ایران مان گیا، اب کبھی آبنائے ہرمز بند نہیں کرے گا؛ نیٹو کاغذی شیر ہیں؛ ٹرمپ

ٹرمپ نے سعودیہ، امارات اور قطر کا بھی خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی مدد اور بہادری کو سراہا


ویب ڈیسک April 17, 2026
ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو ممالک کو بزدل اور کاغذی شیر قرار دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر آبنائے ہرمز کے کھلنے کے بعد سلسلہ وار بیانات جاری کیے ہیں جن میں نیٹو کو تنقید کا نشانہ بنایا اور متعدد اہم اعلانات کیے ہیں۔

اپنی ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کے B-2 بمبار طیاروں کے ایران پر حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والا تمام “جوہری ملبہ” (Nuclear Dust) امریکہ خود حاصل کرے گا اور اس کے بدلے کوئی مالی لین دین نہیں ہوگا۔

امریکی صدر نے ایک اور پوسٹ میں واضح کیا کہ امریکہ لبنان کے ساتھ علیحدہ طور پر کام کرے گا اور حزب اللہ کے معاملے کو مناسب طریقے سے ہینڈل کیا جائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کو لبنان پر مزید حملوں سے روک دیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی ایک تازہ پوسٹ میں نیٹو پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کا معاملہ ختم ہونے کے بعد نیٹو کے ایک عہدیدار نے مجھے کال کی اور مدد کی پیشکش کی۔

امریکی صدر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں نے نیٹو کی اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر صرف تیل لے جانے کے لیے آنا چاہتے ہیں تو آئیں، ورنہ دور رہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنی اس پوسٹ میں نیٹو کو کاغذی شیر بھی قرار دیا جیسا کہ وہ ایران جنگ کی ابتدا سے نیٹو کی جانب سے تعاون اور مدد نہ کرنے پر کہتے آئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کا بھی خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی مدد اور بہادری کو سراہا۔ تاہم یہ نہیں بتایا کہ اس مدد سے کیا مراد کیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ ایران اپنی سمندر میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں امریکا کی مدد سے ہٹایا ہے جس سے بحری راستے محفوظ ہو رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک پوسٹ میں یہ بھی انکشاف کیا کہ ایران نے یہ بات مان لی ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کبھی بند نہیں کی جائے گی اور اسے دنیا کے خلاف بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جائے گا۔ امریکا بھی اس بات کو یقینی بنائے گا کہ یہ آبی گزرگاہ ہمیشہ کھلی رہے۔

اپنے بیانات کے اختتام پر ٹرمپ نے آج کے دن کو دنیا کے لیے عظیم اور شاندار دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت عالمی امن اور استحکام کے لیے اہم ہے۔