علی خامنہ ای کے جنازے پر اسرار نقاب پوش کون تھا؟ شناخت ظاہر

سوشل میڈیا پر یہ قیاس آرائیاں گردش کر رہی تھیں کہ نقاب پوش شخصیت دراصل مجتبیٰ خامنہ ای ہیں


ویب ڈیسک July 13, 2026

ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں نظر آنے والے پراسرار نقاب پوش شخص سے متعلق جاری قیاس آرائیاں بالآخر ختم ہو گئیں۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنازے میں شریک نقاب پوش شخص دراصل ان کے بڑے پوتے محمد جواد خامنہ ای ہیں جو مصطفیٰ خامنہ ای کے صاحبزادے ہیں۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے مبینہ فضائی حملوں میں جہاں آیت اللہ علی خامنہ ای جاں بحق ہوئے، وہیں محمد جواد خامنہ ای بھی شدید زخمی ہوئے تھے۔ ان کے چہرے پر گہرے زخم اور جھلسنے کے نشانات آئے جس کے باعث انہوں نے نمازِ جنازہ میں اپنا چہرہ سیاہ ماسک سے ڈھانپ رکھا تھا۔

اس سے قبل سوشل میڈیا پر یہ قیاس آرائیاں گردش کر رہی تھیں کہ نقاب پوش شخصیت دراصل مجتبیٰ خامنہ ای ہیں جو موجودہ سپریم لیڈر بھی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے کے وقت مجتبیٰ خامنہ ای اسی رہائش گاہ میں موجود تھے تاہم وہ دوسرے کمرے میں ہونے کے باعث محفوظ رہے۔ تاہم ان کے ہاتھ، بازو اور ٹانگوں پر معمولی چوٹیں آئیں اور انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حملے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای عوامی سطح پر منظرعام پر نہیں آئے اور نہ ہی انہوں نے کوئی خطاب کیا جبکہ وہ مبینہ طور پر ایرانی عسکری اور مذہبی قیادت سے تحریری پیغامات کے ذریعے رابطے میں ہیں۔

واضح رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین 6 روزہ سوگ کے بعد ان کے آبائی شہر مشہد میں امام رضا روضہ میں کی گئی، جبکہ تعزیتی تقریبات میں دنیا بھر سے کروڑوں افراد نے شرکت کی۔