پاکستان میں ایف بی آر، سی بی آر و دیگر ٹیکس وصولی کرنے والوں سے کبھی یہ خبر نہیں ملی کہ انھیں ٹیکس وصولی کے جو اہداف دیے گئے تھے وہ پورے ہوئے ہوں اور اکثر کہا یہی جاتا ہے کہ آیندہ مقررہ اہداف پورے کرنے کی کوشش کی جائے گی مگر یہ کوششیں اکثر ناکام ہی ثابت ہوتی آ رہی ہیں۔
مکمل ٹیکس ریکوری کے لیے سینٹرل بورڈ آف ریونیو کا نام تبدیل کرکے ایف بی آر رکھ لیا گیا اور سیاسی وزیر خزانہ کی جگہ غیر سیاسی وزیر خزانہ رکھے گئے اور ناکامی کے بعد عالمی بینک کے متعدد تجربہ کاروں کو بھی بلا کر وزیر خزانہ ہی نہیں بلکہ وزیر اعظم بنایا گیا مگر اہداف کے مکمل حصول اور ٹیکس چوری روکنے کا خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوا۔ پی ٹی آئی حکومت اپنے بڑے دعویدار کو وزیر خزانہ بنا کر اور مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی بھی اپنے حامی کو لائی جو بعد میں پی ٹی آئی حکومت میں بھی وزیر خزانہ بنے مگر مکمل کامیابی کبھی نہیں ملی۔
ہر حکومت میں نئے نئے تجربے ہوئے، ٹیکسوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا مگر شفاف اور کم شرح والا ٹیکس نظام متعارف کرانے کی کبھی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی اور ٹیکسوں کی شرح میں حد سے زیادہ اضافہ سرکاری آمدنی میں اضافے کا باعث نہیں بنا مگر کسی بھی حکومت نے معاشی حقائق اور مارکیٹ صورت حال کو مدنظر رکھ کر ایسے اقدامات نہیں کیے جس سے اہداف مکمل ٹیکس چوری بند اور ٹیکس ایمانداری سے ادا کرنے والوں کی حوصلہ افزائی اور ٹیکس چوری کرنے والوں کی حوصلہ شکنی اور ٹیکس کم کرکے انھیں اعتماد میں لینے پر کبھی توجہ ہی نہیں دی گئی۔
پیپلز پارٹی کو جاگیرداروں اور زمینداروں کی، مسلم لیگ (ن) کو صنعتکاروں اور تاجروں کی حامی جماعت کہا جاتا ہے جب کہ کبھی اقتدار میں نہ رہنے والی پی ٹی آئی کو پہلی بار بڑی بڑی توقعات کے ساتھ اقتدار میں لایا گیا تھا کہ اس کے پاس ایماندار اور تجربہ کاروں کی بہترین ٹیم ہے مگر تینوں پارٹیاں غیر ملکی قرضوں کے حصول پر مجبور اور آئی ایم ایف کی محتاج بنی رہیں جب کہ موجودہ حکومت نے جس طرح آئی ایم ایف کی کڑی شرائط اور خوشامدیں کرکے قرضے لیے اس کا اعتراف حکومت متعدد بار کر چکی ہے اور ملک کافی عشروں سے قرضوں کے اتنے وزنی شکنجوں میں پھنسا ہوا ہے کہ حکومت جان نہیں چھڑا پا رہی مگر امور مملکت چلانے کے لیے مسلسل قرضے لے رہی ہے جس کے نتیجے میں حکومت کی نصف آمدنی سود کی ادائیگی میں جا رہی ہے اور حکومتوں کی بھکاری پالیسی نے ہماری آنے والی نسلوں کو بھی مقروض کر دیا ہے جو دنیا میں آتے ہی مقروض کہلائیں گی۔
ملک کے صنعتکار اور تاجروں نے حکومتوں کو متعدد بار تجاویز دیں کہ وہ ہماری بھی سن لیں تو آمدنی کے اہداف بھی پورے ہوں گے مزید قرض نہیں لینا پڑے گا بلکہ حکومت اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر غیر ملکی قرضے ادا کرنے کے قابل بھی ہو جائے گی۔
