بلدیاتی انتخابات سے کمٹمنٹ ظاہر کیجیے

بلدیاتی انتخابات سے گریز کی سندھ حکومت جو بھی توضیح پیش کرے، اس کا اسے جمہوری حق ہے


Editorial December 11, 2013
بلدیاتی انتخابات سے گریز کی سندھ حکومت جو بھی توضیح پیش کرے، اس کا اسے جمہوری حق ہے ۔ فوٹو:فائل

الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی الیکشن شیڈول جاری کردیا ہے جس کے مطابق پولنگ 30جنوری 2014کو ہوگی۔ دوسری جانب سندھ میں انتخابات کا شیڈول تیسری مرتبہ بھی موخر کردیا گیا ۔ بلدیاتی انتخابات سے گریز کی سندھ حکومت جو بھی توضیح پیش کرے، اس کا اسے جمہوری حق ہے تاہم بلوچستان جیسے شورش زدہ اور دہشت گردی کے ستائے ہوئے صوبہ نے بلدیاتی الیکشن کرانے کی غیر مشروط پیش قدمی کرنے کی شاندار مثال قائم کی ہے جس کی خیبر پختونخوا اور سندھ کے ارباب اختیار کو تقلید کرنا چاہیے۔ حلقہ بندیوں پر اصرار یا ان کی منسوخی یا التوا کے لیے رسہ کشی ملکی مفاد میں نہیں ، کافی قیمتی وقت اس بلا جواز کشیدگی اورانتخابی تاریخوں میں توسیع دیتے ہوئے ضایع ہوچکا ہے جب کہ بلدیاتی الیکشن سیاسی جماعتوں کو اپنے حلقہ انتخاب سے گہری وابستگی اور عوامی مسائل کے حل کے تجدید عہد کا زریں موقع فراہم کرتے ہیں ،پھر اس سے بھاگنے اور التوا پر اصرار کا کیا جواز ہے۔

بلدیاتی الیکشن سے سندھ اور خیبر پختونخوا کو اب اپنی واضح کمٹمنٹ ظاہر کرنا ہوگی ۔ ادھر سیکریٹری الیکشن کمیشن نے سندھ میں انتخابات کے لیے18 جنوری کو ہی حتمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کو الیکشن کمیشن کے بجائے سپریم کورٹ جانا ہوگا۔ سندھ نے خود18جنوری کی تاریخ طے کی تھی جس پر سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو احکام دیے تھے کہ صوبوں کی جانب سے مہلت کے بعد جو تاریخیں مقرر کی گئی ہیں، ان پر انتخابات کرائے جائیں۔علاوہ ازیں الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کرتے ہوئے صوبے میں تقرریوں اور تبادلوں پر پابندی عائد کردی ہے جب کہ ووٹر لسٹوں کو بھی منجمد کر دیا گیا ہے۔ اب پولنگ تک ووٹر لسٹوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جا سکے گی۔الیکشن کمیشن نے انتخابات کے حوالے سے ضابطہ اخلاق جاری کردیا ہے جس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔

مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما سابق صوبائی وزیر میر فائق علی خان جمالی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں جس طرح بلدیاتی انتخابات کا مرحلہ مکمل ہوا، اسی طرح چیئرمین اور وائس چیئرمین بھی بلا مقابلہ منتخب کرائینگے، انھوں نے بلدیاتی نمایندوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے اور موجودہ شہر میں واضح فرق ظاہر کریں جس میں عوام محسوس کریں کہ اب واقعی بلدیاتی نمایندے کام کررہے ہیں، دریں اثنا پنجاب اسمبلی نے پنجاب لوکل باڈیز ترمیمی بل2013 کی کثرت رائے سے منظوری دیدی ہے۔ اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد کردی گئیں، جب کہ اپوزیشن نے7ترامیم مسترد کیے جانے اور صوبائی وزیررانا ثنااللہ کے قابل اعتراض الفاظ بولنے پر احتجاجًا واک آؤٹ کیا۔

اپوزیشن لیڈر میاں محمودالرشید کا یہ موقف تھا کہ حکومت کی طرف سے جو بھی ترامیم لائی جائیں انھیں پہلے مشتہر کیا جائے اور اس پر عوام کی رائے لی جائے جب کہ رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ سندھ اور خیبرپختونخوا کی اسمبلی میں ایک روز بل ایوان میں پیش کیا اور رولز معطل کرکے اسی روز اسے منظور بھی کرالیا گیا جب کہ پنجاب حکومت کی طرف سے اس بل پر ہر لحاظ سے اپوزیشن کو ساتھ رکھا گیا اور ان کی ترامیم بھی شامل کی گئیں۔بہر حال ضرورت اب اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومتیں بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کے لیے اپنا ایجنڈا تیار کریں، عوام کو درپیش مسائل کا روڈ میپ بنائیں اور خلق خدا کو مہنگائی کے خاتمہ ، صحت وصفائی اور تعلیم کی بہتر سہولتوں اور روزگار کی فراہمی کا یقین دلائیں۔ بلدیاتی الیکشن بڑے الیکشنزکے لیے بے لوث نمایندوں کی کھیپ تیار کرنے کی نرسریاں ہیں، یہیںسے مستقبل کے سیاسی معمار جمہوری اورپارلیمانی تربیت پاکر قومی و صوبائی اسمبلی کے الیکشنوں کے لیے اپنی اہلیت ثابت کرسکتے ہیں۔