سی ای او کے الیکٹرک کا مستثنیٰ و غیرمستثنیٰ علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کا اعتراف

کراچی میں بجلی کی طلب 3500 میگا واٹ جب کہ کےالیکٹرک 3200 میگا واٹ بجلی فراہم کرسکتا ہے، مونس عبداللہ


ویب ڈیسک July 15, 2020
وفاق پر کے الیکٹرک کے 267 ارب روپے اور سندھ حکومت پر 50 ارب روپے سے زائد واجبات ہیں، سی ای او۔ فوٹو، فائل

سی ای اوکےالیکٹرک مونس عبداللہ نے اعتراف کیا ہے کہ شہر کے مستثنیٰ و غیرمستثنیٰ علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کررہے ہیں۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سی ای اوکےالیکٹرک مونس عبداللہ نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں بجلی کی طلب 3500 میگا واٹ تک پہنچ چکی، جب کہ کےالیکٹرک 3200 میگا واٹ بجلی فراہم کرسکتا ہے، جس کے باعث کراچی میں لوڈشیڈنگ جاری ہے، کچھ علاقوں میں زیادہ ہورہی ہے، اور مستثنیٰ علاقوں میں بھی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔

سی ای او کے الیکٹرک مونس عبداللہ علوی کا کہنا تھا کہ لوڈشیدنگ والےعلاقوں میں بجلی کی مسلسل فراہمی سے بل زیادہ آئے، مارچ میں میٹرریڈنگ کے بغیربلوں کو واپس لے لیا گیا تھا، کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن ہونے کے باعث میٹرریڈنگ نہیں کر پائےتھے، بجلی کی قیمت ازخود کم یا ذیادہ نہیں کرسکتے، کراچی کا ٹیرف ملک کے باقی شہروں کے مقابلے ڈھائی روپےکم ہے۔

مونس عبداللہ علوی نے کہا کہ وفاق نے کے الیکٹرک کو 267 ارب روپے ادا کرنے ہیں، اور سندھ حکومت پر کے الیکٹرک کے 50 ارب روپے سے زائد واجبات ہیں، جب کہ کےالیکٹرک نے مختلف اداروں کو 160 ارب روپے ادا کرنے ہیں، اور بینکوں سے بھی 85 ارب روپے کا قرضہ لے رکھا ہے۔