نجی بجلی گھروں کو عدم ادائیگی پرمتعلقہ سیکریٹریوں کی طلبی

8پرائیویٹ بجلی گھروں کو ادائیگی کے حکم پر عمل نہیں ہوا، جسٹس ناصر الملک کے ریمارکس


Numainda Express September 04, 2012
8پرائیویٹ بجلی گھروں کو ادائیگی کے حکم پر عمل نہیں ہوا، جسٹس ناصر الملک کے ریمارکس عارف سومرو/ایکسپریس

سپریم کورٹ نے نجی شعبے میں قائم بجلی گھروں کو واجبات کی عدم ادائیگی پر وضاحت کے لیے سیکریٹری خزانہ اور سیکریٹری وزارت پانی وبجلی کو طلب کر لیا ہے۔

نجی شعبے میں قائم بجلی گھروں کو واجبات کی عدم ادائیگی سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے آبزرویشن دی ہے کہ 8 پرائیویٹ بجلی گھروں کو سابقہ اور موجودہ واجبات کی ادائیگی کا حکم دیا گیا تھا لیکن اس حکم پر عمل نہیں ہوا۔ جسٹس ناصرالملک اور جسٹس اعجاز احمد چوہدری پر مشتمل بینچ نے آئی پی پیز کے وکیل خا لد انور کی درخواست پر دونوں سیکریٹریوں کو نوٹس جاری کر دیا تاکہ اس بات کی وضاحت حاصل کی جاسکے کہ جب حکومت نے واجبات کی ادائیگی سے اتفاق کیا تھا تو پھر اس پر عمل کیوں نہیں ہوا۔

خالد انور نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے عدالت کے سامنے سابقہ واجبات میں سے 8 ارب روپے گزشتہ مہینے ادا کرنے اور 8 ارب روپے اس مہینے ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن یہ رقم تاحال نہیں مل سکی ہے۔ انھوں نے بتایا موجودہ واجبات کی ادائیگیاں بھی نہیں کی جارہی ہیں جس کی وجہ سے پیداوری یونٹوں کی پیداوار 50 فیصد رہ گئی ہے۔ اگر بروقت ادائیگیاں ہوں تو 100 فیصد پیداوار ممکن ہے۔ خالد انور کا کہنا تھا کہ بجلی کی عدم دستیابی کے باعث بیرونی سرمایہ کاری ختم ہوگئی ہے۔ ملک کو تجارت میں خسارے کا سامنا ہے اور صنعتیں بند ہو رہی ہیں۔

انھوں نے بتایا اگر ادائیگیاں ہوں تو یہ مشکل خود حل ہو جائے گی۔ وزارت پانی و بجلی کے وکیل نے بتایا کہ 8 ستمبر کو 8ارب روپے آئی پی پیز کو فراہم کر دیے جائیں گے تاہم وزارت خزانہ کے نمائندے نے بتایا کہ معاشی مشکلات کی وجہ سے ادائیگیوں میں 2 سے 3 ہفتے لگ سکتے ہیں۔ خالد انور نے بتا یا آئی پی پیز کی طرف سے کوئی مسئلہ نہیں اگر کوئی بجلی گھر مقررہ پیداوار سے کم بجلی پیدا کرے گا تو حکومت اس پر جرمانہ عائد کرنے کی مجاز ہے لیکن یہ تب ممکن ہے اگر حکومت برقت ادائیگی کرے۔