ٹارگٹڈ آپریشن کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات مارچ میں کرانا چاہتے ہیں قائم علی شاہ

کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن سے صورتحال بہترہوئی ہے اس میں خلل نہیں ڈالناچاہتے،وزیراعلیٰ سندھ


Staff Reporter December 11, 2013
کراچی:وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ سے برطانوی ہائی کمشنر ایڈم تھامسن ملاقات کررہے ہیں۔فوٹو:اے پی پی

KARACHI: وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہاہے کہ کراچی میں دہشت گردوں،اغواکاروں،بھتہ خوروں اوردیگرجرائم پیشہ افرادکیخلاف ٹارگٹڈ آپریشن کے نتیجے میں جرائم میں35فیصدتک نمایاں کمی واقع ہوئی، آخری مجرم کی گرفتاری تک ٹارگٹڈ آپریشن جاری رہے گا۔

برطانوی ہائی کمیشن ایڈم تھامسن نے وزیراعلیٰ ہائوس میں وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات کی۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ اس ٹارگٹڈآپریشن کی اہم بات یہ ہے کہ اس کے ذریعے کراچی میں بسنے والے لوگوں میں ہمت اور اعتماد بڑھا ہے، حکومت سندھ پولیس کوجدیداسلحہ اور گاڑیاں فراہم کرنے کے علاوہ10 ہزارسے زائداہلکاربھرتی کررہی ہیں تاکہ محکمہ پولیس کوزیادہ سے زیادہ مستحکم اورمضبوط کیاجائے،شہیدپولیس اہلکاروں کے اہل خانہ کوایک سرکاری نوکری،سرکاری پلاٹ،20 لاکھ روپے سمیت دیگرمراعات بھی دی جارہی ہے،مجرموں کے خاتمے کیلیے قوانین کوسخت سے سخت کیاجا رہاہے اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کومزید اختیارات دیے جارہے ہیں،حکومت سندھ نے دیگرسیاسی پارٹیوں سے بھی مشاورت کی حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے اورمزیداقدامات اٹھانے سے پہلے گورنرسندھ کوبھی اعتمادمیں لیا جاتاہے، انسداد دہشتگردی کے کچھ مقدمے کراچی اورصوبے سے باہرمنتقل کرنے کی حکمت عملی تشکیل دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ صوبائی سندھ اور پنجاب کے خطرناک مجرموں کے تبادلہ سے متعلق پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی تجویزپر بھی غور کیا جا رہاہے،امیدہے تھوڑے عرصے میں کراچی میں امن وامان کی صورتحال سے مزید بہتر ہوجائے گی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے مزید وقت مانگنے کاسبب صرف اور صرف کراچی میں جاری ٹارگٹڈآپریشن ہے اورہم آپریشن کوابتدائی مرحلے میں خلل نہیں ڈالنا چاہتے بلکہ ایسا پرامن ماحول چاہتے ہیں جس میں ہر فرداورسیاسی پارٹی بلا خوف و خطر اپنا رائے دہی استعمال کرسکے ،بصورت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انتخابات کی سیکیورٹی کی ذمے داری دینے سے ٹارگٹڈ آپریشن پراثرپڑسکتاہے۔

برطانوی ہائی کمیشن ایڈم تھامسن نے کراچی میں امن وامان کی صورتحال پراورحکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پراطمینان کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ کراچی پاکستان کاشہ رگ ہے،کئی برطانوی کمپنیاں کراچی میں سرمایہ کاری کرنے باالخصوص کراچی کے شہریوں کو صاف پانی فراہم کرنے کے منصوبوں میں سرمایہ کاری اور کچرے سے بجلی کی پیداوارکے منصوبوں میں دلچسپی رکھتے ہیں، پاکستان اور برطانیہ کے مابین دیرینہ دو طرفہ روابط ہے اورہم پاکستان کی ترقی میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔دریں اثناوزیراعلیٰ ہاؤس میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت نئے منظور شدہ منصوبوں سے متعلق اجلاس میں وزیراعلیٰ نے335 نئے ترجیحاتی منصوبوں کے آغاز کی منظوری دیتے ہوئے متعلقہ محکموں کوان اسکیموں پر فوری طور پر کام کے شروع کرنے کے احکامات دیے ہیں ۔

2013-14 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل ان ترقیاتی منصوبوں 41940.007 ملین روپے لاگت کا تخمینہ ہے ، جن کے لیے سالانہ ترقیاتی فنڈ.511 10575 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں ۔علاوہ ٹرانسپریسی انٹرنیشنل پاکستان کے وفدنے سہیل مظفراورعادل گیلانی کی سربراہی میں قائم علیشاہ سے وزیراعلیٰ ہائوس میں ملاقات کی۔ اجلاس کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ خالد جاوید خان بھی موجود تھے ، و فدمیں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی قیادت میں حکومت سندھ کی جانب سے کرپشن کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا۔ ٹرانسپریسی انٹرنیشنل کے وفد نے اپنی صوبہ سندھ میں بہتر گورننس سے متعلق اپنی حالیہ رپورٹ پیش کی۔