عراق بم دھماکوں سے پھر گونج اٹھا 35 افراد ہلاک 110 زخمی

بغداد کے بازاروں،سڑکوں،دکانوں کے باہر 9 بم دھماکے ہوئے، رواں سال پرتشدد واقعات میں 8 ہزار افراد ہلاک ہوچکے،اقوام متحدہ


AFP December 09, 2013
بغداد کے بازاروں، سڑکوں،دکانوں کے باہر 9 بم دھماکے ہوئے، رواں سال پرتشدد واقعات میں 8 ہزار افراد ہلاک ہوچکے،اقوام متحدہ. فوٹو:فائل

BAHAWALPUR: عراق میں13 بم دھماکوں میں 35 افراد جاں بحق اور 110 زخمی ہوگئے،ذرائع ابلاغ کے مطابق بم دھماکے زیادہ تر دارالحکومت بغداد اور اس کے نواحی علاقوں میں شیعہ اکثریت والے علاقوں میں ہوئے۔

بغداد میں مصروف بازاروں، سڑکوں اور دکانوں کے باہر 9 بم دھماکے ہوئے، بغداد کے علاقوں آمل اور بایا میں 2 بم دھماکوں میں 10 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ بعقوبہ میں ایک کار بم دھماکے میں ایک شخص ہلاک اور 4 زخمی ہوگئے، موصل میں سڑک کنارے نصب بم دھماکے میں 5 افراد زخمی ہوگئے، صوبہ بصرہ میں سڑک کنارے بم پھٹنے سے کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔



ہفتے کو بھی عراق میں پرتشدد واقعات میں 16 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں سے9 افراد کو بغداد میں شراب کی دکان پر گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ حکام نے ہلاکتوں کی تعداد کم بتائی ہے۔ حکام کے مطابق بم دھماکوں کے پیچھے القاعدہ کا ہاتھ ہے لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق پرتشدد واقعات کو روکنے کیلیے حکومت کی طرف سے بروقت اقدامات نہیں کیے گئے، حکومت پرتشدد واقعات کو روکنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق عراق میں رواں سال پرتشدد واقعات میں اب تک 8 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