وفاق سے ذمے داری صوبوں کو منتقل کرنے پر خسارہ بھاری قرضے لینا پڑے

افراط زر کی شرح بھی بڑھ گئی،نجی سرمایہ کاری نکل گئی،وفاقی حکومت کے اخراجات میںصرف جی ڈی پی کا0.4 فیصد کمی ہوئی


Irshad Ansari November 11, 2013
افراط زر کی شرح بھی بڑھ گئی،نجی سرمایہ کاری نکل گئی،وفاقی حکومت کے اخراجات میںصرف جی ڈی پی کا0.4 فیصد کمی ہوئی. فوٹو فائل

وفاقی حکومت نے انکشاف کیاہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے تحت وفاقی ذمے داریاں صوبوں کو منتقل کرنے سے مالیاتی خسارے میں جی ڈی پی کے ایک فیصدکے برابراضافہ ہواہے جسے پوراکرنے کیلیے حکومت کو بینکوں سے بھاری قرضے لیناپڑے ہیں جس سے افراط زرکی شرح میں اضافہ،نجی سرمایہ کاری نکل گئی اورپاکستان کے قرضے ناسازگارہوگئے جبکہ اس کے برعکس وفاقی حکومت کے اخراجات میں صرف جی ڈی پی کے 0.4 فیصد کے برابرکمی واقع ہوئی ہے۔

تاہم وفاقی حکومت نے ملک کے موجودہ مجموعی مالیاتی خسارے کوناپائیدارقراردیاہے اورکہاہے کہ ملک کے مجموعی مالیاتی خسارے کوپائیدارسطح پرلانے کیلیے ملک کی چاروں صوبائی حکومتوںکی طرف سے فوری طورپراقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔اس ضمن میں''ایکسپریس،،کودستیاب دستاویزکے مطابق یہ انکشاف وزارت خزانہ کے ایکسٹرنل فنانس پالیسی ونگ کی طرف سے تیارکردہ ورکنگ پیپرمیںکیاگیاہے ''ایکسپریس،،کودستیاب مذکورہ ورکنگ پیپرکی کاپی کے مطابق ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاقی قابل تقسیم محاصل کے پُول میں جمع ہونیوالے ٹیکسوںکا57.5 فیصد حصہ صوبوںکوفراہم کیاجارہاہے جس سے سماجی خدمات کے شعبے میں مسلسل جاری انڈرفنانسنگ کودرست کرنے میں مددملی ہے جس کے نتیجے میں صوبوںکی طرف سے مالی سال 2010-11 میں تعلیم اورصحت کے شعبے کیلیے اخراجات کو بڑھا کرجی ڈی پی کے 1.9فیصد اور مالی سال2012-13 میںمزیدبڑھاکرجی ڈی پی کے 2.4 فیصد کے برابرکیالیکن صوبوں کی طرف سے صحت اورتعلیم کے شعبے کے اخراجات میںکیاجانے والااضافہ ترقیاتی اخراجات کی مد میں خرچ نہیں ہوسکا اورآفس اینڈمینجمنٹ کے اہم غیرمعمولی اخراجات اسی طرح جاری رہے مذکورہ ورکنگ پیپر میں کہا گیا ہے کہ 18 ویں آئنی ترمیم کے تحت کچھ وفاقی ذمے داریہ صوبوں کو منتقل کرنے سے مالی سال 2011-12 کے دوران وفاقی حکومت کے اخراجات میں جی ڈی پی کے صرف 0.4 فیصدکے برابرکمی واقع ہوئی جبکہ اس کے برعکس صرف مالی سال 2011-12 کے دوران وفاقی حکومت کے مالیاتی خسارے میںجی ڈی پی کے ایک فیصدکے برابراضافہ ہواہے۔



دستاویزمیں مزید بتایا گیا ہے کہ وفاقی اورصوبائی حکومتوںکے مالیاتی خسارے پرمشتمل ملک کے مجموعی مالیاتی خسارے میں بھی اضافہ ہواہے دستاویزمیںکہاگیاہے کہ18ویںآئنی ترمیم کے تحت کچھ وفاقی ذمے داریہ صوبوں کومنتقل کرنے سے ممکنہ نتائج کاملکی معیشت اورملک کے مالیاتی خسارے وقرضے میںبہتری کاجوخاکہ تیار کیا گیا ہے وہ حاصل نہیںہوسکابلکہ اس مسائل پیداہوئے ہیںدستاویزمیںکہاگیاہے کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے تحت کچھ وفاقی ذمے داریہ صوبوںکومنتقل کرنے سے مالیاتی خسارے میںجی ڈی پی کے ایک فیصدکے برابر اضافہ ہواہے جسے پوراکرنے کیلیے حکومت کوبینکوںسے بھاری قرضے لیناپڑے ہیںجس سے افراط زرکی شرح میںاضافہ ،نجی سرمایہ کاری نکل گئی اورپاکستان کے قرضے ناسازگارہوگئے جبکہ اس کے برعکس وفاقی حکومت کے اخراجات میںصرف جی ڈی پی کے 0.4 فیصدکے برابرکمی واقع ہوئی ہے تاہم وفاقی حکومت نے ملک ے موجودہ مجموعی مالیاتی خسارے کوناپائیدارقراردیاہے اورکہاہے کہ ملک کے مجموعی مالیاتی خسارے کوپائیدارسطح پرلانے کیلیے ملک کی چاروں صوبائی حکومتوںکی طرف سے فوری طورپراقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