میڈیا کی آزادی یا اپنے ہی خنجر سے خودکشی
یہ پتہ لگانا تو اب بہت مشکل ہے کہ میڈیا بلکہ موجودہ آزاد میڈیا کی ’’آزادی‘‘ کا سہرا کس کے سر ہے۔
یہ پتہ لگانا تو اب بہت مشکل ہے کہ میڈیا بلکہ موجودہ آزاد میڈیا کی ''آزادی'' کا سہرا کس کے سر ہے۔ ایک وجہ اس مشکل کی یہ بھی ہے کہ ''آزاد میڈیا'' جتنا زیادہ آزاد ہے اس کا ''الزام'' اپنے سر پر لینے کو شاید کوئی بھی تیار نہ ہو۔ خود ہمیں اگر کوئی زبردستی پکڑ کر ... دست بدست دگرے اور پابہ دست دیگرے لے جائے اور میڈیا کی آزادی کا سہرا ہمارے سر باندھنے کی سعی کرے تو ہم اسکول کے بھاگے ہوئے بچے کی طرح ''ڈنڈا ڈولی'' ہو کر بھی یہ سہرا اپنے سر باندھنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ ساتھ میں اگر کوئی گرا پڑا ایوارڈ بھی ہو تو پھر بھی نہیں، بلکہ نہیں نہیں نہیں ... یہ تصور آپ خود کریں کہ ہر ''نہیں'' کے ساتھ ہمارا ہاتھ منہ چھپانے کا مظاہرہ بھی کرے گا کیوں کہ اتنے بڑے گناہ کا ارتکاب تو کیا تصور بھی کرنا ہمارے لیے مشکل ہے۔
یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ''نہیں'' ہوں
کیوں کہ ہم میڈیا کی آزادی دیکھ بھی رہے ہیں سن بھی رہے ہیں اور ''رو'' بھی رہے ہیں، اتنی آزادی تو جنگل میں بھی نہیں ہو گی کہ کوئی ادھر چھلانگیں لگا رہا ہے کوئی ادھر ٹہنیاں کود رہا ہے، کوئی یہاں چلا رہا ہے اور کوئی وہاں، جنگلی بیلیں پکڑ کر ٹارزن کی طرح ہرے سری آواز نکال رہا ہے، ایسا کیا ہے جو کہا نہیں جا رہا ہے، لکھا نہیں جا رہا ہے اور دکھایا نہیں جا رہا ہے۔ ایک پورے کا پورا نقار خانہ یہ بڑے بڑے نقارے لے کر ڈھما ڈھم بجا رہا ہے۔ لیکن سننے والا؟ ایک طوطی بھی نہیں ہے کیوں کہ ہر طوطی خود نقارچی بنا ہوا ہے۔ صدا بصحرا اور جنگل میں مور ناچا کی اصطلاحیں بہت چھوٹی پڑ گئی ہیں ... اس سے زیادہ بری حالت اور کیا ہو گی کہ کوئی خود اپنے آپ کی بھی سن نہیں رہا ہے۔ وانٹڈ کے سلمان خان کی طرح ... حالانکہ کسی کمٹمنٹ کا بھی دور دور تک کوئی پتہ نہیں ہے۔
میڈیا کی اس بے پناہ، بے حد و حساب اور بے مہار آزادی سے تنگ آ کر ہم نے بڑی کوشش کی کہ کوئی ایسی بات کہیں یا لکھیں جو کسی کو بری لگے اور ہمارے کالم یا کتاب پر پابندی لگائے اس طرح کچھ نہ کچھ امکان پیدا ہو سکتا ہے کہ کوئی ہماری بھی سن لے ... گویا وہی انگلیاں ٹیڑھی کرنے کا حربہ اپنایا اور پھر ایسی دو چار کتابیں کچھ مقتدر لوگوں کو بھجوا بھی دیں ایک کتاب پر تو ہمیں پورا بھروسہ تھا کہ اس پر پابندی تو لگے گی ہی ... لیکن افسوس کہ کوئی ٹس سے مس تک نہیں ہوا کسی کے کان پر جوں تو کیا کوئی پسو بھی نہیں رینگا، حالانکہ ہم اس کے لیے بھی تیار تھے کہ اگر کہیں سے دو چار جھاپنڑ تھپڑ بھی کھانے پڑیں تو سودا برا نہیں ہے اس مقصد کے لیے ہم نے لغات میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسے الفاظ نکالے جو لغت کے سوا اور کہیں نہیں لکھے جاتے یا پشتو اور پنجابی زبان کے روزمرہ کے علاوہ اور کہیں بھی استعمال نہیں ہوتے مختصر ٹرم کے قید و بند کے لیے بھی ہم تیار تھے سوچا
اس گزرگاہ سے پہنچیں تو کہیں ''منزل'' تک
جو بھی گزرے گی گزاریں گے گزرنے والے
