کورونا افغانستان کیلیے ٹرانزٹ ٹریڈ کی سرگرمیاں بحال نہ ہوسکیں

کنسائمنٹس پر روزانہ ڈیٹینشن اورڈیمرج چارجز چارج کا بوجھ بڑھ رہا ہے، ضیا الحق


Ehtisham Mufti May 07, 2020
افغانستان سے سیزن کے مطابق سیب ودیگر پھلوں کو درآمد کرنے کی اجازت دی جائے۔ فوٹو: فائل

کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے تناظر میں افغانستان کے لیے ٹرانزٹ ٹریڈ کی سرگرمیاں بحال نہ ہوسکیں۔

وفاقی حکومت نے افغانستان ٹرانزٹ ٹریڈ کے کنسائمنٹس کی ترسیل کی اگرچہ اجازت دیدی لیکن موجودہ غیرمعمولی حالات میں شپنگ لائنز اور ان کے ایجنٹس ٹرانزٹ کنسائمنٹس پر ریلیف فراہم کرنے سے گریز کرتے ہوئے ٹرانزٹ کنسائمنٹس پر بھاری ڈیمریج اور ڈیٹنشن چارجز عائدکردیے ہیں جو ٹرانزٹ کنسائمنٹس کی لاگت میں نمایاں اضافے کا سبب بن رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ کراچی کی بندرگاہ پر افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے 7000 ٹرکس رکے ہوئے ہیں۔

فرنٹئیر کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر ضیا الحق سرحدی نے ایکسپریس کو بتایاکہ ان 7ہزار ٹرکوں کے حامل ٹرانزٹ کنسائمنٹس پر لاکھوں روپے کا روزانہ ڈیٹینشن اورڈیمرج چارجز چارج کا بوجھ بڑھتاجارہاہے، متعلقہ حکام ٹرانزٹ ٹریڈ کے حامل ان رکے ہوئے ٹرکوں میں سے یومیہ 50سے 100ٹرک افغانستان جانے کی اجازت سے رہے ہیں جوسمجھ سے بالائے تر ہے کیونکہ اس رفتار سے ترسیل کے عمل کے باعث 7ہزار ٹرکوں کی افغانستان ترسیل میں کئی ماہ کی مدت درکار ہوگی۔

 

مقبول خبریں