ممنوعہ اسلحے سے بھرے جہاز یوکرائن سے لاہور پشاور لائے جانیکا انکشاف قائمہ کمیٹی نے تفصیلات مانگ لیں

وزیراعظم،گورنروں،وزرائے اعلیٰ اورمسلح افواج کے سربراہان کوڈیوٹی فری گاڑیوںکی اجازت کابھی نوٹس،تفصیلات طلب کرلیں۔


Numainda Express September 06, 2012
وزیراعظم،گورنروں،وزرائے اعلیٰ اورمسلح افواج کے سربراہان کوڈیوٹی فری گاڑیوںکی اجازت کابھی نوٹس،تفصیلات طلب کرلیں، فوٹو: ے ایف پی

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے پابندی کے باوجودبیرون ممالک سے ممنوعہ وغیر ممنوعہ اورخود کار ہتھیاروںکی درآمدکانوٹس لیتے ہوئے وزارت تجارت سے تفصیلات طلب کرلی ہیں۔

جبکہ اجلاس کے دوران انکشاف کیاگیاہے کہ گذشتہ مالی سال 2011-12 میں ممنوعہ،غیر ممنوعہ اورخودکارہتھیاروں کے دو جہازلاہوراورپشاورلائے گئے وزارت تجارت ملک کو اسلحہ کا گڑھ بنا رہی ہے۔ کمیٹی کااجلاس چیئرمین حاجی غلام علی کی زیرصدارت ہوا وفاقی سیکریٹری تجارت نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 2009 سے اسلحہ کی درآمدپرپابندی ہے پابندی کے دوران باہرسے کسی بھی قسم کا اسلحہ منگوانا غیر قانونی ہے وزارت تجارت نے اسلحہ کی درآمد کیلیے کوئی لائسنس جاری نہیں کیا۔

ہتھیاروں کی درآمد سے متعلق پالیسی کا ازسر نو جائزہ لیکر خود کارہتھیاروں کی درآمد پر مکمل پابندی لگا دی جائیگی، اسحاق ڈار نے کہاکہ وزارت تجارت قوائد و ضوابط سے ہٹ کر وی وی آئی پیز کو باہر سے ڈیوٹی فری گاڑیاں درآمدکرنے کیلیے لائسنس جاری کررہی ہے وزارت تجارت نے صدر، وزیراعظم،گورنرز،وزرائے اعلیٰ اورمسلح افواج کے سربراہان کو ڈیوٹی فری گاڑیوںکیلیے این اوسی دیے ہیں جبکہ 1998کی ٹریڈپالیسی میں ڈیوٹی فری گاڑیاں درآمدکرنیکی شق کوختم کر دیا گیا تھاسیکریٹری تجارت نے بتایا کہ وزارت نے ڈیوٹی فری گاڑیوںکی درآمدپرپابندی کیلیے رولز اور بزنس میںکوئی تبدیلی نہیںکی اورنہ ہی اس کی کابینہ نے کوئی منظوری دی ہے۔

انھوں نے استفسارکیاکہ ممنوعہ بورکے ہتھیاروںپرپابندی کے باوجود صدرزرداری کوتین لائسنس کیوں جاری ہوئے جس پر سیکریٹری کامرس نے جواب دیا کہ وہ ملک کے صدرہیںاس لیے وہ 3لائسنس لے سکتے ہیںالیاس بلور نے کہا کہ وزارت تجارت ملک کواسلحہ کا گڑھ بنارہی ہے وزارت تجارت کی جانب سے ایک لیٹرجاری کیاجاتاہے جسکے تحت بیرون ممالک سے ممنوعہ اورغیرممنوعہ بور کا جتنا چاہے اسلحہ منگوایا جا سکتا ہے انھوں نے انکشاف کیا کہ 2011-12 میں بیرون ممالک سے اسلحہ کے دو بڑے ہوائی جہازبھر کرلاہوراور پشاور لائے گئے اوراس کی کوئی تحقیقات نہیںکی گئیں۔

جسکے ممبر کسٹم نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ 2011-12 میں یوکرائن سے ممنوعہ بوراسلحہ کے دو جہازبھرکر لائے گئے تھے جس میںمختلف پارٹیوں کا سامان تھا اور یہ سب کچھ قواعد و ضوابط کیخلاف تھا دونوں جہازوں میںآنیوالا سامان ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد ریلیزکردیاگیاتھااراکین کمیٹی نے چیئرمین ایف بی آر اور سیکریٹری خزانہ کی کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت پربرہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ بیوروکریسی کمیٹی اجلاسوں کو اہمیت نہیں دے رہی۔آئی این پی کیمطابق کمیٹی نے ڈیوٹی فری گاڑیوں کی درآمدسے متعلق وزارت تجارت سے تفصیلات طلب کرلی ہیں۔