ہماری معاشی پالیسی کی بنیاد روٹی کپڑا اور مکان ہے وفاقی حکومت بتائے اسکی پالیسی کیا ہے بلاول بھٹو

وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیاں ’’منشا کی، منشا کے ذریعے اور منشا کیلیے‘‘ ہیں


Staff Reporter December 10, 2013
کراچی:پیپلزپارٹی کےچیئرمین بلاول بھٹو کمپیوٹرکا بٹن دبا کر غریبوں کے لیے مفت پلاٹوں کی قرعہ اندازی کررہے ہیں۔ فوٹو : محمد نعمان/ ایکسپریس

پیپلزپارٹی کے سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ن لیگ کی وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیاں ''منشا کی، منشا کے ذریعے اور منشا کیلیے'' ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کی معاشی پالیسیاں '' عوام کی ، عوام کے ذریعے اور عوام کیلیے'' ہیں۔

وہ پیرکو چیف منسٹر ہاؤس میں انتہائی غریب لوگوں کیلیے بے نظیر بھٹو ٹاؤن اسکیم کے تحت پلاٹوں کی قرعہ اندازی کی تقریب سے خطاب کررہے تھے، یہ اسکیم حکومت سندھ نے شروع کی ہے، پہلے مرحلے میں کراچی سمیت8 اضلاع میں120 گزکے27500 مکانات کی قرعہ اندازی کی گئی ۔ بلاول بھٹو زرداری نے کمپیوٹر کا بٹن دباکر قرعہ اندازی کا افتتاح کیا، تقریب سے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پرسابق صوبائی وزیرسید اویس مظفر، صوبائی وزرا نثاراحمدکھوڑو، منظور وسان، شرجیل انعام میمن اور مخدوم جمیل الزماں، پیپلزپارٹی کے عہدیداران اورکارکن بھی موجود تھے۔ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں کہاکہ کوئی یہ توبتائے کہ وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیاں کیا ہیں، یہ منشا سے شروع ہوتی ہیں اور منشا پر ختم ہوتی ہیں ۔ ہماری پالیسیاں صرف اور صرف عوام کیلیے ہیں۔ ہماری معاشی پالیسی کی بنیاد روٹی ، کپڑا اور مکان کا نعرہ ہے اور آج ہم نے غریب لوگوں کو مکانات دیے ہیں ۔

وزیراعلیٰ سندھ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کراچی سمیت پورے سندھ میں غریبوں، محنت کشوں اور کسانوں کومکانات ملیں گے، یہ کام صرف پیپلزپارٹی کی قیادت ہی کرسکتی ہے، کوئی دوسرا اگرکرنا بھی چاہے تو یہ کام نہیں کرسکتا ، انھوں نے کہاکہ کراچی کی زمین بہت مہنگی ہے، اسی زمین کی وجہ سے یہاں امن وامان کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے، ہر پلاٹ کی قیمت5 لاکھ روپے سے کم نہیں ہوگی لیکن ہم یہ غریبوں کو مفت دے رہے ہیں، انھوں نے کہاکہ مجموعی طور پر50 ہزار پلاٹ تقسیم کیے جائیں گے، ہم سندھ کی خواتین کومردوں کے برابر حقوق دے رہے ہیں، انھوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی غریب عوام کی پارٹی ہے ، ہم لوگوں کیلیے اس سے بھی زیادہ کریں گے۔ قادر پٹیل نے کہاکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد اب تیسری نسل (بلاول بھٹو زرداری ) عوام سے کیے گئے وعدے پوری کر رہی ہے ،بعد ازاں بلاول بھٹو زردارینے سید اویس مظفر کے ہمراہ کمپوٹرکا بٹن دبا کر قرعہ اندازی کی ۔



تقریب ختم ہونے کے بعد جب بلاول بھٹو زرداری ، وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور سید اویس مظفرکے ہمراہ وزیراعلیٰ ہاؤس سے روانہ ہوئے تو پیپلزپارٹی کی ایک خاتون کارکن (جیالی) نے احتجاج کیا اور کہا کہ احتجاج کیلیے سڑکوں پر ہمیں بلالیا جاتا ہے لیکن ایسی تقریبات میں ہمیں نظرانداز کیا جاتا ہے، اس حوالے سے جب پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کی رہنما فرزانہ بلوچ سے پوچھا گیا تو انھوںنے کہا کہ اس خاتون کا دعوت نامہ اسے نہیں مل سکا ہے، دریں اثنا پیپلز پارٹی کے سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹوزرداری نے سندھ کے گوٹھ شادی پل میں ہندودلت برادری کی لڑکی کاکوکوہلی کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کی ہے اور سندھ حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کیلیے ایک دیانت دار پولیس افسرکا تقرر کرے، بلاول بھٹو زرداری نے پیرکو اپنے ایک بیان میں کہاکہ معاشرے کے ان مظلوم اور کمزور طبقات پر ظلم اور زیادتیوں کا سن کر انھیں بہت غم و غصہ محسوس ہوتا ہے۔

انھوں نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیاکہ پیپلز پارٹی ان کمزور طبقات کے تحفظ اور وقار وسلامتی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ہر ممکن اقدام وکوششں کرے گی، قبل ازیں پاکستان پیپلز پارٹی کے سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹوزرداری نے اپنی پارٹی کے اس عہد کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کے ہر شہری کے حقوق کا بلا امتیاز تحفظ کیا جائے گا، عالمی انسانی حقوق کے موقع پر اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ کسی بھی جمہوری اور مہذب معاشرے میں بنیادی انسانی حقوق سے بڑھ کرکوئی چیز اہم نہیں ہوتی ہے ۔انھوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار بھٹوکی قیادت میں تشکیل پانے والے پاکستان پیپلز پارٹی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ لوگوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کیا جائے، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو بھی اسی اصول پرسختی سے کار بندر ہیں، عوام کے حقوق کی جدوجہد میں ان دونوں رہنماؤں نے اپنی جانیں قربان کردیں تاکہ آنے والی نسلوں کو بہتر مستقبل میسرآسکے، انھوں نے کہاکہ بنیادی انسانی حقوق کسی کی طرف سے کوئی رعایت ، احسان یا مراعات نہیں ہیں ، ان انسانی حقوق کے لیے دہشت گردی سب سے بڑا خطرہ ہے ۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی شاید ملک کی واحد سیاسی جماعت ہے ۔

جس میں اپنا فعال ہیومن رائٹس ونگ قائم کر رکھا ہے تاکہ لوگوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھی جاسکے، انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تدارک کے ٹھوس اقدامات کرے، پیپلز پارٹی اس معامعلے پر کسی قسم کی کوئی کوتاہی برداشت نہیں کرے گی ۔ دریں اثنا سکھر میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ آصف زرداری پر جو مقدمات تیار کیے گئے ہیں وہ مصنوعی ہیں، سپریم کورٹ نے بھی تصدیق کی تھی کہ یہ مقدمات بد نیتی پر دائر کیے گئے تھے۔ہماری خواہش ہے کہ بلدیاتی انتخابات مارچ میں کرائے جاسکیں تاکہ سندھ میں بلدیاتی الیکشن شفاف طریقے پر کرائے جائیں۔ وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ نے کہاکہ کراچی میں امن قائم کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے اور کراچی میں امن قائم ہونے میں وقت لگے گا، ہمارے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں جوایک دو روز میں بہتر ی آئے۔