پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کیلئے محاذآرائی کھیلوں کا مستقبل کیا ہوگا

پاکستان کا پرچم اٹھانے کے دعویدار آئین کے ساتھ ہی وفادار نہ ہوں تو ہماری عالمی سطح پر کیا قدر ہوگی۔


Abbas Raza/Mian Asghar Saleemi November 27, 2013
پی او اے کی لاہور میں عمارت کسی کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ اس پر اسی کا حق ہے جو ملکی آئین کے تحت کھیلوں کا نظام چلا رہا ہو۔ فوٹو : فائل

PARIS: جنرل(ر)عارف حسن تیسری مدت کے لئے انتخاب سمیت تمام متنازع امور نے پی او اے کے انٹرنیشنل مبصرین کی موجودگی میں ہونے والے الیکشن کے بعد ہی سراٹھایا۔

اکرم ساہی اور قاسم ضیاء میرے مخالف امیدواروں میں شامل تھے، ہارنے کے بعد انہوں نے اس بات پر زوردینا شروع کردیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اسپورٹس تنظیموں کا کوئی عہدیدار 2 سے زیادہ بار منتخب نہیں ہوسکتا۔ پی او اے کے انتخابات آئی اوسی چارٹر کے مطابق تھے، اس موقع پر ورلڈ اور ایشین باڈی کا ایک ایک نمائندہ بطور مبصر موجود تھا، کسی بھی متوازی تنظیم کو عالمی باڈی کبھی تسلیم نہیں کرے گی، کسی ملک نے ایسی مثال قائم نہیں کی کہ اولمپک کے معاملات میں حکومت مداخلت کرتی ہو۔



4اکتوبر کو لوزین میں ہونے والی انٹرنیشنل اولمپک میٹنگ میں آئی او سی کے رکن سید شاہد علی، وزارت بین الصوبائی رابطہ کے سیکرٹری فریداللہ خان اور پی او اے کے صدر کی حیثیت سے میں نے شرکت کی، اکرم ساہی لوزین میں موجود ضرور تھے لیکن ان کی کسی آفیشل سے باقاعدہ ملاقات نہیں ہوئی، ان کے ساتھ غیر رسمی انداز میں میٹنگ کے بعد الگ کمرہ میں صرف 10منٹ بات کی گئی، جس باڈی کو آئی او سی تسلیم نہیں کرتی، اس کے کسی بھی عہدیدار سے کس حیثیت میں گفتگو کرتی، حکومتی نمائندے کے طور پر فریداللہ خان کا موقف ضرور سناگیا، انہوں نے بھی آئی اوسی اجلاس میں وعدہ کیا ہے کہ اسپورٹس پالیسی کو اولمپک چارٹر کے مطابق بنائیں گے۔

تاکہ دنیا بھر کے ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی کھیلوں کی آزادانہ حیثیت پر کوئی قدغن لگنے کا امکان باقی نہ رہے،آئی او سی کی ہدایت پر دسمبر کے پہلے ہفتے میں ایسی ملکی اسپورٹس فیڈریشنز کا بھی تعین ہوجائے گا جن کو متعلقہ انٹرنیشنل باڈیز تسلیم کرتی ہیں جس کے بعد ڈمی تنظیموں کا خود ہی صفایا ہوجائے گا۔ تنازع کے سبب ملکی کھیلوں کا مستقبل دائو پر لگ چکا، جنرل(ر) محمد اکرم ساہی گروپ کی طرف سے عالمی مقابلوں میں بھجوائے جانے والے کھلاڑی آئی او سی کے تحت کسی اؤنٹ میں شرکت نہیں کرسکتے، ہمارے بینر تلے جانے والے پلیئرز کو حکومت ایئر پورٹس پر روک لیتی ہے۔



ملک میں ایسی متوازی پی او اے بنانے کا کیا فائدہ جب کھلاڑی انٹرنیشنل مقابلوں میں شرکت کے لئے ہی نہ جاسکیں، ہمارا، آئی او سی اور او سی اے کا موقف ایک ہے، ایک خود مختار ادارے کی حیثیت سے پی او اے کا کردار عالمی پالیسؤں سے ہم آہنگ ہے، اس پر قدغن لگانے کی کوئی بھی کوشش کھیلوں میں عالمی سطح پر پاکستان کا تاثر خراب کرے گی۔ ہماری پالیسیوں کے نتیجے میں ملکی اسپورٹس مسلسل بہتری کی طرف گامزن رہی، بعد ازاں روڑے اٹکانے کا سلسلہ شروع ہوگیا، اب ہم مسلسل زوال کی جانب گامزن ہیں، کھیلوں کے معاملات میں مداخلت ختم نہ ہوئی تو یہ سلسلہ طویل ہوتا جائے گا۔

