بلدیاتی الیکشن لازمی کروائے جائیں

ایک بار پھر الیکشن کمیشن اپنے اعلان کے مطابق پنجاب اورسندھ میں بلدیاتی انتخابات کاشیڈول جاری نہ کرسکا


Editorial December 01, 2013
ایک بار پھر الیکشن کمیشن اپنے اعلان کے مطابق پنجاب اورسندھ میں بلدیاتی انتخابات کاشیڈول جاری نہ کرسکا۔ فوٹو: فائل

KARACHI: ملک بھرکے عوام سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے بعد یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ان کے مسائل کے حل کے لیے بلدیاتی الیکشن کا انعقاد بس ہوا ہی چا ہتا ہے، لیکن ایک بار پھر الیکشن کمیشن اپنے اعلان کے مطابق پنجاب اورسندھ میں بلدیاتی انتخابات کاشیڈول جاری نہ کرسکا، پنجاب نے حلقہ بندیاں مکمل کرنے کے لیے کمیشن سے پانچ دسمبر تک کی مہلت، جب کہ حکومت سندھ نے انتخابی ایکٹ کمیشن میں گو کہ شیڈول پیش کیا لیکن حلقہ بندیاں اور انتخابی قواعد مکمل نہیں کیے جاسکے اور دونوں صوبوں کی جانب سے تاخیرکے باعث مجوزہ شیڈول کے تحت انتخابات کا انعقاد ممکن نظر نہیں آرہا تاہم ملک میں جمہوریت اور جمہوری ادارے بتدریج مضبوط ہورہے ہیں تمام امورجمہوری انداز سے چل بھی رہے ہیں، ایک کمی جو پچھلے جمہوری دور میں بہت زیادہ محسوس کی گئی وہ تھا بلدیاتی انتخابات کا نہ ہونا،جس کے باعث عوام کے بنیادی مسائل حل نہ ہوسکے۔

کراچی ،لاہور، پشاور، کوئٹہ سمیت دیگرشہروں قصبوں اور دیہاتوں میں صورتحال اس حد تک ابتر ہوچکی ہے کہ عوام کے روزمرہ معمولات تک متاثر ہورہے ہیں ، اور عوام حیراں وپریشاں ہیں کہ کس در پر فریاد لے کر جائیں ۔شاید یہی ایک دوری عوام سے، سابق جمہوری حکومت کی شکست کی وجہ بھی بنی ۔اب ایک بارپھر نومنتخب صوبائی جمہوری حکومتوں کا لیت ولعل سے کام لینا عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محرم رکھنے کے مترادف ہے ،کیونکہ عوام کے دیرینہ حل طلب مسائل جوں کا توں ہیں بلکہ ان میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے ، سڑکیں ، سیوریج ، اسٹریٹ لائٹس، پینے کے پانی ،صحت عامہ کی سہولتوں کی عدم دستیابی سے عوام اذیت کا شکار ہوچکے ہیں ان کے روزمرہ مسائل حل نہ ہونے کی کوئی امید فی الحال نظر نہیں آرہی ، حکومت سمیت تمام سیاسی جماعتوںکو جمہوریت کو گراس روٹ لیول پر مستحکم کرنے کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کرنے چاہئیں اور بہانے بازی کی روایتی سیاست سے گریز کرتے ہوئے جمہوریت کے ثمرات عوم تک پہنچانے میں بنیادی اورکلیدی کردار ادا کرنا چاہیے۔