کارکنان کا قتل حکومت کے چہرے پر بدنما داغ ہے اہلسنت والجماعت

حکومت پر اعتماد نہیں، گورنر اور وزیراعلیٰ اہلسنّت کے قتل کی روک تھام نہیں چاہتے


Staff Reporter December 09, 2013
حکومت پر اعتماد نہیں، گورنر اور وزیراعلیٰ اہلسنّت کے قتل کی روک تھام نہیں چاہتے. فوٹو: ایکسپریس/فائل

اہلسنّت و الجماعت کے تحت کراچی سمیت ملک بھر میں اہلسنّت کی ٹارگٹ کلنگ اور لاہور میں مولانا شمس الرحمن معاویہ کے قتل کیخلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور دھرنے دیے گئے۔

ریگل چوک پر مظاہرے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے علامہ اورنگزیب فاروقی، مولانا رب نواز حنفی ، مولانا اللہ وسایا صدیقی و دیگر نے کہا کہ کراچی میں روزانہ 5 سے10 کارکنان کی ٹارگٹ کلنگ وفاقی اور صوبائی حکومت کے چہرے پر بدنما داغ ہے، حکومت امن وامان کے قیام اور اہلسنّت عوام کو تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے، کراچی میں حکومت خود اہلسنّت کے قتل میں ملوث ہے حکومت پرکسی قسم کا کوئی اعتماد نہیں رہا ہے۔



انھوں نے کہا کہ 2012 سے 450 سے زائد اہلسنّت کارکنان کے جنازے اٹھا چکے ہیں جبکہ اہلسنّت ہمدردوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے، گورنرسندھ اور وزیراعلیٰ سندھ کا اہلسنّت کے قاتلوں کے خلاف سخت ایکشن نہ لینا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ شہر میں اہلسنّت کے قتل عام کی روک تھام نہیں چاہتے، انھوں نے کہاکہ قتل میں ملوث دہشت گرد گرفتار کیے جاتے ہیں مگر سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کے دبائو پر انھیں چھوڑ دیاجاتا ہے، مسکن چورنگی کے قریب اہلسنّت والجماعت کے کارکنان کو بھی دہشت گردوں نے نشانہ بنایا لیکن قاتل اب تک گرفتار نہیں ہوئے، انھوں نے کہا کہ جمعہ کو ملک بھر میں اہم شاہراہوں پر دھرنا دیا جائے گا۔