چوہدری یعقوب
دیکھا جائے تو اکرم ساہی گروپ بھی اپنی حیثیت منوانے کے لئے آئی او سی کی نظر کرم کا منتظر ہے، حکومتی نمائندے کا لوزین کے اجلاس میں جانا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ ان کو بھی انٹرنیشنل باڈی کے اختیار اور اہمیت کا اندازہ ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ ایک عالمی ادارے کی حیثیت کو مانتے ہیں تو اس کے چارٹر کو تسلیم کؤں نہیں کرتے،آئی او سی کوئی حکومتی یا سیاسی ادارہ نہیں ، کھیلوں کے معاملات میں اس کے ساتھ جڑے ملکوں کی اولمپک ایسوسی ایشنز میں بھی حکومتی مداخلت کبھی تسلیم کی گئی نہ اب ہوگی۔

ہر ملک کے اسپورٹس ادارے کھیلوں کے فروغ کے لئے انفراسٹرکچر اور فنڈز فراہم کرتے ہیں، سسٹم چلانے کے لئے مرضی کے قوانین بنانے میں ان کا کوئی کردار نہیں ہوتا،آئی او سی کے تحت ہی کھیلوں کے ضابطے تشکیل پاتے یا تبدیل ہوتے اور سب ملک ان کی پابندی کرتے ہیں،کوئی نہیں کہتا کہ ہم عالمی مقابلوں کے لئے فٹبال ٹیم میں 15 کھلاڑی شامل کریں گے کؤنکہ ہمارے بیشتر دیہات میں میچ ایسا کیا جاتا ہے، سب ملک اسی ڈسپلن پر عمل درآمد کرتے ہیں جس کا فیصلہ انٹرنیشنل پلیٹ فارم پر متفقہ طور پر طے کیا جاتا ہے۔

پی او اے کے معاملے میں بھی پاکستان کی ہر اسپورٹس باڈی کو آئی او سی کے چارٹر پر ہی چلنا ہوگا، اسپورٹس پالیسی اس سے متصادم ہے تو ترامیم کرلیں، ملکی کھیلوں کو عالمی سطح پر تنہا کرنے والا راستہ تو اختیار نہ کیا جائے، پاکستان کی رکنیت ہی نہ رہی تو کھلاڑی کن انٹرنیشنل اؤنٹس کی تیاری کے لئے جان ماریں گے، جنگل میں مور ناچے گا تو کون دیکھے گا۔

شوکت جاوید
اکرم ساہی آئین کی بات کرتے ہیں،آئین تو یہ بھی کہتا ہے کہ ایک بار کوئی باڈی قواعد و ضوابط کے تحت متفقہ طور پر منتخب کرلی جائے تو اس کے متوازی تنظیم قائم نہ کی جائے، بین الصوبائی رابطے کی وزارت کا کام کوآرڈی نیشن ہے، پالیسی سازی نہیں، نئے الیکشن کرواکے منتخب کئے جانے والے عہدوں کی بندر بانٹ میں مصروف ہیں جبکہ کھیلوں کو فروغ دینے کے حوالے سے اچھے ماضی کے حامل افراد کو دوسری اور تیسری مدت کی پالیسی کا شکار کرکے گھروں میں بٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے، فیفا کا 25سال سے ایک ہی صدر ہے، کھیل کے فروغ کے لئے بہترین کام کو پیش نظر رکھتے ہوئے کوئی اگلی مدت کے لئے ان کے انتخاب کو غلط نہیں سمجھتا لیکن ہمارے حکام اس بنیاد پر لوگوں کی ماضی اور حال کی خدمات کو فراموش کرتے ہوئے نکال باہر کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

