سری لنکن صدر کا برطانوی الزام پر اظہار برہمی

سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں جمعہ کے دن دولت مشترکہ کے ممالک کی سربراہ کانفرنس کا آغاز ہو گیا


Editorial November 16, 2013
برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ سری لنکا نے تامل ٹائیگرز کی تحریک کو کچلتے وقت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کیں اور جنگی جرائم کا ارتکاب کیا۔ فوٹو؛فائل

سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں جمعہ کے دن دولت مشترکہ کے ممالک کی سربراہ کانفرنس کا آغاز ہو گیا ہے۔ کانفرنس کا افتتاح برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس نے ملکہ برطانیہ الزبتھ ثانی کی نمائندگی کرتے ہوئے کیا جب کہ اس تین روزہ کانفرنس کی صدارت سری لنکا کے صدر مہندرا راجا پاکشے نے کی۔ کانفرنس کے باقاعدہ آغاز سے قبل برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے متنازعہ بیان نے دونوں ملکوں میں کسی حد تک تلخی پیدا کر دی۔ برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ سری لنکا نے تامل ٹائیگرز کی تحریک کو کچلتے وقت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کیں اور جنگی جرائم کا ارتکاب کیا۔ سری لنکا صدر نے اس بیان پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک کو اب نوآبادی نہ سمجھا جائے۔ انھوں نے کہا کہ وہ تنقید کرنے والوں سے کسی بات کو چھپانے کی خواہش نہیں رکھتے کیونکہ ان کی حکومت نے جرأت مندانہ اقدامات کرتے ہوئے دہشت گردی کے دیرینہ مسئلے پر نہایت کامیابی سے قابو پا لیا ہے اور اب ان کا ملک تعمیر و ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ کینیڈا' بھارت اور موریطانیہ نے اس سربراہ کانفرنس کا بائیکاٹ کر رکھا ہے، وہ تامل ٹائیگرز کے خلاف ہونے والے آپریشن کا ذمے دار سری لنکن صدر کو قرار دیتے ہیں۔ سری لنکن پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس کی فوج نے 37 سال کی خانہ جنگی میں چالیس ہزار سے زائد شہریوں کو ہلاک کیا۔ اس کے جواب میں صدر راجا پاکشے نے کہا کہ سری لنکا میں قانون کا ایک نظام موجود ہے۔ ہمارے پاس حقوق انسانی کا کمیشن بھی ہے اور اب دولت مشترکہ اسے مزید مضبوط کرنے کے لیے تیار ہے۔ سری لنکن صدر کا کہنا تھا کہ اگر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا کوئی الزام ثابت ہو گیا تو اس پر ایکشن لیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ کو دیرینہ تنازع حل کرنے پر سراہا جانا چاہیے۔

لوگوں کو 30 سال تک مارا جاتا رہا لیکن ہم نے اس قتل و غارت کو ختم کرا دیا۔ اس تنازع میں ایک لاکھ سے زائد انسانی جانیں تلف ہو چکی ہیں لیکن ہم پر الزام لگائے جا رہے ہیں حالانکہ ہم کسی کی نوآبادی نہیں ہیں بلکہ ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہیں۔ بلاشبہ سری لنکا ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے۔ یہاں تامل ٹائیگرز نے بھی بے گناہ انسانوں کو ہلاک کیا۔ سری لنکا کی حکومت کا فرض تھا کہ وہ ہتھیاروں کی زبان میں گفتگو کرنے والے باغی گروہ کے خلاف سخت کارروائی کرتی اور اس نے ایسا ہی کیا اور ملک میں جاری خانہ جنگی کا خاتمہ کیا۔ تاملوں کے اگر کوئی مطالبات تھے یا ہیں تو اس کا بہترین طریقہ سیاسی جدوجہد ہے۔ تامل ٹائیگرز نے تشدد کا جو طریقہ اختیار کیا، وہ درست نہیں تھا۔ برطانوی وزیراعظم کو کوئی بات کرنے سے پہلے اس حقیقت کو مدنظر رکھنا چاہیے تھا۔