پاک بھارت خدمات کا تبادلہ دونوں کی ترقی کا ضامن قرار

آئی ٹی، ہیلتھ کیئر، بزنس پراسیس آؤٹ سورسنگ، انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں وسیع مواقع موجود ہیں.


Business Reporter/Kashif Hussain December 02, 2013
پاک بھارت ٹریڈ پراجیکٹ ماہرین کی اپنے ورکنگ پیپر میں دونوں ممالک کے پوٹینشل کی نشاندہی۔ فوٹو : فائل

NEW YORK: اشیا کی طرح خدمات کے شعبے میں بھی پاک بھارت تجارت اور مشترکہ سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، پاکستان اور بھارت آئی ٹی، ہیلتھ کیئر، بزنس پراسیس آئوٹ سورسنگ اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں خدمات کا تبادلہ کرکے قومی پیداوار اور معاشی نمو میں خدمات کے شعبے کا حصہ بڑھاسکتے ہیں۔

پاک بھارت ٹریڈ پراجیکٹ پر کام کرنے والے معاشی ماہرین نے ستمبر 2013 میں اپنے ایک ورکنگ پیپر میں دونوں ملکوں کے سروس سیکٹر میں موجود پوٹینشل کی نشاندہی کرتے ہوئے اسے دونوں ملکوں کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اہم ذریعہ قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں ملکوں کی ٹریڈ مین سروس سیکٹر کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے 2011-12کے دوران بھارت کی جی ڈی پی میں سروس سیکٹر کا حصہ 59 فیصد جبکہ پاکستانی جی ڈی پی میں 54فیصد رہا۔ ماہرین نے تین بنیادی شعبوں کو سروس کی ٹریڈ بڑھانے اور مشترکہ منصوبوں کے لیے آئیڈیل قرار دیا جن میں آئی ٹٰی، ہیلتھ کیئر اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹری شامل ہیں۔ بھارت کے آئی ٹی اور بزنس پراسیس آئوٹ سورسنگ سیکٹر کا ریونیو 90ارب ڈالر سے زائد ہے جبکہ 2011-12 کے دوران سافٹ ویئر کی ایکسپورٹ 70ارب ڈالر سے زائد رہی ایک سال کے دوران بھارت کی سافٹ ویئر ایکسپورٹ میں 10ارب ڈالر تک کا اضافہ ہوا ہے جو پاکستان کی مجموعی برآمدات میں ایک سال کے دوران ہونے والے اضافے سے کئی گنا زائد ہے۔



بھارت میں سافٹ ویئر ایکسپورٹ کا شعبہ آئی ٹی انڈسٹری پر غالب ہے اور انڈسٹری کا 80فیصد تک ریونیو سافٹ ویئر ایکسپورٹ سے کمایا جاتا ہے بھارت کی انڈسٹری ایپلی کیشن ڈیولپمنٹ سے مینٹی نینس تک تمام مراحل میں مکمل خدمات فراہم کرتی ہے جن میں ٹیسٹنگ سے لے کر انفرااسٹرکچر سروسز، کنسلٹنگ اور سسٹم انٹی گریشن شامل ہیں پاکستان میں آئی ٹی انڈسٹری بہت تیزی سے ترقی کررہی ہے پاکستان سے آئی ٹی کی ایکسپورٹ میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

پاکستانی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق گزشتہ پانچ سال کے دوران پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر کی مجموعی ایکسپورٹ 1.25ارب ڈالر رہی ہے مالی سال 2008-09کے دوران پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹ 201.903ملین ڈالر تھی جو مالی سال 2012-13تک بڑھ کر 333.511ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے مالی سال 2013-14سے 2017-18تک آئی ٹی سیکٹر سے ایکسپورٹ کا ہدف 3.8 ارب ڈالر مقرر کیا ہے جس کے تحت 2013-14 میں ایکسپورٹ 414.389ملین ڈالر سے 2017-18 تک 1.30ارب ڈالر تک بڑھائی جائیگی پاک انڈیا ٹریڈ ماہرین کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان آئی ٹی کے شعبے میں مشترک منصوبوں کے وسیع مواقع موجود ہیں اور دونوں ممالک اپنی افرادی صلاحیت سے ایک دوسرے کی مدد سے بھرپور فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔

مقبول خبریں