عدالت نے اکرم ساہی گروپ کو قومی کھیلوں کا نام تک استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی لیکن ان مقابلوں پر 13 کروڑ روپے ضائع کردیئے گئے،کئی فیڈریشنز کے عہدے اپنے ہی خاندان میں بانٹے جارہے ہیں، سارا چکر ہی ذاتی مفاد کا ہے، الیکشن درست نہیں تھا تو اس وقت ہمیں مبارکبادیں کؤں دیں؟ اگر اسپورٹس پالیسی آئی او سی کے مطابق نہ تھی تو اسے ترمیم کے ذریعے قابل قبول بنایا جاسکتا تھا لیکن ذاتی فائدے کے لئے چارٹر کی خلاف ورزی کا راستہ اپنایا گیا،ان اقدامات پر پاکستان کی رکنیت معطل ہوسکتی تھی لیکن عارف حسن نے ابھی تک اس کا راستہ روک رکھا ہے، سلسلہ ختم نہ ہوا تو ملکی کھیلوں کے مستقبل پر انتہائی برے اثرات مرتب ہوں گے۔

ادریس حیدر خواجہ
اسپورٹس بورڈ اور متعلقہ اداروں کا کام انفراسٹرکچر کی فراہمی ہے، عہدیدار اس ضمن میں تو اپنی ذمہ دارؤںکو نظر انداز کر رہے ہیں لیکن کھیلوں کے فروغ کے لیے کام کرنے والوں کا راستہ روکا جارہا ہے، اگر کوئی اس خوش فہمی میں ہے کہ ملکی اسپورٹس فیڈریشنز اس کے ساتھ ہیں تو متوازی دھڑے ختم کرکے جنرل کونسل میں ہمارے ساتھ بیٹھے، اگر اکثریت ہو تو عدم اعتماد کرکے کسی اور کا انتخاب کرلیں، الگ ہی دنیا بناکر خود ہی اس کا مالک بن کر بیٹھ جانے سے عالمی ادارے آپ کو تسلیم نہیں کرنے لگیں گے۔

اگر کوئی شخص کھیلوں کا حقیقی خادم اور وسیع تجربہ رکھتا ہے تو اس کے 5 بار انتخاب پر بھی اعتراض نہیں ہونا چاہیے، نا اہل لوگوں کو عہدوں پر باربار تبدیل کرنے کے باوجود نتائج حاصل نہ ہوں تو ایسے تجربات کا کوئی فائدہ نہیں، جنرل عارف حسن کا گذشتہ ریکارڈ اٹھا کردیکھ لیں سب کو پتا چل جائے گا کہ انھوں نے ملک میں کھیلوں کے فروغ کے لئے کیا اقدام اٹھائے ہیں، آئی او سی کو بھی ان کی اہلیت یا قابلیت پر کوئی اعتراض نہیں، تو پھر یہاں بھی کسی کو کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے، فیڈریشنز کھیلوں کے فروغ کے لئے ہوتی ہیں، انہیں اسی کا ساتھ دینا چاہیے۔

جو اسپورٹس کے لئے کام کرنے میں سنجیدہ ہو، کسی کے تیسری مدت کے لئے انتخاب یا عمر پر نہیں بلکہ ناقص کارکردگی پر اعتراض کیا جاسکتا ہے، ہماری توجہ کھیل اور کھلاڑؤں کی بہتری پر ہونی چاہئے نہ کہ عہدوں کے حصول کی خاطر ایک دوسری کو نیچا دکھانے پر، جب تک اسپورٹس کو سیاست سے الگ نہیں رکھا جاتا اس وقت تک کھیلوں میں مقام نہیں بنایا جاسکتا۔

دنیا کے بڑے سے بڑے ملکوں میں بھی کھیلوں کے ادارے حکومتی اثر سے آزاد ہوکر کام کرتے ہیں لیکن یہاں الٹی گنگا بہتی ہے، کوئی بھی پالیسی یا ٹیم کو باہر بھیجنے کا کام حکام بالا کی اجازت کے بغیر ممکن ہی نہیں، ہمارا حکومت اور اسپورٹس بورڈ سے مطالبہ ہے کہ وہ کھلاڑؤں کے لئے گرائونڈز اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی طرف توجہ دے، اختیارات کے جھگڑے سے کسی کو کچھ نہیں حاصل ہونے والا، نقصان صرف اور صرف کھیلوں کا ہوگا۔

