سندھ میں گڈ گورننس کا خواب
سندھ کئی عشروں سے پیپلز پارٹی کا گڑھ چلا آرہا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ سندھ کے عوام نے ہمیشہ پیپلز پارٹی کو۔۔۔
KARACHI:
سندھ کئی عشروں سے پیپلز پارٹی کا گڑھ چلا آرہا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ سندھ کے عوام نے ہمیشہ پیپلز پارٹی کو اپنی پارٹی سمجھا اور جب حقیقی موقع ملا انھوں نے پی پی کو بھاری اکثریت سے منتخب کیا کیونکہ وہ حقیقی طور پر بھٹو خاندان سے محبت کرتے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ان کی بیٹی پر بھی اندرون سندھ عوام نے بھرپور اعتماد کیا اور دسمبر 2007 میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے باعث سندھیوں نے سب سے زیادہ پیپلز پارٹی کو ووٹ دیے تھے مگر ان کے مقدر میں محترمہ کی طرف سے ناکام قرار دیے گئے سید قائم علی شاہ لکھے تھے جنھیں محترمہ نے اپنی پہلی حکومت میں ہٹا کر آفتاب میرانی کو وزیر اعلیٰ بنایا تھا جو بلاشبہ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد محترمہ کے انتہائی وفادار تھے۔
پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے نہ جانے کس وجہ سے قائم علی شاہ کو وزیر اعلیٰ 2008 میں مقرر کیا تھا حالانکہ اس وقت آصف علی زرداری کے دو انتہائی قریبی ساتھی ذوالفقار مرزا اور آغا سراج درانی بھی وزارت اعلیٰ کے مضبوط امیدوار تھے مگر قائم علی شاہ کے ایک نہیں دو بار مقدر میں سندھ کا وزیر اعلیٰ بننا تھا اور شاید یہی سندھ کی قسمت ہے کہ 2008 میں 5 سال مکمل کرنے کے بعد 2013 میں بھی وہی آصف علی زرداری کے پسندیدہ ٹھہرے اور اب آصف علی زرداری نے اپنے منہ بولے بھائی اویس مظفر سے استعفیٰ دلا کر قائم علی شاہ کو مضبوط کردیا ہے کیونکہ دونوں کے درمیان اختلافات کی خبریں گرم تھیں۔
پی پی کی سندھ کی سابق حکومت میں مرحوم پیر پگارا نے کہا تھا کہ سندھ میں ایک نہیں چار وزیر اعلیٰ ہیں اور سندھ کی حکومت قائم علی شاہ نہیں بلکہ کوئی اور چلا رہا ہے۔ کوئی اور میں ایک نام اویس مظفر کا بھی تھا مگر اب اویس مظفر کے ہٹائے جانے سے ثابت ہوگیا کہ سندھ کی حکومت وہ نہیں چلا رہے تھے بلکہ وہ کوئی اور ہی تھا۔
سابق سندھ حکومت میں 13 انتہائی اہم محکمے بلدیات آغا سراج کو تعلیم پیر مظہر کو اور داخلہ ذوالفقار مرزا کو دیے گئے تھے اور ان تینوں نے اپنے محکمے انتہائی بااختیار وزیر کے طور پر چلائے اور ان تینوں کی مرضی کے خلاف کوئی معمولی کام نہیں ہوا۔ ذوالفقار مرزا جذبات میں آکر وزارت داخلہ چھوڑ گئے اور انھوں نے برملا اپنی وزارت کے دوران دیے گئے اسلحے کے لائسنسوں اور ملازمتوں کا اعتراف کیا اور ان کی من مانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھیں۔ متحدہ اور اپنوں کی شکایات کے باوجود صدر زرداری نے ان سے اویس مظفر کی طرح استعفیٰ نہیں لیا تھا اور ڈاکٹر مرزا خود وزارت چھوڑ گئے تھے۔
سابق سندھ حکومت میں بلدیات اور تعلیم کے محکموں میں ریکارڈ من مانیاں، اقربا پروری اور کرپشن ہوئی، جگہیں نہ ہونے کے باوجود ہزاروں افراد کی غیر قانونی بھرتیاں ہوئیں، محکمہ بلدیات نے بلدیاتی اداروں میں خاکروبوں کے نام پر مسلمان بھرتی کیے جن کا کام صفائی ستھرائی تھا مگر وہ چپڑاسی، مالی اور نچلے درجے پر کام کرتے تھے۔ صرف محکمہ بلدیات میں ساڑھے بارہ ہزار کے قریب لوگ بھرتی کیے گئے تھے جن کی برطرفی کا آرڈر حال ہی میں جاری ہوا۔
