پب جی کھیلنے سے منع کرنے پر نوجوان کی خود کشی

20 سالہ جونٹی جوزف کو اس کے والد نے پب جی کھیلنے سے منع کیا تھا


ویب ڈیسک June 21, 2020
20 سالہ جوزف انٹر کا طالب علم تھا اور پب جی کا جنون کی حد تک شوقین تھا، فوٹو : فائل

صدر بازار کے علاقے میں 20 سالہ نوجوان نے والد کے پب جی کھیلنے سے منع کرنے پر پنکھے سے لٹک کر زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

لاہور کے علاقے کرسچین محلہ کے رہائشی 20 سالہ جونٹی جوزف کا ہروقت پب جی کھیلنے پر والد سے جھگڑا ہوا تھا، والد کے ڈانٹنے پر جوزف اپنے کمرے میں چلا گیا اور صبح اس کی لاش پنکھے سے لٹکی ہوئی ملی۔

جونٹی جوزف ایف سی کالج میں انٹر کا طالب علم تھا اور اسے پب جی کھیلنے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ اس کے قریب ہی ہیئر ڈریسر کی دکان بھی تھی جہاں وہ کام کرکے گھر کا مالی طور پر ہاتھ بٹاتا تھا تاہم دکان سے واپسی کے بعد رات گئے تک موبائل پر گیم کھیلتا رہتا تھا۔

واضح رہے کہ پب جی نوجوانوں اور بچوں میں تیزی سے مقبول ہونے والا گیم ہے جسے جنون کی حد تک کھیلا جاتا ہے۔ ماہرین نفسیات نے بھی اس گیم کے مضر اثرات سے آگاہ کیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ میں پب جی پر پابندی کی درخواست بھی دائر کی گئی ہے جس پر عدالت نے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کو پب جی پر پابندی سے متعلق فیصلہ کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

عدالتی حکم کے باوجود تاحال پب جی پر پابندی عائد نہیں کی جا سکی ہے۔