نارنجی کے بیمار درختوں کی شناخت کرنے والا کتا

بیلو نامی کتا نارنجی اور سنگتروں کے درختوں کو تباہ ہونے سے کئی ماہ قبل ہی سونگھ کر آگاہ کردیتا ہے


ویب ڈیسک February 06, 2020
بیلو نامی کتا ایک درخت کو سونگھ کر اس کی صحت کا اندازہ لگارہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

درختوں کی بیماریاں جاننے سے متعلق ایک اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے، خاص صلاحیتوں کے حامل کتے اب نارنجی اور سنگتروں کے باغات کو متاثر کرنے والے امراض اور بیماریوں کو سونگھ کر قبل ازوقت اس سے آگاہ کرسکتے ہیں یہاں تک پتوں اور جڑوں میں بیماری پیدا کرنے والے بیکٹیریا کی بو سونگھ کر کئی ہفتوں قبل اس کے مرض سے آگاہ کرسکتے ہیں۔

مثلاً ماہرین نے لیموں، نارنجی اور گریپ فروٹ کے باغات میں ایک مرض 'سٹرس گریننگ' کو پہچاننے کے لیے کتوں کو باقاعدہ تربیت فراہم کی ہے۔ امریکی محکمہ زراعت کے تحت اس پر تحقیق کی گئی اور اس کا اہم مقصد کتوں کو اس قابل بنانا تھا کہ وہ درختوں پر پھل کو نقصان پہنچانے والے بیکٹیریا کو سونگھ کر ان کا انکشاف کرسکیں۔

سائنسداں ٹموتھی گوٹوالڈ نے بتایا کہ کتے کی ناک کی صورت میں یہ ٹیکنالوجی ہزاروں برس سے موجود ہے اور یہ کتے فصل تباہ کرنے والے بیکٹیریا کی شناخت کرسکتے ہیں۔ فصلوں کے امراض شناخت کرنے والے کتے انسانوں سے زیادہ بہتر اور مؤثر طریقے سے سٹرس گریننگ کی شناخت کرسکتے ہیں۔ ایک کیڑا صحت مند درخت پر حملہ آور ہوکر مضر بیکٹیریا چھوڑ جاتا ہے۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے درخت تباہ ہونا شروع ہوجاتا ہے اور اکثر یہ لاعلاج ہوجاتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ مرض وسطی، جنوبی امریکا میں عام ہے۔ ماہرین کے مطابق مشاق کتے 95 فیصد درستی کے ساتھ بیمار پیڑ کو شناخت کرلیتے ہیں۔ اس سے پہلے بیمار درختوں کو جڑ سے کاٹا جاتا رہا ہے تاکہ اس کی وبا دوسرے صحت مند پیڑوں میں سرایت نہ کرجائے۔

دیگر ماہرینِ زراعت نے کتے کے ذریعے بیمار درختوں کو شناخت کرنے کے عمل کو سراہا ہے۔ اس کے لیے تجربہ گاہ میں مختلف بیکٹیریا کو ڈش میں رکھ کر اسے کتوں کو سنگھایا گیا تھا بعد ازاں وہ دھیرے دھیرے اس کے ماہر ہوگئے اور درختوں میں مرض کی شناخت کے قابل ہوگئے۔