وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ احسن اقبال نے اینٹی منی لانڈرنگ ترامیم کے نام پر قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، (ن) لیگ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ سے نیب کو نکالنا چاہتی ہے یہ ہے وہ این آر وہ جو یہ لوگ مانگ رہے ہیں۔
اپنے بیان میں وزیر اعظم کے مشیر شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ احسن اقبال نے قوم سے سفید جھوٹ بولا انہوں نے اینٹی منی لانڈرنگ ترامیم پر قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی کہ حکومت ایسا بل لا رہی ہے جس میں بزنس مین کو منی لانڈرنگ میں 180 دن تک بند کیا جاسکتا ہے جو کہ سفید جھوٹ ہے۔
شہزاد اکبر نے کہا کہ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ میں ایسی کوئی تجاویز نہ تھی وہ ترامیم فیٹف کی تجاویز کے مطابق ہیں، ان ترامیم کے مطابق اینٹی منی لانڈرنگ کے تحت مختلف چیزوں کی مزید واضح کیا جا رہا ہے، جہاں تک سزا کا تعلق ہے وہ جرم ثابت ہونے کی صورت میں جہاں پانچ سال سزا تھی وہ اب دس سال ہوگی۔
یہ پڑھیں : نوازشریف کو مجرموں کی حوالگی کے تحت واپس لایا جائے گا، شہزاد اکبر
معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ اپوزیشن کو ان میں سے کسی چیز پر اعتراض نہیں، اپوزیشن کو اس میں نیب کو پراسیکیوشن ایجنسی ہونے سے نکالنے کا اعتراض ہے، نیب نے شہباز شریف فیملی کا منی لانڈرنگ کا کیس ٹی ٹی، منظور پاپڑ والا کیس ریفرنس کی صورت میں عدالت میں فائل کر دیا، اس وقت مسلم لیگ (ن) اینٹی منی لانڈرنگ سے نیب کو نکالنا چاہتی ہے یہ ہے وہ این آر او جو وہ مانگ رہے ہیں اور نہیں ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی عمل سے نیب کو نکالنا غیر مناسب مطالبہ ہے، یہ فیٹف کی ریکوائرمنٹ ہے کہ انویسٹی گیشن اور پراسیکیوشن ایجنسی میں نیب بھی شامل ہو، اپنے لیڈر اور ذاتی مفاد کے لیے ملکی مفاد کا سودا نہ کریں۔