ان ملازمین کی اکثریت وہ تھی جو رشوت دے کر بھرتی ہوئے تھے اور ان ہی جیسے لوگوں کی وجہ سے سندھ کے بلدیاتی ادارے شدید مالی بحران میں مبتلا ہوئے کیونکہ ان کے پاس ملازمین کو تنخواہیں دینے کی بھی سکت نہیں تھی جس کی وجہ سے عدم ادائیگی تنخواہ کے باعث سندھ بھر میں ملازمین کا احتجاج جاری ہے اور جن 12 ہزار ملازمین کو برطرف کیا گیا تھا ان کی برطرفی کا حکم منسوخ ہوگیا ہے مگر وزارت بلدیات کے سابق وزیر سے صدر زرداری نے کبھی نہیں پوچھا کہ جگہیں نہ ہونے کے باوجود یہ بھرتیاں کیوں ہوئی تھیں؟ سیاسی دباؤ پر برطرفیاں تو بحال ہوگئیں مگر محکمہ بلدیات کی مالی حالت کب بحال ہوگی اس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔
ممکن ہے اویس مظفر کی وزارت بلدیات میں انھیں بلدیاتی اداروں پر بارہ ہزار سے زاید ملازمین کا بوجھ انھیں نظر آیا ہو اور انھوں نے بلدیاتی اداروں کا مالی بوجھ کم کرنے کی کوشش کی ہو جس کے صلے میں انھیں وزارت ہی چھوڑنا پڑی۔
محکمہ تعلیم میں بھی 5 سال میں اضافی بھرتیاں اور من مانیاں ہوئیں اور 5 سال تک امتحان پاس کرنے والے اساتذہ احتجاج کرتے رہے۔ محکمہ تعلیم میں ملازمتیں فروخت ہوئیں۔ کرپشن اور من مانیوں کے ریکارڈ قائم ہوئے مگر کسی نے سابق وزیر تعلیم پیر مظہر کی سرزنش تک نہ کی اور محکمہ تعلیم میں 5 سال تک جو بویا گیا اس کی فصل اب موجودہ وزیر تعلیم کاٹ رہے ہیں۔ سندھ کے دیگر محکموں کا بھی 5 سال یہی حال رہا۔ محکمے کم اور وزیر زیادہ ہونے کی وجہ سے محکمے توڑ کر وزیروں کو نوازا گیا اور جس کو جہاں موقع ملا اس نے کسر نہیں چھوڑی۔
سابق صدر آصف علی زرداری کے منہ بولے بھائی اویس مظفر موجودہ سندھ حکومت میں پہلی بار وزیر بنے اور انھیں بلدیات، صحت اور دیگر محکمے دیے گئے اور یہ واحد وزیر بلدیات تھے جنہوں نے اپنے مختصر وقت میں سندھ کے دورے کیے اور کراچی میں ہونے والی لوٹ کھسوٹ کو روکنے کی کوشش کی۔ انھوں نے پہلی بار سرکاری زمینوں پر قبضوں کے خلاف مزاحمت کی۔ غیر قانونی واٹر ہائیڈرینٹس منہدم کرائے اور غیر قانونی تعمیرات رکوائیں۔ انھوں نے محکمہ صحت میں بدعنوانیوں پر بھی توجہ دی جس پر آصف علی زرداری نے ان کی کارکردگی کو سراہا تھا جس سے توقع تھی کہ وہ کچھ کر دکھائیں گے۔ ان کے وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ بنائے جانے کی خبریں بھی لگیں جس سے سندھ کے لوگوں کو توقع تھی کہ وہ سندھ میں گڈ گورننس کو فروغ دیں گے اور سندھ کی سابق حکومت میں جو ہوتا رہا اس کا خاتمہ ہوجائے گا مگر لوگ اس وقت حیران رہ گئے جب ان سے اچانک استعفیٰ لے لیا گیا اور سندھ میں گڈ گورننس کا خواب بکھر گیا۔
پی پی کی سابق وفاقی حکومت اور دونوں سابق وزرائے اعظم پر کرپشن کے سنگین الزامات لگے مگر صدر زرداری سب کچھ ہوتا دیکھتے رہے۔ ان کے دور میں کسی وزیر کو کرپشن پر نہیں ٹوکا گیا جس کی سزا عام انتخابات میں پی پی کو مل گئی جس کے بعد توقع تھی کہ وفاقی حکومت کھونے کے بعد آصف علی زرداری سندھ میں مثالی حکومت قائم کرائیں گے مگر وہ تو اتنے دباؤ میں آئے کہ انھیں اپنے اچھا کام کرنے والے وزیر کو بھی ہٹانا پڑا۔
من مانیوں کا شکار سندھ اس بار بہت اچھی توقعات رکھتا تھا مگر من مانیوں اور کرپشن کی سرگرمی ماضی کی طرح جاری ہے اور اویس مظفر کے جانے کے بعد سندھ حکومت سے اچھائی کی توقعات باقی نہیں رہیں اور لگتا ہے کہ ماضی کا سلسلہ برقرار رہے گا۔