روپے کے مقابلے میں ڈالر مزید تنزلی کا شکار

انٹربینک میں ڈالر  26 پیسے اور اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 50 پیسے کم ہوئی


ویب ڈیسک May 04, 2020
اپریل 2020 سے ہی انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں تنزلی کا رحجان غالب ہے، ماہرین۔ فوٹو:فائل۔

ISLAMABAD: انٹربینک ریٹ 26 پیسے کی کمی سے 159 روپے 91 پیسے پر بند ہوا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کاروباری ہفتے کے پہلے روز انٹربینک مارکیٹ میں روپے کی نسبت ڈالر کی قدر کو مزید تنزلی کا سامنا رہا، اور ایک ماہ کے وقفے کے بعد انٹربینک میں ڈالر کی قدر 160 روپے سے نیچے آگئی۔ کاروباری دورانیے میں ڈالر کی قدر ایک موقع پر 158 روپے کی سطح پر بھی آئی تاہم اختتامی لمحات میں ریکوری کے سبب ڈالر کے انٹربینک ریٹ 26 پیسے کی کمی سے 159 روپے 91 پیسے پر بند ہوا۔

دوسری جانب اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالرکی قدر میں 50 پیسے کی کمی واقع ہوئی، جس سے اوپن مارکیٹ میں ڈالر 161 روپے سے گھٹ 160 روپے 50 پیسے کی سطح پر بند ہوا۔

اپریل 2020 سے ہی انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں تنزلی کا رحجان غالب ہے اور صرف اپریل میں ڈالر کی قدر میں مجموعی طور پر 3 اشاریہ 91 فیصد کی کمی واقع ہوئی، اور اس مدت میں ڈالر کے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 6 روپے 53 پیسے کم ہوئی، صرف اپریل میں ڈالر کی قدر 166 روپے 70 پیسے سے گھٹ 160 روپے17 پیسے کی سطح پر آئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے کورونا کے لیے 1.38 ارب ڈالر کے منظور شدہ قرض کی گزشتہ ہفتے کے اختتام پر وصول ہونے اور خام تیل کی گھٹتی ہوئی قیمت ڈالر کی تنزلی کا باعث بنی، اسی طرح عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے کورونا بحران سے معاشی نقصانات کے ازالے کے لیے قرضوں کی مؤخر ادائیگیوں کے امکانات بھی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ڈالر کے انٹربینک ریٹ میں ہونے والی کمی سے پاکستان پر 100 ارب ڈالر کے واجب الادا نجی و بیرونی قرضوں کے بوجھ میں بھی تقریبا 170 ارب روپے سے زائد کی کمی واقع ہوگی۔