جنرل (ر) محمد اکرم ساہی

عارف حسن گروپ کے ساتھ کوئی ذاتی عناد نہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ ان کی تیسری مدت کے لئے انتخاب کی راہ میں رکاوٹ بنا، پی او اے کا تنازع ختم کرنے کے لئے دوبارہ الیکشن کا انعقاد کرادیا جائے تو کوئی اعتراض نہیں ہوگا، کھیلوں کی فیڈریشنز جس کو باگ ڈور سونپ دیں، ان کا فیصلہ تسلیم ہوگا، سپورٹس پالیسی کے نفاذ کی بات تو 2001سے چل رہی ہے، عملی اطلاق ہونے کے بعد اسے قابل قبول اور انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی چارٹر کے خلاف کؤں قرار دیا جارہا ہے،



ہمارا موقف ہے کہ عارف حسن منتخب ضرور ہوئے لیکن عدالتی حکم کے بعد تیسری مدت کے لئے کام نہیں کرسکتے، ہمارے ساتھ منسلک سپورٹس فیٖڈریشنز نے عدالتی حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے کسی عہدیدار کا تیسری مدت کے لئے انتخاب نہیں کیا، عارف حسن گروپ کو بھی جواز اور دلائل تلاش کرنے کے بجائے ملکی آئین اور قانون کی پاسداری کرنا چاہیے تھی، 4اکتوبر کو لوزین میں ہونے والے اجلاس میں پہلی بار ہمارا موقف سنا گیا، ملکی سپورٹس تنظیموں کی بڑی تعداد ہمارے ساتھ ہے، اس لئے عالمی سطح پر ملک کی نمائندگی کا حق بھی ہمیں ہی حاصل ہے،

آئی او سی نے بھی اس پہلو پر غور کرنا شروع کردیا، اگر ہماری حیثیت کو تسلیم نہ کیا جاتا تو یکطرفہ فیصلہ بھی ہوسکتا تھا لیکن ہماری بات سننے کے بعد حقیقی صورتحال سامنے آچکی ہے، میں نے ان کو بتایا کہ عدالتی فیصلے کی روشنی میں ایک باڈی غیر آئینی قرار پانے کے بعد میرا اور ساتھی عہدیداروں کا انتخاب ہوا ہے، ہماری بات کو غور سے سنا اور سمجھا گیا، امید ہے کہ اس حوالے سے غلط فہمیاں زیادہ دیر تک نہیں رہیں گی، لوزین میٹنگ میں کئے جانے والے فیصلے کے مطابق آئی اوسی یکم دسمبر تک حقیقی قومی سپورٹس فیڈریشنز کاتعین کرلے گی تو ہماری پی او اے کو ہی انٹرنیشنل سطح پر ملک کی نمائندگی کا حق دیا جائے گا۔ سپورٹس پالیسی پر عمل درآمد سے گریز کے لئے عارف حسن گروپ نے دعوٰی شروع کیا کہ ہمارا تو پاکستان سپورٹس بورڈ سے الحاق نہیں،اس لئے ہمیں حکومتی اداروں کے قواعد و ضوابط کا پابند بھی نہیں کیا جاسکتا حالانکہ وہ پی ایس بی کی جنرل کونسل کے رکن کے طور پر کام کرتے ہوئے مراعات بھی حاصل کرتے رہے ہیں۔



عارف حسن گروپ کو عالمی سطح پر کچھ غلط فہمؤں کی وجہ سے حقائق پر پردہ ڈالنے کا موقع مل گیا،حیرت کی بات ہے کہ کھیلوں کی خدمت کی دعویدار عالمی تنظیموں کو خط لکھ کر ملکی پلیئرز کو شرکت سے محروم رکھنے کو اپنا کارنامہ قرار دیتے ہیں، سپورٹس دشمنی کے کام کرنے پر فخر محسوس کیا جاتا ہے،کئی من گھڑت کہانؤں اور جعلی خطوط کے ذریعے ڈرایا جاتا ہے کہ پاکستان کا کھیلوں میں مستقبل ختم ہوگیاحالانکہ کوئی ایسی بات نہیں، آئی او سی کو ہماری بات سمجھ میں آگئی ہے، دیگر اداروں کو بھی جلد حقائق کا اندازہ ہوجائے گا۔

