غیرملکی سرمایہ کاری امن ناگزیر

پاکستان کے حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ ملک اس قسم کے حالات کا مزید متحمل نہیں ہوسکتا


Editorial November 19, 2013
وزیراعظم نے تھائی لینڈ میں ملکی تقری کی اچھی تصویر پیش کی ۔فوٹو:فائل

وزیراعظم نوازشریف نے غیرملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ غیرملکی سرمایہ کاروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ بنکاک میں ایشیا بحرالکاہل سربراہ اجلاس سے خطاب میں انھوں نے کہاکہ غیر ملکی سرمایہ کار حکومتی پالیسیوں کے تحت بہترین منافع حاصل کرسکتے ہیں۔

بلاشبہ پاک تھائی لینڈ اقتصادی اور تجارتی روابط میں وسعت اور بہتری کی یہ دوسری کوشش ہے جو ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کی جستجو میں منہمک وزیراعظم کی تگ ودو کی عکاسی کرتی ہے تاہم زمینی حقائق ،خطے میں دہشت گردی کی آتشیں صورتحال اور پاکستان میں داخلی امن و امن کی ابتری غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے کس طرح پر کشش ثابت ہوسکتی ہے اس پر ہمارے معاشی ماہرین ہی کچھ بتا سکتے ہیں لیکن یہ مسلمہ معاشی حقیقت ہے کہ کوئی سرمایہ کار آتشکدہ میں اپنے ڈالر پھونکنے نہیں آ سکتا، سرمایہ کاری امن کی متلاشی اور محتاج ہوتی ہے۔ صعنتکار اپنا منافع دیکھ کر ہی قدم بڑھائیں گے، ایسے میں سرمایہ کاروں کو حکومت کیسے تحفظ مہیا کریگی جب کہ بلوچستان،سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال مخدوش ہے ،کراچی جسے ملک کے معاشی حب اور لائف لائن سے تعبیر کیا جاتا ہے بدامنی کی آگ میں جل رہا ہے۔اس لیے حکومت کو اپنا اقتصادی روڈ میپ بنانے کے لیے امن قائم کرنے کی حکمت عملی کو نتیجہ خیز بنانا پڑیگا۔

پہلی ترجیح ہی امن کا قیام ہو تب ملکی سرمایہ کار بھی اپنی دولت ملک میں واپس لائیں گے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مشترکہ سرمایہ کاری کی پیشکش کا بھی منطقی جواز مہیا ہوسکے گا ۔ملک کے چاروں صوبوں کے تجارتی اور صنعتی مراکز میں مکمل امن و سلامتی ، ریاستی و حکومتی اقدامات اورضمانت سے مشروط ہیں ۔دہشت گردی اور انتہا پسندی نے واقعتاً ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے ، عوام ریلیف، زندگی کے تحفظ اور روزگار کے منتظر ہیں، وزیراعظم کا کہناہے کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول والا ملک ہے اور غیرملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔یہ امید افزا انداز نظر ہے مگر تلخ معاشی حقائق کو نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا، مثلاً بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں آئی ایم ایف کا یہ حکم کہ لوڈ شیڈنگ کو بجلی کے بلوں سے جوڑا جائے، ادھر یوٹیلٹی کی 150 اشیا مہنگی ہوچکی ہیں، حکومت ادویہ کی قیمتوں میں مزید 18فیصد اضافے کا فیصلہ کررہی ہے، ٹماٹر 200 روپے فی کلو بک رہے ہیں ۔خط افلاس سے نیچے گرنے والوں کی لائن لگی ہوئی ہے۔

