صدر ٹرمپ کیخلاف مواخذے کی کارروائی ناکام

ریپبلکن ارکان کے گواہان کو سینیٹ میں بلانے کی مخالفت کے بعد مواخذے کی کارروائی علامتی رہ گئی


ویب ڈیسک February 01, 2020
امریکی ٹرمپ کے سر سے خطرے کی گھنٹی ٹل گئی، فوٹو : فائل

صدر ڈونلڈ ٹرمپ ریپبلکن پارٹی کے ارکان کی حمایت کی وجہ سے امریکی سینیٹ میں اپنے خلاف ہونے والی مواخذے کی کارروائی سے بچ نکلے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف گواہان بلانے کی مخالفت میں 51 ارکان کے ووٹ دینے کی وجہ سے مواخذے کی کارروائی عملی طور پر ناکام ہوگئی ہے۔ ریپبلکن کے 51 ارکان نے صدر ٹرمپ کے خلاف گواہان کو سینیٹ میں بلانے کے خلاف ووٹ دیا جب کہ ڈیموکریٹ کے 49 ارکان نے حق میں ووٹ دیا تھا۔

اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ نے صدر ٹرمپ کیخلاف مواخذے کی کارروائی غیر موثر ہونے کو کانگریس کی تاریخ کا سب سے بدترین واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ گواہان کی عدم موجودگی سے مواخذے کی کارروائی محض علامتی رہ جائے گی۔

یہ خبر پڑھیں: امریکی صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی کا آغاز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ محض دو ووٹوں کے فرق سے ایک بڑے مسئلے کی زد میں آنے سے بچ گئے ہیں لیکن اس حوالے سے ابھی کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہوگا، حتمی فیصلہ بدھ تک متوقع ہے جس میں مواخذے کی کارروائی کی تفصیلات بھی جاری کی جائیں گی۔

واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس میں تعینات سی آئی اے کے ایک افسر کے صدر ٹرمپ کا مخالف جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما جوئے بائیڈن کے خلاف بدعنوانی کی تفتیش کروانے کیلیے یوکرائن کے سربراہ پر دباؤ ڈالنے کے انکشاف کے بعد صدر ٹرمپ کیخلاف مواخذے کی کارروائی تین ماہ قبل شروع کی گئی تھی۔