جسٹس (ر)خواجہ فاروق سعید
عارف حسن نے 2004ء میں منتخب ہوتے ہی کہا تھا کہ سپورٹس پالیسی کے نفاذ کے لئے آیا ہوں، بعد ازاں 2008ء میں تیسری مدت کے لئے انتخاب میں رکاوٹ بننے والے فیصلے کی زد میں خود بھی آگئے تو مخالفت شروع کردی،لاہور ہائیکورٹ نے تیسری بار منتخب ہونے کا حق دیدیا لیکن سپریم کورٹ کورٹ میں اپیل کے بعد فیصلہ اس کے برعکس ہوگیا، 8مئی 2012کو سپورٹس پالیسی تسیلم کئے جانے کے بعد ملک کی ہر سپورٹس باڈی کے لئے اس پر عمل درآمد لازمی قرار پایا، نئی صورتحال میں عارف حسن نے دعوٰی شروع کردیا کہ پی او اے کا پاکستان سپورٹس بورڈ سے الحاق نہیں اور خود مختار حیثیت میں کام کرنے والے ادارے کا سربراہ 10 بار بھی منتخب ہو تو کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

عارف حسن کے تحت باڈی غیر آئینی قرار دیئے جانے کے بعد 4فروری کو ہونے والے انتخابات عدالتی احکامات کی روشنی میں غیر جانبدارانہ اور منصفانہ انداز میں ہوئے جن میں جنرل(ر) اکرم ساہی کی سربراہی میں پی او اے تشکیل دی گئی، جو باڈی ملکی قانون کے تحت درست ہے، اسے ہی عالمی تنظیمیں بھی تسلیم کریں گی، ہم انٹرنیشنل سطح پر موقف پیش کرچکے، امید ہے دسمبر میں اس حوالے سے تمام تنازعات ختم ہوجائیں گے۔

کسی بھی ملک کی سپورٹس باڈی کو این جی او قرار دینے کی بات معقول نہیں،پاکستان کا پرچم اٹھانے کے دعویدار آئین کے ساتھ ہی وفادار نہ ہوں تو ہماری عالمی سطح پر کیا قدر ہوگی، پی او اے ملکی سپورٹس فیڈریشنز کا ایک گلدستہ ہے، چند مخصوص افراد اپنی مرضی کے فیصلے مسلط کرکے خود کو ہی ملک کی نمائندگی کا حقدار تصور کرتے رہیں تو کھیلوں کو نقصان ہی پہنچے گا۔حالیہ تنازع میں ایک طرف آئین کو ماننے والے اور دوسری جانب اس کو رد کرنے والے ہیں، عوام بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ جیت کس کی ہونا چاہیے۔ پی او اے کی لاہور میں عمارت کسی کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ اس پر اسی کا حق ہے جو ملکی آئین کے تحت کھیلوں کا نظام چلا رہا ہو، وزارت اور حکومتی اداروں کے نوٹس میں لانے کے بعد ان کی ہدایت پر ہی اولمپک ہائوس کا چارج سنبھالا۔

ظفر عباس لک
پاکستان سپورٹس بورڈ حکومت کا ایک ادارہ ہے جس کا کام کھیلوں کے فروغ کے لئے ملکی فیڈریشنز کی معاونت کرنا ہے، انفراسٹرکچر کوچنگ کی سہولیات اور فنڈز کی فراہمی اس کی ذمہ داری ہے، کوئی اگر کہے کہ اس سسٹم کو ہی نہیں مانتے تو اس کا کیا کرسکتے ہیں، اقوام متحدہ بھی کسی ملک کو اپنے قوانین کے نفاذ سے نہیں روک سکتی، دوسرے ملکوں کے ساتھ تنازع ہو تو عالمی برادری ثالث کا کردار ادا کرتی ہے، تاہم ہر ملک فیصلے وہی کرتا ہے جو اس کے قومی مفاد میں ہوں،پاکستان میں اگر ریٹائرمنٹ کی عمر 60سال ہے تو کوئی عالمی ادارہ اسے 50 کرنے کے لئے دبائو نہیں ڈال سکتا،کئی رکن اسمبلی کسی وجہ سے عدالت کی طرف سے نااہل قرار دیئے جارہے ہیں تو کوئی دوسرا ملک اس میں مداخلت نہیں کرسکتا، کھیلوں کی انٹرنیشنل تنظیموں کو بھی ہمارے سسٹم اور آئین کا احترام کرنا ہوگا، اگر آئی اوسی کے ساتھ کوئی تنازع ہے بھی تو اس کا فیصلہ پاکستان کا آئین اور قانون ساز ادارے کریں گے، عارف حسن گروپ عالمی تنظیموں کے ساتھ رابطے کرکے ملکی کھیلوں کے فروغ میں رکاوٹ بن رہا ہے،ہمارے سپورٹس کلچر کو بدنام کیا جارہا ہے،یہ کیسا رویہ ہے کہ پاکستان سے اتھلیٹس کو بیرون ملک لیجانے کے لئے معاونت سپورٹس بورڈ سے حاصل کی جائے، فنڈز بھی اسی سے طلب کئے جائیں لیکن پالیسی کی بات آئے تو اپنی مرضی چلانے پر اصرار کیا جائے۔ لاہور میں اولمپک ہائوس پر دھاوا بولنے کی اطلاعات درست نہیں، وزارت بین الصوبائی رابطہ کی ہدایت پر سرکاری دفتر کا چارج منتخب باڈی کے حوالے کرنے کے لئے صرف 4افراد گئے تھے، وہاں موجود چند ملازمین نے بتایا کہ گزشتہ عہدیدار ایک ماہ قبل ہی یہاں سے سامان لے کر غائب ہوگئے تھے، تمام کام آئین کے مطابق کئے گئے۔

