عراق 18 شہری اغوا کے بعد قتل دیگر واقعات میں مزید 33 ہلاک

ترمیاح میں فوجی وردی میں ملبوس دہشتگردوں نے 18افراد کو اغوا کے بعد گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔


AFP November 30, 2013
صلاح الدین میں 7مزدورذبح، فوجی افسر، 4 پولیس اہلکار، 4 قبائلی سربراہان بھی قتل. فوٹو:فائل

عراق میں خوں ریزی کا سلسلہ جمعے کو بھی جاری رہا، پر تشدد واقعات میں51 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

دارالحکومت بغداد کے مختلف علاقوں سے 18افراد کو اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا، حکام نے کارروائیوں کے پیچھے القاعدہ کا ہاتھ قرار دیا ہے، اس طرح ایک ماہ کے دوران ایسے واقعات میں 600 افراد لقمہ اجل بن گئے، عراقی حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کے اغوا اور قتل میں القاعدہ ملوث ہے۔ جمعے کی صبح بغداد کے سنی اکثریتی علاقے ترمیاح میں فوجی وردی میں ملبوس دہشت گردوں نے مختلف گھروں سے18لوگوں کو اٹھایا اور یہ کہہ کر انھیں فوجی گاڑیوں میں ڈال کر ساتھ لے گئے کہ ان سے کچھ کیسز میں پوچھ گچھ کرنی ہے۔



چند گھنٹے بعد ان لوگوںکی لاشیں مشہدہ اور ترمیہ نامی قصبوں کے کھیتوں سے ملیں جن کے سر اور سینے پر گولیاں ماری گئی تھیں، مقتولین میں فوج کا میجر، 4 پولیس اہلکار، 4 قبائلی سربراہان بھی شامل ہیں۔ صوبہ صلاح الدین میں بھی 7 افراد کو اغوا کے بعد قتل کردیا گیا، مغوی مقتولین ایک فٹ بال گرائونڈ کے مزدور تھے جو کھیل کے میدان کی صفائی ستھرائی پر مامور تھے، ان ساتوں افراد کے گلے کاٹ دیے گئے۔ مشرقی بغداد میں بھی 3 خواتین کو اسی طرح قتل کردیا گیا، ان خواتین پر شدید تشدد کیا گیا تھا جن کو بعد میں سر پر گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔ دریں اثنا جمعے کو بغداد، موصل، بعقوبہ اور کرکوک میں مختلف حملوں میں 23 افراد ہلاک ہوگئے، ان میں ایک واقعہ بغداد کے فٹبال گرائونڈ میں بم دھماکا بھی ہے جس میں 5 افراد مارے گئے، دارالحکومت بغداد میں فائرنگ سے 6 افراد قتل کردیے گئے۔