حکومت کو ٹیکس بڑھانے نہیں پڑیں گے۔ ان تجاویز کو کبھی کسی بھی حکومت نے قابل اعتماد نہیں سمجھا اور ٹیکس پر ٹیکس بڑھانے میں مصروف رہی جس کی وجہ سے ملک کے تاجر ہوں یا صنعتکار، جاگیردار ہوں یا زمیندار کوئی ٹیکس ادائیگی میں مخلص ہے نہ سنجیدہ۔ انھیں ملک کی بدتر صورتحال، معاشی تباہی سے کوئی سروکار نہیں بلکہ ٹیکس بچانے میں زیادہ دلچسپی ہے اور اس کوشش اور ٹیکس چوری کے طریقے بھی وہی بتاتے ہیں جن پر اہداف وصولی کی ذمے داری عائد ہے۔
ملک میں ہر شخص غریب ہو یا امیر روز مرہ استعمال میں آنے والی ہر چیز پر ٹیکس ادا کر رہا ہے جو عوام کی جیب سے تو نکل رہا ہے مگر کسی کو علم نہیں کہ عوام سے وصول کیے جانے والے یہ ٹیکس مکمل طور قومی خزانے میں جا رہے ہیں یا مذکورہ اشیا بنانے والے اس میں بھی غبن تو نہیں کر رہے کیونکہ یہ وصولی اور چیکنگ بھی ایف بی آر اہلکاروں کی ہے عوام تو سبزی، گوشت، مچھلی، پھلوں اور دیگر چند اشیائے خوردنی کے سوا ہر چیز کی خریداری پر حکومت کو مطلوبہ اور سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرکے بھی حکومت کا الزام برداشت کر رہے ہیں کہ عوام ٹیکس نہیں دیتے۔
عوام ٹیکس نہیں دیتے یا وہ ارکان پارلیمان و اسمبلی جن سے پوچھے بغیر حکومت ٹیکس بڑھا دیتی ہے جس کو توثیق بعد میں اس لیے کر دی جاتی ہے کہ ٹیکسوں کا بوجھ ان پر زیادہ نہیں پڑتا اور حکمران طبقہ سب سے کم ٹیکس ادا کرتا ہے جو غریب ہیں اور ان کی غربت کا ثبوت ان کی طرف سے ہر سال جاری کیے جانے والے گوشوارے ہوتے ہیں۔
کہنے کی حد تک ساٹھ ہزار ماہانہ آمدنی والے پر ٹیکس نہیں کٹتا مگر ذرائع کے مطابق 50 ہزار تنخواہ والوں پر ہی نہیں بلکہ مقررہ کم سے کم معاوضہ یعنی ایک ہزار پر بھی ڈیڑھ سو روپے فی ٹیکس کٹ رہا ہے جب کہ تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ ٹیکس دے رہا ہے۔ ٹیکس اہداف کی وصولی میں ناکام ایف بی آر کے مقابلے میں حکومت کو صرف پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ٹیکس ہی مکمل بلکہ آئی ایم ایف کی شرائط سے بھی زیادہ وصول ہو رہا ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ اور عوام سب سے زیادہ جبری لیوی وصولی کی پٹرولیم مصنوعات خریدنے پر مجبور ہیں۔
محکمہ توانائی اور پٹرولیم کے مقابلے میں پہلی بار ریلوے کے وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا ہے کہ محکمہ کی آمدنی پہلی بار بڑھنے سے ریلوے اپنے پاؤں پر کھڑی ہو گئی ہے۔ محکمہ ریلوے نے ایران امریکا جنگ کے باعث ڈیزل کی جو ہوش ربا قیمتوں کے باعث ریلوے کرائے بڑھائے تھے وہ حکومت کی طرف سے ڈیزل کے نرخوں میں واضح کمی کے باوجود برقرار ہیں۔
محکمہ ریلوے نے اب تک کرایوں میں کمی نہیں کی جب کہ ریلوے کے برعکس پبلک ٹرانسپورٹ اور گڈز ٹرانسپورٹ کی طرف سے صرف 15 فی صد کمی کا اعلان ہوا تھا۔ ٹیکسوں کی وصولی کے اہداف کے پورا نہ ہونے، ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے ملک کو واقعی شفاف اور کم شرح والے ٹیکس نظام کو متعارف کرانے کی فوری ضرورت ہے جو کوئی عوام کا احساس رکھنے والی حکومت ہی یہ ضروری اور تاریخی عوام دوست اقدامات کرا سکتی ہے، مگر بدقسمتی سے تین سالوں میں حکومت ایسا نظام متعارف نہیں کرا سکی کہ جس سے ملک میں ایمانداری سے ٹیکس ادائیگی کا رجحان بڑھے اور شاف اور کم شرح ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ ادائیگی ممکن بنائی جا سکے۔