محمود نوید
پی اواے کے انتخابات شفاف انداز میں ہوئے، منتخب باڈی نے قومی سطح کے کھیلوں کا کامیاب انعقاد کرکے ثابت کردیا کہ نہ صرف ملکی فیڈریشنز ان کے ساتھ ہیں بلکہ وہ سپورٹس کے امور چلانے کی بھی اہلیت رکھتے ہیں، پنجاب سے 450کھلاڑؤں کا دستہ گیمز میں شریک ہوا، صوبہ بھر کی ایسوسی ایشنز نے بھرپور تعاون سے اؤنٹ کی رونقیں بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا،اپنا دستہ تشکیل دینے سے قبل ہم نے صوبہ بھر میں ٹرائلز اور تربیتی کیمپس کے ذریعے میرٹ پر ٹیموں کا انتخاب کیا، شب و روز محنت کا نتیجہ تھا کہ کھلاڑؤں نے پورے جذبہ سے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا، آرمی اور ایئر فورس جیسے مضبوط ؤنٹس کے بعد ہماری پرفارمنس سب سے بہتر رہی، اتھلیٹس نے مجموعی طور پر 12گولڈ میڈل گلے کا ہار بنائے،

میدانوں کی رونقیں بحال کرنے کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رکھیں گے، دوسری طرف خواجہ ادریس پنجاب کے کھلاڑؤں کی فلاح بہبود کے سب سے بڑے دعویدار ہیں لیکن صدر شاہد علی بھی ان کا ساتھ نہیں دے رہے، بار بار جھوٹ بولنے سے کوئی بات سچی نہیںہوجاتی، آئین کے تحت اکرم ساہی کی سربراہی میں کام کرنے والی پی او اے کو ہی پاکستان میں کھیلوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور انٹر نیشنل سطح پر ملک کی نمائندگی کا حق حاصل ہے،انہوں نے سپورٹس کو نئی سمت میں لے جانے کا حوصلہ دیاہے، سکولوں کالجوں میں کھیلوں کے فروغ کے لئے جامع پالیسی بناکر نیا ٹیلنٹ تلاش کریں گے، اصل حقائق سامنے آنے پر عالمی تنظیمیں بھی ہمارا موقف تسلیم کریں گی۔

پی او اے تنازع پر ایک نظر
پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کا قیام 1948ء میں عمل میں لایا گیا، چیف پیٹرن قائداعظم تھے، انہوں نے ہی اولمپکس گیمز میں شرکت کے لئے ملک کا پہلا دستہ روانہ کیا،متعدد فیڈریشنز کا پی او اے کے ساتھ الحاق ہے، اولمپکس کامن ویلتھ، ایشین گیمز میں کھلاڑی اسی کے بینر تلے شرکت کرتے ہیں ، گرانٹ بھی آئی او سی کی طرف سے ملتی ہے۔

