ڈالر کی حکمرانی کا خاتمہ عالمی تصادم کا خطرہ بڑھ رہا ہے

عالمی معیشت 1929میں ہونے والی عالمی کساد بازاری جیسی صورتحال کی جانب بڑہ رہی ہے


Irshad Ansari April 22, 2020

کورونا کی معاشی تباہ کاریاں عالمی منظر نامے پر بری طرح اثرانداز ہو رہی ہیں۔ عالمی معیشت 1929میں ہونے والی عالمی کساد بازاری جیسی صورتحال کی جانب بڑہ رہی ہے۔ جاپان کی حکومت نے ملک میں ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ہے۔ تمام عالمی مالیاتی ادارے گرتی ہوئی عالمی معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے سر جوڑے بیٹھے ہیں۔

غریب و پسماندہ ممالک کے قرضوں کی ادائیگیاں موخر کی گئی ہیں مگر حالات فی الحال سنبھلتے دکھائی نہیں دے رہے جس کی جھلک عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں خطرناک حد تک کمی کی صورت میں دکھائی دے رہی ہے جبکہ امریکہ میں توخام تیل کی مارکیٹ کریش کرگئی ہے۔ یہی صورتحال دوسری عالمی منڈیوں کا ہے کیونکہ لاک ڈاون کی وجہ سے پوری دنیا میں معاشی و صنعتی سرگرمیاں بند ہیں۔ ماہرین معیشت کا خیال ہے کہ ان حالات میں جو ملک لاک ڈاون جلد ختم کرے گا وہ اس صورتحال سے فائدہ اُٹھا سکے گا۔ اسی وجہ سے عالمی معاشی ماہرین کورونا سے پیدا ہونیوالی صورتحال میں چین کو امریکہ کیلئے بڑا خطرہ قررا دے رہے ہیں کیونکہ چین میں صنعتی و اقتصادی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوچکی ہیں۔

امریکہ کے لئے اس سے بھی بڑا دھچکا چائنیز کرنسی یوآن کا غیر ملکی زرمبادلہ کی باسکٹ میں شمولیت ہے جوکہ امریکہ ڈاکر اور پیٹرو ڈالر کی بقاء کیلئے بہت بڑا چیلنج ہے۔ دنیا اس صورتحال پر امریکی ردعمل کی منتظر ہے۔ یہ اندیشہ بھی ہے کہ مستقبل میں کوئی بڑی جنگ اورخونریزی جنم لے سکتی ہے کیونکہ ماضی میں پیٹرو ڈالر اور ڈالر کو جس کسی نے بھی چیلنج کرنے کی کوشش کی اسے نشان عبرت بنا دیا گیا، مگر اب پہلی مرتبہ بین القوامی مالیاتی فنڈ نے چائنیز کرنسی 'یوآن' کو غیر ملکی زرمبادلہ کی باسکٹ میں شامل کرکے ڈالر کے مقابلہ میں متبادل گلوبل کرنسی ڈکلیئر کردیا ہے اور یہ ایسے وقت پر ہوا ہے جب آئی ایم ایف کورونا سے متاثر دنیا کے ڈیڑھ سو سے زائد ممالک کی معیشتوں کا جائزہ لے کر انہیں مشکلات سے نکلنے کیلئے بیل آوٹ پیکج دے رہا ہے۔

عالمی معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ جس قدر چین کے پاس تیل اور سونے کے ذخائر موجود ہیں اور جس قدرعالمی منڈی میں چین نے سرمایہ کاری کر رکھی ہے اس سے لگ یہی رہا ہے کہ اگر چین نے مزید کچھ سال ترقی کی یہ رفتار برقرار رکھی تو جلد چائنیز کرنسی عالمی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے برابر آجائے گی جس سے دنیا میں ڈالر کی عالمی برتری ختم ہوجائے گی۔

امریکہ تاریخ کی بد ترین اقتصادی صورتحال سے دوچار ہے اور امریکی معیشت ٹی بلز اور بانڈز کے سہارے کھڑی ہے۔ اس وقت امریکی حکومت ٹی بلز اور بانڈز کی مد میں اٹھارہ کھرب ڈالر کے قرضوں میں جکڑی ہوئی ہے اور پھر جو دنیا بھر میں اپنی عالمی بالادستی برقرار رکھنے کیلئے گولہ بارود کا کھیل کھیلا جا رہا ہے اب وہ امریکہ کے اپنے گلے آن پڑا ہے۔ اس سے امریکہ پر مالی بوجھ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ امریکی قرضوں میں یومیہ بنیادوں پر کروڑوں ڈالر کا اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث ڈالر کمزور ہورہا ہے اور اسکی وجہ سے مستقبل میں ڈالر سرمایہ کاری کا محور نہیں رہے گا۔ ڈالر میں کی جانیوالی سرمایہ کاری کے کریش ہونے کے واضع امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔

اسی تناظر میں علاقائی اور عالمی سطع پر نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں۔ علاقائی سطع پر باہمی تجارت کو فروغ دینے کیلئے ڈالر پر انحصار کم کرکے مقامی کرنسیوں میں تجارت کو بڑھانے کی بات ہو رہی ہے۔ یورو کی طرز پر ایشیا میں بھی تجارت کے نئے انتظامات زیر غور ہیں۔ پچھلے ماہ روس میں بلائے جانے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کا رکن ممالک کو جاری کردہ ایجنڈا بھی یہی ظاہر کرتا تھا اگرچہ یہ اجلاس بھی کورونا کی نذر ہوگیا اور ابھی تک اس اجلاس کے بارے میں کوئی تفصیلات منظر پر نہیں آسکیں کہ آیا ویڈیو لنک کے ذریعئے ہوسکا یا ملتوی کردیا گیا، مگر ایجنڈا یہی تھا کہ چین،روس اور پاکستان سمیت شنگھائی تعاون کی تنظیم کے آٹھ ممبر ممالک نے باہمی تجارت اور سرمایہ کاری ڈالر ،پونڈ کے بجائے مقامی کرنسیوں میں شروع کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔

ماسکو میں بلائے جانیوالے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزاراء خزانہ کے اجلاس میں تنظیم کے رکن ممالک کی تجارت و سرمایہ کاری مقامی کرنسیوں پر شفٹ کرنے کے حوالے سے چین، بھارت، روس، پاکستان،کرغیستان، تاجکستان اور ازبکستان کی جانب سے روڈ میپ طے کرکے دستخط ہونا تھے جبکہ اس سے متعلق تجاویز کو حتمی شکل دے کر مشترکہ اعلامیہ 22 جون کو سینٹ پیٹرز برگ میں ہونیوالے دو روزہ اجلاس میں جاری کیا جائے گا۔

دوسری جانب کورونا سے بدلتے عالمی حالات کے پاکستان کی سیاست اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے لاک ڈاون میں نرمی کے بعد سے کورونا کے متاثرین کی تعداد اور کورونا سے ہونیوالے اموات کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے لیکن اس مشکل وقت میں بھی پاکستان میں سیاست عروج پر ہے اور پچھلے چنددنوں سے وفاقی دارالحکومت پھر سے افواہوں کی زد میں ہے۔ جیسے ہی مقتدر قوتوں کی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو ساتھ ہی قیاس آرائیاں بھی شروع ہو جاتی ہیں۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان ملاقاتوں میں داخلی و خارجی معاملات زیر بحث ہیں۔

خصوصاً افغان بارڈر پر ہونیوالے حالیہ واقعات پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے کیونکہ اس میں اگر داعش ملوث ہے تو یقینی طور پر اسکے پیچھے بھارت ہے اور بھارت کی جانب سے سرحدوں پر کسی قسم کی شرارت کی جاسکتی ہے۔ اگر طالبان کی جانب سے کچھ ہو رہا ہے تو اس صورت میں پھر دوسری حکمت عملی اپنائی جائے گی اورپی ٹی ایم کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے بہر حال جو ہونے جا رہا ہے وہ اگلے چند روز میں سامنے آجائے گا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم کے دیرینہ ساتھیوں سے دوری حکومت کے خاتمے کا اشارہ ہے۔ چینی پرسبسڈی کے الزام کے مقابل دھرنے کی پہلی ہی رات لاکھوں روپے کے اخراجات گنوائے جا رہے ہیں۔

وزیر اعظم کے قریبی لوگوں کا خیال ہے جو لوگ انہیں ہلکا لے رہے ہیں وہ غلط فہمی کا شکار ہیں۔ کپتان کو صورتحال کا بخوبی ادراک ہے۔ مالیاتی سکینڈلز پر اقدامات ایسے ہی نہیں کئے گئے، یہ سب اسی کی پیش بندی ہے جس کے تحت پہلے خسرو بختیار کا قلمدان تبدیل کر کے انہیں جہانگیر ترین سے الگ کیا گیا اور پھر عبد العلیم خان کو سینئر وزیر بنا دیا گیا ہے۔ لیکن پس پردہ ہونے والی تیاریوں سے باخبر لوگ جانتے ہیں کہ سیاسی بساط بچھ چکی ہے اور ہر فریق نے اپنی چال چلنے کے لئے مہرے ترتیب دینا شروع کر دیے ہیں۔

سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کی واپسی، کورونا سے نمٹنے کے بہانے متحرک ہونا اور خواجہ برادران کی اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی سے ملاقات بے وجہ نہیں۔ پھر رانا ثناء اللہ، سردار ایاز صادق اور رانا تنویر کے حکومتی ارکانِ اسمبلی سے رابطوں اور جہانگیر ترین کی جنوبی پنجاب کے ایم پی ایز کے ساتھ خفیہ ملاقاتوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ بعض حلقوں کا خیا ل ہے کہ شاید اگلے مالی سال کا وفاقی بجٹ حکومت کا آخری بجٹ ہو،اس صورتحال میں شاہ مخدوم قریشی کا مزید اہمیت اختیار کرجانا بھی بلاوجہ نہیں۔