکسپورٹ کارگوکے حوالے سے برآمدی اشیا کی فہرست وی باکس کے ذریعے جمع کرائیں۔ دستاویز کے مطابق اگر وی باکس کے ذریعے گڈز ڈکلیئریشن جمع کرانے یا برآمدی اشیاکی فہرست جمع کرانے میں کوئی مشکلات درپیش ہوںتو اس بارے میں وی باکس پراجیکٹ آفس سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں