شادی سے قبل تھیلیسیمیاٹیسٹ کے قانون پر عملدرآمد نہ ہوسکا

ٹیسٹ رپورٹ نکاح نامے سے منسلک کی جائیگی،عملدرآمدنہ ہونے مرض پھیل سکتا


Staff Reporter November 15, 2013
سینیٹر عبدالحسیب نے تھیلیسیمیاٹیسٹ کو لازمی قرار دلوانے میں اہم کردار اداکیا فوٹو: فائل

سندھ ملک کا پہلا صوبہ ہے جہاں شادی سے قبل تھیلیسیمیاکے ٹیسٹ کو لازمی قراردیاگیا لیکن محکمہ صحت کی جانب سے اس قانون سازی کے باوجود شادی سے قبل ٹیسٹ کرانے کے عمل کو یقینی نہیں بنایاجاسکا۔

محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق تھیلیسیمیا کے قانون پر عملدرآمدکرانے کیلیے بعض تکنیکی مسائل کا سامنا ہے تاہم عملدرآمد کرانے کیلیے ماہرین پر مشتمل کمیٹی قائم کی جارہی ہے ،دوسری جانب تھیلیسیمیا کی قانون سازی پر عملدرآمد کرانے کیلیے محکمہ قانون سے بھی رجوع کرلیاگیا ہے ، محکمہ صحت کے افسر کے مطابق انسداد تھیلیسمیا بل اسمبلی سے منظوری کے بعد بعض تکنیکی مسائل کا شکار ہوگیا ۔



اس بل پر محکمہ صحت سمیت دیگر متعلقہ اداروں نے چپ ساد رکھی ہے، واضح رہے کہ صوبے میں پہلی بار انسداد تھیلیسمیا 2013کا بل منظورکیا گیا جس میں شادی سے قبل دولہا اوردلہن کے تھیلیسمیا کے ٹیسٹ کو لازمی قراردیدیاگیا نکاح نامے میں تھیلیسیمیاکے ٹیسٹ کا اندارج بھی ہوگا، اس بل میں سینیٹر عبدالحسیب خاں کی کاوشوں کی وجہ سے تیار کیاگیا تھا جس میں کہاگیا تھا کہ منظوری کے بعدشادی سے قبل ٹیسٹ کرانا لازمی ہوگااورٹیسٹ کی رپورٹ نکاح نامے کے ساتھ منسلک کرنا بھی لازمی ہوگی، لیکن قانون بننے کے باوجود بھی اس پر عملدرآمد نہیں کیاجارہی ہے۔