لیکن کسی نے اتنا بھی نوٹس نہیں لیا جتنا ہماری حکومتیں مہنگائی کا لیتی ہیں، تب ہمیں یقین ہو گیا کہ چڑیاں مکمل طور پر ''بہری'' ہو چکی ہیں اب چاہے کنستر بجائو، ہا ہو کرو یا دھماکے کرو کچھ بھی سننے والی نہیں ہیں اور سنے بھی تو کیسے کہ ہر ''چڑیا'' خود ہی بولے جا رہی ہے، بات تو پرانی ہے اور ہم پہلے بھی کئی بار بتا چکے ہیں لیکن ایک مرتبہ پھر سہی، کئی سال پہلے جب اس ملک میں سیاست تجارت اور صنعت نے ''زراعت'' کا گلا نہیں گھونٹا تھا اور بین الاقوامی سرمایہ داروں نے ''بیج'' کو اپنے قبضے میں نہیں لیا تھا تو کسان لوگ اپنے طور پر باجڑے مکئی اور گندم اور کچھ باغات وغیرہ کی رکھوالی کرتے تھے ان کھیتوں اور باغات پر ایک خاص وقت میں چڑیوں اور دوسرے پرندوں کا حملہ ہو جاتا ان چڑیوں کو بھگانے کے لیے کسان ہا ہو کرتے تالیاں بجاتے ... یا پھر کنستر میں پتھر ڈال کر کھڑکھڑاتے یا ویسے ہی بجاتے ایک دو دن تو ''چڑیاں'' ان آوازوں سے ڈر کر اڑ جاتی تھیں لیکن پھر مانوس ہو جاتیں اور کسی بھی شور شرابے کا ''نوٹس'' تک نہ لیتیں، اسی صورت حال سے تنگ آ کر شاید انجمن نے کہا تھا کہ
تیرے باجرے دی راکھی
سیاں میں نہ کر پاؤں گی
اس مرحلے میں بزرگ کہتے ہیں کہ چڑیاں بہری ہو گئی ہیں اب چھوڑو ... اور اس کی پھر ایک اصطلاح بھی بن گئی تھی لوگ اپنے ضدی بچوں اور بات نہ سننے والوں کو ''بہری چڑیاں'' کہتے تھے۔ ہمارے اسکول کے استاد کا تو یہ تکیہ کلام ہو گیا تھا وہ اپنے کلاس کے لڑکوں کو ہمیشہ بہری چڑیاں بلاتا تھا، لیکن یہاں تو کوئی ایسا بزرگ بھی نہیں جو میڈیا سے کہہ دیتے کہ اب بس بھی کرو اپنی جان تھکانے سے کیا فائدہ ... چڑیاں بہری ہو چکی ہیں ۔
دنیا کے ''اہل نظر'' کو بھی یہ بات نظر آ رہی تھی کہ انسان کو جتنا جتنا بھوکا مارا جائے گا اتنی ہی اس کی چیخیں زور سے نکلیں گی اور اگر ان ''چیخوں'' کا کچھ نہیں کیا گیا تو شاید بھوکے استحصال زدہ اور محروم انسانوں کا شور انسانیت کے ان لیٹروں کی طرف ہو جائے ... ادھر ''آواز'' کے آلات بھی بڑھ رہے تھے جن کو روکنا ممکن نہ تھا جب تک بات انسان کی اپنی آواز اور یا پھر زیادہ سے زیادہ تحریر تک رہی اسے دبانے کی کوششیں ہوتی رہیں، استحصال کرنے والے عوام کے منہ سے نوالہ چھیننے والے اور انسانیت کو ننگا کرنے والے جب سمجھ گئے کہ اب بھوکے پیٹ کی آواز دبانا ممکن نہیں رہا اور انسان کی آواز بہت دور دور تک پہنچنے لگی ہے تو اب ان کو بھی اپنی اسٹرٹیجی بدل دینی چاہیے چنانچہ میڈیا کو ''آزاد'' کر دیا گیا، حکومتوں نے بھی اپنے سر پر میڈیا کی آزادی کی پگڑیاں باندھنا شروع کیں کچھ بے چارے اہل میڈیا بھی اپنی مونچھوں پر تاؤ دینے لگے کہ ہم نے میڈیا کو مکمل طور پر آزاد کرا دیا عوام بھی خوش ہو گئے کہ اب ہماری آواز پر کوئی پابندی نہیں رہی ہے اور یہ بات کسی کی سمجھ میں نہیں آئی کہ اس ''آزادی'' ہی کے ہتھیار سے میڈیا خود اپنے ہاتھوں ختم کر دیا گیا
مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی
ہیولی برق خرمن کا ہے خون گرم دہقان کا
میڈیا خوشی سے پھولے نہیں سما رہا ہے کہ آج میں آزاد ہوں دنیا کے چمن میں اور پندرہ فیصد استحصالی خوش ہیں کہ ہم نے میڈیا کو آزاد کر کے اپنی موت آپ مارنے میں کامیابی حاصل کر لی ... اس سے بڑی کامیابی اور کیا ہو گی کہ دشمن زندہ بھی رہے اور مرتا بھی رہے لیکن خود ہی اپنا گلا پھاڑ پھاڑ کر اپنی آواز کو صرف ''ہوا'' میں تبدیل کرتا رہے، کسی بھی چیز کو پھیلانے کا مطلب اس کا ختم کرنا ہوتا ہے۔