وزیراعظم نے تھائی لینڈ میں ملکی ترقی کی اچھی تصویر پیش کی کہ پاکستان ٹیلی کام انفرا اسٹرکچر 125ملین موبائل کنکشنز پر مشتمل ہے جب کہ3 ملین فکسڈ لائنز اور3ملین ڈبلیو ایل ایل صارفین ہیں۔ انٹرنیٹ صارفین کی تعداد19.8ملین، موبائل انٹرنیٹ صارفین کی تعداد15.7ملین اور براڈ بینڈ صارفین کی تعداد 2.8ملین ہے۔ حکومت پاکستان ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرے گی۔ تھائی لینڈ کی وزیراعظم مس ینگ لک شیناوترا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس ممالک اور عوام کے درمیان بہتر اور وسیع روابط کے فروغ کے مشترکہ مواقعے کے لیے منعقد کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ ایشیا بحرالکاہل ایک وسیع اور متنوع خطہ ہے جہاں مصنوعات سازی کے جدت آمیز مراکز اور انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کی ترقی کے بڑے مواقعے ہیں۔

پاکستانی اور تھائی تاجروں کے ظہرانے کے موقعے پر خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ پاکستان مختلف تجارتی معاہدوں کے ذریعے اضافی علاقائی تعاون کی پالیسی پر گامزن ہے۔ انرجی اور فزیکل انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے پر زور دے رہے ہیں، قبل ازیں تھائی لینڈ کی وزیراعظم ینگ مک شینا وترے کے ساتھ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے پاکستان اور تھائی لینڈکے درمیان دوطرفہ تعلقات سمیت مختلف شعبوں میں اپنے باہمی مفید تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور تھائی لینڈ کے تاجروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے پرکشش پیشکش کی گئی ۔

دریں اثنا ملکی معاشی حالات پر صدر ممنون حسین نے توجہ دلائی ہے ، ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ ملک اس قسم کے حالات کا مزید متحمل نہیں ہوسکتا, بیٹو جتوئی میں ن لیگ کے رہنما لیاقت جتوئی کے ظہرانے میںانھوں نے کہا کہ کرپشن کے باعث ملک کو معاشی مسائل درپیش ہیں، معیشت کی ترقی کے لیے ہم سب کو ٹیکس ادا کرنا چاہیے۔صدر مملکت کی جانب سے یہ حقیقت کا اعتراف ہے جب کہ ایکسپریس کی ایک حالیہ خبر اس کی تائید بھی کرتی ہے جس کہا گیا ہے کہ 15ماہ میں تین سو غیر ملکی دورے کرنے والے53افراد ٹیکس نادہندگان نکلے۔فہرست میں شامل ایک شہری نے تین ماہ میں324 غیرملکی دورے کیے لیکن کوئی ٹیکس نہیں دیا۔دستیاب دستاویز کے مطابق دورے کرنے والوں پر غیر ملکی کرنسی اسمگل کرنے کا شبہ ہے۔

غیر ملکی کرنسی اسمگل کرنے والے کئی افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ غیر ملکی دورے کرنے والے ایک روپیہ بھی ٹیکس نہیں دے رہے۔شکر ہے کہ ایف بی آر نے ایسے ٹیکس نادہندگان کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔وزیراعظم نواز شریف کی تھائی سرمایہ کاروں کو یقین دہانی میں نیت کا خوش آیند اخلاص موجود ہے لیکن ضرورت اقتصادی ترقی میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے امن و امان کے صاف ستھراے، ہر قسم کے خوف وہراس اور بدامنی سے پاک پیداواری اور صنعتی ماحول کی ہے۔امن ، سیاسی و سماجی استحکام اور تجارتی شہروں اور ملک کے چاروں صوبوں میں صنعتی سرگرمیوں کے لیے فضا کی ہمواری اقتصادی ماہرین کے لیے قومی امتحان ہے۔حکمرانوں کو روزگار کی فراہمی کے لیے ہنر مند افرادی قوت کی کھپت، غیر معمولی برآمدات اور صنعتی ترقی کے سفر میں معاشی بنیادوں کی مضبوطی کا ہدف حاصل کرنے کے لیے قومی معیشت کو عوام دوست اور امن آشنا بنانا ہوگا۔پھر سرمایہ کارجوق در جوق آئیں گے۔