سانحہ راولپنڈی شیعہ تنظیموں نے پنجاب حکومت کا کمیشن مسترد کردیا

آج یوم دفاع عظمت نواسہ رسول منایا جائیگا، علامہ حسن ظفر ، عباس کمیلی و دیگر کی پریس کانفرنس


Staff Reporter November 22, 2013
سانحے کے حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں3 رکنی اعلی سطح کا کمیشن قائم کیا جائے،پریس کانفرنس۔ فوٹو : پی پی آئی / فائل

شیعہ تنظیموں بشمول مجلس وحدت مسلمین پاکستان جعفریہ الائنس پاکستان ، شیعہ علما کونسل پاکستان ، شیعہ ایکشن کمیٹی ، مرکزی تنظیم عزا اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے رہنماؤں مولانا حسن ظفر نقوی، علامہ عباس کمیلی، علامہ ناظر عباس تقوی، علامہ مرزا یوسف حسین، سلمان مجتبیٰ ، غیور حسین، مولانا شبیر میثمی، مولانا دیدار علی جلبانی، مولانا جعفر سبحانی ، علی حسین نقوی اور دیگر نے اعلان کیا ہے کہ آج جمعہ 22 نومبر کو ملک بھر کی طرح کراچی میں بھی یوم دفاع عظمت نواسہ رسول منایا جائے گا اور اس روز احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔

جمعرات کو کراچی میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیعہ رہنماؤں نے کہا کہ ہم سانحہ راولپنڈی کے حوالے سے پنجاب حکومت کے کمیشن کو مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سانحے کے حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں3 رکنی اعلی سطح کا کمیشن قائم کیا جائے۔سانحہ راولپنڈی سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں مساجد اور امام بارگاہوں کو نذر آتش کیے جانے کے واقعات کا نوٹس لیا جائے۔ جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ علامہ عباس کمیلی نے کہا کہ سانحہ راولپنڈ ی کے بعد کالعدم دہشت گرد تکفیری گروہ نے پورے ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی گھناؤنی کوشش کی ہے۔سانحہ پنڈی کے فورا بعد ملتان، چشتیاں سمیت کوہاٹ میں مساجد و امام بارگاہوں پر حملے اور دہشت گردانہ کاروائیاں در اصل اس بات کا ثبو ت ہیں کہ تکفیری دہشت گرد ٹولے نے پہلے سے طے منصوبہ بندی کے تحت عاشورہ کے جلوس عزا کے دوران ہنگامہ آرائی کی، خود اپنی مسجد کو نذر آتش کیا۔



بعد میں دیگر مساجد اور امام بارگاہوں کو نذر آتش کیا گیا اور پھر اس سلسلے کو ملک کے دیگر علاقوں میں پھیلانے کی کوشش کی تا کہ ملک کو غیر مستحکم کیا جائے۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا کہ حکومت پنجاب کے وزیر رانا ثنا اللہ تکفیری دہشت گرد ٹولے کے سربراہ کا کردار ادا کر رہے ہیں جو کہ قابل مذمت اور شرمناک فعل ہے۔پانھوں نے مطالبہ کیا کہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی)کی رپورٹ کے پس منظر کے تحت ا س مسجد کو فی الفور سیل کیا جائے جہاں سے منافرت اور شرانگیزی پھیلانے کا واضح ثبوت مل چکا ہے۔مولانا حسن ظفر نقوی نے کہا کہ ہم شہباز شریف حکومت اور رانا ثنا اللہ کی جانب سے ایک تکفیری گروہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے بنائے جانیو الے تحقیقاتی کمیشن کو مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے اعلی اور معتدل ججز کی نگرانی میں کمیشن قائم کیا جائے۔