بھارت سیکیورٹی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب پاکستان کا تحفظات کا اظہار

کینڈا ایک بار پھر رکنیت حاصل نہ کرسکا، افریقی ممالک کی نمائندگی کے لیے رائے شماری کا دوسرا دور ہوگا


ویب ڈیسک June 18, 2020
پاکستان اور بھارت سات سات مرتبہ سیکیورٹی کونسل کے غیر مستقل رکن رہ چکے ہیں۔ فوٹو، فائل

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے آئندہ برس کے لیے سیکیورٹی کونسل کے چار غیر مستقبل ارکان کو منتخب کرلیا دوسری جانب بھارت کے انتخاب پر پاکستان نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت، میکسیکو ، ناروے اور آئرلینڈ سیکیورٹٰی کونسل کے غیر مستقل رُکن منتخب ہوگئے ہیں جب کہ جبوتی اور کینیا دونوں ہی رکنیت کے لیے مطلوبہ ایک تہائی ووٹ حاصل نہیں کرسکے جس کے بعد ووٹنگ کا دوسرا دور ہوگا۔

بھارت کئی بار سیکیورٹی کونسل کی مستقل رکنیت کی کوشش کرچکا ہے تاہم اس میں کامیاب نہیں ہوسکا تاہم اس نے ایک بار پھر ایشیا پیسفیک ممالک کے لیے بلا مقابلہ غیرمستقل رکنیت حاصل کرلی ہے۔ انتخاب میں حصہ لینے والے 192 ممالک میں سے 184 نے بھارت کے حق میں ووٹ دیا۔ اس کام یابی کے بعد بھارت کو سیکیورٹی کونسل میں چین کے ساتھ بیٹھنا ہوگا، جس کے ساتھ سرحدی تنازعے میں حال ہی میں اس کے 20 فوجی مارے گئے ہیں۔

مغربی ممالک کی نشستوں کے لیے ہونے والے انتخاب میں کینیڈا کو ناروے اور آئرلینڈ نے شکست دی۔ اگرچہ کینیڈا نے اس بار سیکیورٹٰی کونسل کی غیرمستقل رکنیت کے لیے پُرزور مہم چلائی تھی لیکن اسے کام یابی حاصل نہیں ہوئی۔ اس شکست کو کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈیو کے لیے بڑی ناکامی قرار دیا جارہا ہے۔

میکسیکو بھی غیر مستقبل رکنیت کے لیے بلامقابلہ منتخب ہوا اور اسے 187 ووٹ حاصل ہوئے۔ دوسری جانب افریقی ممالک ماضی میں اپنا متفقہ امیدوار کا فیصلہ کرتے تھے تاہم اس بار کسی ایک ملک پر اتفاق نہیں ہوسکا۔

پاکستان کا ردّعمل

جمعرات کو دفتر خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفینگ میں ترجمان عائشہ فاروقی نے آئرلینڈ، ناروے اور میکسیکو کو سیکیورٹی کونسل کا غیر مستقبل رکن منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کی تاہم بھارت کے انتخاب پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی کونسل کی غیر مستقل رکنیت کے لیے بھارت کے منتخب ہونے پر کئی ''بنیادی سوال'' کھڑے ہوتے ہیں۔بھارت مقبوضہ کشمیر کے بنیادی حق خود ارادیت کے لیے سیکیورٹٰی کونسل کی قراردادوں کی مستقل نفی کرتا ہے اور اپنے زیر قبضہ علاقے میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے سنگین جرائم کا مرتکب ہے۔ کشمیری دس ماہ سے زائد عرصے سے بھارت کے ظالمانہ لاک ڈاؤن کا سامنا کررہے ہیں۔



ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت نے آئینی ردوبدل کرکے جموں کشمیر کی حیثیت بدلنے کی کوشش کرکے سیکیورٹی کونسل کی قرار دادوں کی کھلی مخالفت کی ہے۔ اس کے علاوہ بھارت کے موجودہ حکمراناپنے ملک میں بسنے والی اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کے بنیادی حقوق سلب کررہے ہیں۔

انہوں ںے کہا کہ پاکستان دنیا اور خطے میں امن قائم کرنے کے لیے کونسل کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: بھارت سلامتی کونسل کا رکن بن بھی گیا تو کوئی قیامت نہیں ٹوٹے گی، وزیرخارجہ

واضح رہے کہ بدھ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سیکیورٹی کونسل کے دس میں سے پانچ غیر مستقبل ارکان کا انتخاب ہوا۔ پاکستان اور بھارت سات سات مرتبہ کونسل کے غیر مستقل رُکن رہ چکے ہیں جب کہ بھارت 2021 اور 2022 کے لیے آٹھویں مرتبہ رکن منتخب ہوا ہے۔ امریکا ، چین ، روس ، برطانیہ اور فرانس سیکیورٹی کونسل کے مستقل ارکان ہیں۔