دوسری طرف پاکستان سپورٹس بورڈ 1962ء میں تشکیل دیاگیا، مقصد کھیلوں کے فروغ کے لئے انفرا سٹرکچر بنانا اور مختلف ؤنٹس کی مالی مدد کرنے کے لئے نظام وضع کرناتھا، اس وقت کئی فیڈریشنز پی ایس بی کے ساتھ بھی منسلک ہیں۔ دونوں تنظیموں میں اختیارات کے لئے کھینچا تانی کئی تنازعات کا سبب بنتی ہے، بین الاقوامی سطح کے بیشتر میگا اؤنٹ آئی او سی کے تحت ہوتے ہیں جبکہ دیگر انٹر نیشنل سپورٹس فیڈریشنز بھی اسی کے چارٹر کے مطابق اپنی پالیسیاں تشکیل دیتی ہیں۔

پاکستان میں سپورٹس پالیسی 2005 میں بنائی گئی تھی لیکن کئی سال تک اس پر عمل درآمد ممکن نہ ہوسکا، بعدازاں عدالتی چارہ جوئی کے بعد فیصلہ سپورٹس بورڈ کے حق میں ہوا جس کے تحت قرار دیا گیا کہ کسی بھی کھیلوں کی تنظیم میں کوئی عہدیدار 2 سے زیادہ ٹرم کے لئے اختیار اپنے پاس نہیں رکھ سکتا۔دریں اثناء جنرل (ر) سید عارف حسن، پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر قاسم ضیاء اور اتھلیٹک فیڈریشن کے صدر جنرل(ر)اکرم ساہی کو شکست دے کر تیسری بار پی او اے کے صدر منتخب ہوئے، چند روز میں ہی ناکام امیدواروں کے اس موقف میں شدت آگئی کہ سپورٹس پالیسی پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں وہ ایک مرتبہ پھر عہدہ سنبھالنے کے اہل نہیں رہے، دوسری طرف عارف حسن کا کہنا تھا کہ پی او اے کسی داخلی پالیسی نہیں بلکہ آئی او سی چارٹر کے مطابق معاملات چلانے کی پابند ہے، سپورٹس بورڈ سے فنڈز نہیں لیتے تو اس کی پالیسؤں پر عمل درآمد کؤں کریں؟

اس صورتحال میں انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے پاکستان میں کھیلوں کے نظام اور فیڈریشنز میں مداخلت، سیاسی اثرو رسوخ سے عہدیداروں کی نامزدگی اور انتخاب کا نوٹس لیتے ہوئے وارننگ جاری کی کہ لندن اولمپکس 2012سے قبل سپورٹس پالیسی میں متنازع شقوں کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ تنظیموں کی آزادانہ اور خود مختار حیثیت بر قرار رکھنے کا طرز عمل اپنایا جائے۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی درخواست پر ڈیڈ لائن میںتوسیع کرتے ہوئے کھلاڑؤں کو لندن گیمز میں ملکی نمائندگی کی اجازت دید ی گئی، تاہم بعد ازاں اس ضمن میں کوئی مثبت پیش رفت نہ دیکھتے ہوئے آئی اوسی نے ایک بار پھر 31 اگست تک کی مہلت دیتے ہوئے سخت اقدامات کرنے کا اشارہ دیا، کھیلوں کی انٹرنیشنل باڈی کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کی داخلی پالیسیاں ایسی نہیں ہونا چاہئیں کہ سپورٹس سے وابستہ تنظیموں کی آزادانہ حیثیت پر قدغن لگے،



آئی او سی کی طرف سے تحریر کئے گئے ایک اور خط میں 15 ستمبر تک کی ڈیڈلائن دیتے ہوئے کہا گیا کہ کئی امور حل طلب ہونے کے باوجود کوئی ایسا نا خوشگوار فیصلہ نہیں کرنا چاہتے جس سے ملک میں کھیلوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے، اس لیے معاملات درست کرنے کے لئے دیئے گئے وقت میں توسیع کی جارہی ہے، امید ہے کہ حکام فوری فیصلے کرکے تفصیلات بھجوائیں گے، بصورت دیگر پی او اے کو معطل کرکے دنیا کی دیگر فیڈریشنز کو بھی بائیکاٹ کرنے کا پابند کردیاجائے گا اور کھلاڑی ملکی پرچم کے بجائے آئی او سی کے بینر تلے اؤنٹس میں شرکت پر مجبور ہوں گے۔

