فوجی کمان کی تبدیلی کی پروقار تقریب

فوجی کمان کی تبدیلی کی پروقار تقریب میں جنرل راحیل شریف نے پاک فوج کی کمان سنبھال لی۔


Editorial December 01, 2013
جنرل اشفاق پرویز کیانی کا چھ سالہ دور بلاشبہ ملک کے لیے بھی اور پاک فوج کے لیے بھی انتہائی کٹھن عرصہ تھا۔ فوٹو؛ اے ایف پی/فائل

MELBOURNE: آرمی ہاکی اسٹیڈیم راولپنڈی میں جمعہ کو فوجی کمان کی تبدیلی کی پروقار تقریب میں جنرل راحیل شریف نے پاک فوج کی کمان سنبھال لی۔ سبکدوش ہونے والے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے پاک فوج کی کمان کی علامت 'ملاکا چھڑی' نئے آرمی چیف کے حوالے کی جس کے بعد پاک فوج کے چاک و چوبند دستوں نے انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔ سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے چینج آف کمان کی تقریب سے خطاب میں پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کی قربانیوں کو زبردست خراج پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کی سب سے باوقار فوج کی 6 سال تک کمان سنبھالنا ان کے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے۔ انھوں نے توقع ظاہر کی کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کی قیادت میں پاک فوج کامیابیوں کا تسلسل جاری رکھے گی اور اس کی پیشہ ورانہ مہارت میں اضافہ ہو گا۔

جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ پاک فوج ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ پاک فوج پوری قوم کی مدد سے گزشتہ دس برسوں سے دہشت گردی کی لعنت کے خلاف برسرپیکار ہے، دشوار گزار اور دور افتادہ علاقوں میں امن کی بحالی کے لیے پاک فوج کے افسروں اور جوانوں نے بے مثال قربانیاں دیں۔ انھوں نے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء ملک اور قوم کا قیمتی اثاثہ تھے۔ انھوں نے کہا کہ پاک فوج نے گزشتہ66 برسوں سے کامیابی سے ملک کا دفاع کیا ہے، قدرتی آفات ہوں یا دیگر خطرات پاک فوج نے ہمیشہ ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے۔ نئے آرمی چیف کے حوالے سے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے توقع ظاہر کی کہ جنرل راحیل شریف کی زیر قیادت پاک فوج کامیابیوں کا تسلسل جاری رکھے گی اور اس کی پیشہ ورانہ مہارت میں اضافہ ہو گا۔

جنرل اشفاق پرویز کیانی کا چھ سالہ دور بلاشبہ ملک کے لیے بھی اور پاک فوج کے لیے بھی انتہائی کٹھن عرصہ تھا۔ ملک کے اندر ایک طرف دہشت گری تھی جو وسیع پیمانے پر تباہی اور بربادی پھیلا رہی تھی، ادھر بعض مذہبی ا ور سیاسی جماعتیں اور شخصیات قوم میں نظریاتی تفریق کا باعث بھی بن رہی تھیں، سوات میں دہشت گردوں نے عملی طور پر اپنا اقتدار قائم کر لیا تھا، دوسری طرف فاٹا میں جنوبی وزیرستان میں بھی عملاً طالبان کی حکومت قائم ہو گئی تھی۔ اس وقت طالبان کی سربراہی بیت اللہ محسود کر رہا تھا۔ حکومت اور ریاست بے بس تھے۔ ایسے انتہائی نازک حالات میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کی قیادت میں پاک فوج نے سوات میں کامیاب آپریشن کیا اور دہشت گردوں سے تمام علاقہ خالی کرا لیا اور وہاں امن و امان قائم کرنے میں حکومت کی مدد کی۔ اس کے ساتھ ہی جنوبی وزیرستان میں بھی آپریشن کیا گیا۔ اس وقت حالت یہ تھی کہ طالبان سراروغہ سے ہوتے ہوئے جنڈولہ تک پہنچ چکے تھے، وہاں انھوں نے اپنے تھانے قائم کر لیے تھے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ فاٹا سے باہر نکل کر اپنااثر ایف آر ٹانک تک پھیلانے والے تھے، پاک فوج نے ملک میں جمہوریت قائم کرنے اور اسے استحکام دینے میں بھی جنرل اشفاق پرویز کیانی نے تاریخ ساز کردار ادا کیا۔ اس تمام کٹھن دور میں کئی ا۔یسے مواقع آئے جب محسوس ہوتا تھا کہ شاید فوج کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا ہے مگر انھوں نے بڑے حوصلے اور دانش مندی سے صورت حال کو سنبھالا۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے دور میں ملک پر خارجی خطرات بھی منڈلاتے رہے تھے۔ کشمیر کی لائن آف کنٹرول اور سیالکوٹ کی ورکنگ باونڈری پر بھارت کی اشتعال انگیزیاں جاری رہیں لیکن جنرل کیانی نے ان اشتعال انگیزیوں کا موثر جواب دیا مگر اس کے ساتھ ہی بھارت کے ساتھ جنگ میں الجھنے سے گریز بھی کیا۔ سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو حملے پر پاک فوج کا شدید رد عمل فطری تھا جس کے جواب میں حکومت نے نیٹو سپلائی معطل کر دی تھی۔ اس دوران دہشت گردوں کی طرف سے فوج کی اہم تنصیبات پر نہایت خطرناک حملے بھی ہوئے، ان میں جی ایچ کیو، مہران بیس اور کامرہ وغیرہ پر ہونے والے حملے بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ ان افسوسناک واقعات میں بیرونی ریشہ دوانیاں بھی شامل تھیں مگر جنرل اشفاق پرویزکیانی اور پاک فوج ان تمام کٹھن امتحانات سے سرخرو ہو کر نکلے۔

اگرچہ نئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے لیے بھی بہت بڑے بڑے چیلنجز موجود ہیں مگر یہ ماننا پڑے گا کہ جنرل کیانی اپنے جانشین کو خاصے بہتر حالات ورثے میں دے کر جا رہے ہیں۔ دہشت گرد کسی حد تک ناکام ہو چکے ہیں لیکن پھر بھی انھیں کمزور نہیں سمجھنا چاہیے۔ حکیم اللہ محسود کی موت کے بعد فی الحال طالبان خاموش ہیں، اب ان کی سربراہی مولوی فضل اللہ کے پاس ہے۔ یہ وہی فضل اللہ ہے جس کے خلاف پاک فوج نے سوات میں آپریشن کیا تھا۔ فضل اللہ اور اس کے قریبی ساتھیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ افغانستان میں مقیم ہیں۔ یہ لوگ کسی بھی وقت پاکستان میں کارروائی کر سکتے ہیں۔ اھر اندرون ملک بھی مختلف دہشت گرد گروپوں کا نیٹ ورک موجود ہے۔ انھیں اسی وقت زیر نگیںکیا جا سکتا ہے جب پاک فوج اور حکومت ایک پچ پر ہوں۔ بہرحال پاک فوج نے اب تک دہشت گردوں کے خلاف لڑائی میں جو کردار ادا کی ہے۔ قوم کو اس پر فخر ہے اور قوم کو توقع ہے کہ نئے آرمی چیف ہر قسم کے چیلنجوں سے عہدہ برآ ہونے کی بدرجہ اتم صلاحیت رکھتے ہیں۔