تین دواؤں کے ملاپ سے مہلک اور لاعلاج ٹی بی کے خلاف بڑی کامیابی

ان آزمائشوں کے دوران انتہائی خطرناک، سخت جان اور مہلک ٹی بی کے 90 فیصد مریض صحت یاب ہوگئے


ویب ڈیسک March 06, 2020
ان آزمائشوں کے دوران انتہائی خطرناک، سخت جان اور مہلک ٹی بی کے 90 فیصد مریض صحت یاب ہوگئے (فوٹو: انٹرنیٹ)

COLOMBO: جنوبی افریقہ میں کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ انتہائی سخت جان تپِ دق (ٹی بی) کے مریضوں کو اس مرض کی تین دوائیں ایک ساتھ، روزانہ چھ ماہ تک دی جائیں تو ان میں صحت یابی کا امکان 90 فیصد تک ہوتا ہے۔

نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی ماہرین کی ایک ٹیم نے جنوبی افریقہ میں سخت جان ٹی بی کے 109 مریضوں پر تین دواؤں کے ملاپ کا نسخہ بڑی کامیابی سے آزمایا ہے۔ ان میں سے 98 مریض مکمل شفایاب ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ ''سخت جان تپِ دق'' سے مراد، ٹی بی کی وہ اقسام ہیں جن پر اس مرض کی مؤثر ترین دوا کا کوئی اثر نہیں ہوتا، یا پھر ٹی بی کی ایک سے زیادہ دوائیں بھی ان کے خلاف ناکام رہتی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق، ہر سال ایک کروڑ افراد ٹی بی میں مبتلا ہوتے ہیں جن میں سے 15 لاکھ لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ویسے تو عام طور پر ٹی بی کا علاج اس کی موجودہ معیاری دواؤں سے ہوجاتا ہے لیکن اگر اس معاملے میں احتیاط نہ برتی جائے اور دوا کا کورس پورا نہ کیا جائے تو پھر اس بیماری کی کوئی زیادہ خطرناک شکل حملہ آور ہوجاتی ہے، جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے۔

تشویشناک بات یہ ہے کہ سخت جان ٹی بی کے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا ہے، جس کے چار لاکھ مریض 2018ء میں سامنے آچکے تھے۔ ان میں سے بھی کچھ مریض ایسے ہیں جو انتہائی شدید نوعیت کی ٹی بی کا شکار ہوتے ہیں جن پر اس موذی مرض کی کوئی بھی دوا کارگر ثابت نہیں ہوتی۔

جنوبی افریقہ کے مذکورہ مطالعے میں بھی شدید ترین ٹی بی میں مبتلا افراد شریک کیے گئے تھے جنہیں روایتی، جدید اور ایک سے زیادہ دواؤں سے بھی کوئی افاقہ نہیں ہورہا تھا۔ ان مریضوں کو بیڈاکوئیلین، لائنیزولڈ اور پریٹومینڈ نامی تین دواؤں کی ایک ایک گولی روزانہ، چھ ماہ تک دی گئی۔ ان میں سے پہلی دو دوائیں سخت جان ٹی بی کے خلاف پہلے ہی برسوں سے استعمال ہورہی ہیں جبکہ تیسری دوا حال ہی میں استعمال میں آنا شروع ہوئی ہے۔

شدید ترین ٹی بی کے علاج میں یہ کامیابی بلاشبہ غیرمعمولی ہے لیکن مسلسل چھ ماہ تک ان دواؤں کا خرچہ 1000 ڈالر (ڈیڑھ لاکھ پاکستانی روپے) سے بھی زیادہ ہے جسے کوئی بھی غریب گھرانہ برداشت نہیں کرسکتا۔ ممکن ہے کہ اس مقصد کے لیے کچھ عالمی ادارے تعاون کریں اور یہ مہنگا علاج بھی غریب گھرانوں کی پہنچ میں آسکے۔