آئی او سی کی دھمکؤں کے باوجود دونوں دھڑوں کے عہدیدار افہام و تفہیم سے کوئی قابل قبول حل تلاش کرنے کے بجائے بدستور اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہے، پاکستان سپورٹس بورڈ کے اجلاس میں پی او اے پر ایڈہاک لگانے اورلاہور میں ہونے والے نیشنل گیمزکو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے ان کا دوبارہ اسلام آباد میں انعقاد کرانے کا فیصلہ کیا گیا، عارف حسن گروپ کی عدالتی چارہ جوئی کے بعد مقابلوں کے لئے نیشنل گیمز کا نام استعمال کرنے سے روک دیا گیا، 7 رکنی ایڈہاک کمیٹی کے تحت الیکشن میں جنرل (ر) اکرم ساہی کی سربراہی میں نئی باڈی تشکیل پائی۔

دوسری عارف حسن گروپ کے عہدیدار اس موقف پر قائم رہے کہ نومنتخب سیٹ اپ کی انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی نظروں میں کوئی آئینی حیثیت نہیں، 15فروری 2013کو لوزین میں ہونے والے اجلاس میں آئی اوسی کے پاکستان میں ممبر سید شاہد علی اور پی او اے کے صدر عارف حسن ریکارڈ سمیت پیش ہوئے لیکن متنازعہ صورتحال جوں کی تو رہی،اختیارات کی کھینچا تانی کے سبب کھیلوں کی متعدد فیڈریشنز کی طرف سے غیرملکی دوروں کے سلسلے میں پاکستان سپورٹس بورڈ سے اجازت اور مطلوبہ فنڈز نہ ملنے کی شکایات عام رہیں، 20ویں کامن ویلتھ گیمز میں قومی ہاکی ٹیم کی شمولیت کھٹائی میں پڑ گئی، پی ایچ ایف نے 21 جولائی کی ڈیڈ لائن گزرجانے کے باوجود عارف حسن گروپ کی پی او اے کو اپنی شرکت کی تصدیق کرنے کے بجائے اصرار کیا کہ پاکستان سپورٹس بورڈ سے ہی این او سی لیں گے، پی ایچ ایف کے صدر قاسم ضیا کا کہنا تھا کہ ہمارا الحاق پی ایس بی سے ہے۔

لہٰذا سپورٹس بورڈ جو کہے گا وہی کریں گے۔ عارف حسن نے کامن ویلتھ گیمز کے منتظمین کو ڈیڈ لائن میں توسیع پر قائل کر لیا تو بھی کوئی فائدہ نہ ہوا کؤنکہ اکرم ساہی گروپ نے اپنے طور پر مختلف کھیلوں میں شرکت کے لئے نام بھجوادیئے، یہی صورتحال ونٹر اولمپکس میں شرکت کے معاملے میں بھی درپیش رہی، 22 ستمبر سے انڈونیشیا میں شروع ہونے والی تیسری اسلامک سالیڈیرٹی گیمز میں بھی دونوں دھڑوں نے اپنے اپنے دستے بھجوانے کی کوشش جاری رکھی لیکن ایک بار پھر مقابلوں کی تیاری کے بجائے توانائی ملک کی نمائندگی کا حق جتانے پر صرف ہوئی،عارف حسن گروپ کی طرف سے بھجوائے جانے والے کھلاڑؤں کو لاہور ایئر پورٹ پر روک لیا گیا، اس صورتحال میں آئی او سی کے لوزین میں ہونے والے اجلاس کے دوران پہلی بار عارف حسن کے ساتھ حکومتی نمائندے اور اکرم ساہی کا موقف بھی سنا گیا،

اعلامیہ کے مطابق عالمی باڈی 2دسمبر تک حقیقی ملکی سپورٹس فیڈریشنز کا تعین کر کے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دے گی۔ دونوں متوازی دھڑوں کا دعوٰی ہے کہ ان کا موقف تسلیم کرلیا گیا، فیصلہ کن رائونڈ کے بعد نتیجہ ان کے حق میں ہی ہوگا اور انہیں انٹرنیشنل سطح پر ملک کی نمائندگی کا پروانہ جاری ہوجائے گا۔

پی او اے تنازع کے حوالے سے بات چیت کے لئے دونوں دھڑوں کو ''ایکسپریس''فورم میں الگ الگ بلا کر اظہار خیال کی دعوت دی گئی،اس موقع پر کی جانے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

مقبول خبریں