طبقے الٹنے والے ہیں

زاہدہ حنا  بدھ 16 ستمبر 2020
zahedahina@gmail.com

[email protected]

ایسٹ انڈیا کمپنی کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہندوستانی عوام نے 1756 سے ہی اپنی آزادی کی لڑائی شروع کردی تھی۔ ہندوستان کے لوگوں کی تحریک آزادی میں پردہ دار خواتین بھی شامل تھیں۔ اس میں مسلمانوں، ہندوؤں، سکھوں کے ساتھ ہی ہندوستانی عورت بھی دوش بہ دوش تھی۔

اٹھارہویں صدی سے اپنے مردوںکے ساتھ آزادی کی جدوجہد میں شریک ان عورتوں میں سے بیشتر گمنام رہیں لیکن حضرت محل، جھانسی کی رانی، لکشمی اور دوسری کئی جاں باز عورتوں نے سر ہتھیلی پر رکھ کر قابض انگریزوں کے خلاف بے جگری سے لڑائی لڑی اور اسے ہندوستان کے طول و عرض میں پھیلا دیا۔ جھانسی کی رانی میدان جنگ میں شہید ہوئی اور لکھنو کی حضرت محل اپنے جاں نثاروں کے ساتھ لڑتی ہوئی نیپال تک جا پہنچی۔

ملکہ وکٹوریہ کی طرف سے عام معافی کا اعلان ہوا۔ نیپال کے راجہ کی طرف سے زور دیا گیا کہ وہ ملکہ وکٹوریہ کے سامنے سرفگندہ ہوجائے لیکن حضرت محل نے سر تسلیم خم کرنے سے انکار کیا اور ایک آزاد ہندوستانی کی  طرح نیپال میں جان، جاں آفریں کے سپرد کی۔

ان نامور گمنام عورتوں کی سندھ، پنجاب اور برصغیرکے دوسرے علاقوں میں کمی نہیں۔ انیسویں صدی کے اختتام پر جب برصغیر میں جدید سیاست کے خطوط پر انڈین نیشنل کانگریس اور بیسویں صدی کی پہلی دہائی میں آل انڈیا مسلم لیگ نے آزادی کے لیے سیاسی جدوجہد شروع کی تو روز اول سے عورتیں اس میں شریک رہیں۔

40 کی دہائی تک پہنچتے پہنچتے ہندوستان کے طول و عرض میں تحریکِ آزادی کی ایک اونچی لہر اٹھی جس میں بی اماں، محترمہ فاطمہ جناح، شائستہ اکرام اللہ، سروجنی نائیڈو، مسز کملا نہرو، وجے لکشمی پنڈت اور دوسری متعدد خواتین نے حصہ لیا۔ ہندو اور سکھ خواتین کو ایک طرف رکھتے ہوئے مجھے مشرقی بنگال اور مغربی پاکستان کی وہ تمام لڑکیاں اور عورتیں یاد آرہی ہیں جو پاکستان بنانے کی تحریک میں شامل رہیں اور جنھوں نے اس جدوجہد کی بھاری قیمت ادا کی۔

آج یہ تمام باتیں اس لیے یاد آرہی ہیں کہ پاکستان کو وجود میں آئے 72 برس سے زیادہ گزر گئے ہیں لیکن یہاں کی لڑکیاں اور عورتیں روز ایک نئے عذاب سے گزر رہی ہیں۔ کوئی ان کی داد فریاد سننے والا نہیں ، وہ اگر پولیس کے افسر اعلیٰ تک پہنچتی ہیں تو انھیں انصاف مہیا کرنے کے بجائے وہ ان کا مذاق اڑاتا ہے اور ان سے پوچھتا ہے کہ ان سے کس نے کہا تھا کہ وہ آدھی رات کو تنہا سفر کریں۔ ان سے کہا جائے کہ آپ کے وزیر اعظم ملک کو ریاست مدینہ بنانے کی بات کرتے ہیں تو یہ کیسی ریاست مدینہ ہے؟ اس پر وہ ہنستا ہے۔

ایک خاتون کو میں نے ٹیلی ویژن پر چیختے سنا کہ کیا ہم نے اس لیے عمران خان کو کامیاب کرانے کے لیے چندے اکٹھے کیے تھے، ان کے لیے دوسرے ملکوں میں جلسے جلوس نکالے تھے کہ برسراقتدار آنے کے بعد ان کی حکومت ہماری ساتھ یہ سلوک کرے گی؟ سوشل میڈیا پر ان سوالوں کی بھرمار ہے جس کا جواب دینے والا کوئی نہیں۔

کوئی یہ پوچھنے والا نہیں کہ ایک شخص پر جرم عائد کرنے، اس کی تصویریں چلانے والے اب کس منہ سے یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم ابھی تحقیقات کررہے ہیں۔ شاید یہ شرمناک جرم اس سے سرزد نہیں ہوا، یعنی ہمارا نظام انصاف صرف شاید کے کمزور ستونوں پر کھڑا ہوا ہے۔

اپنے لیے انصاف کی طلب گار خاتون کی زندگی برباد کردی گئی۔ اس کے بچے بدترین ذہنی اذیت سے گزرے اور اس سارے معاملے کو نہایت سرسری لیا جارہا ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ پاکستان کی نصف آبادی کس عذاب میں گرفتار ہے ۔ وہ اسکول، کالج، یونیورسٹی یا کام کرنے کے لیے نکلے تو ہماری ریاست اسے تحفظ فراہم کرنے کے بجائے اسے شک کی نظر سے دیکھتی ہے، اگر وہ کسی حادثے کا شکار ہوجائے تو افسران اعلیٰ اس کے ساتھ انصاف کرنے کے بجائے اس کے بارے میں استہزائیہ جملے کہتے ہیں اور اپنی بے حیا نگاہوں سے اسے ٹٹولتے ہیں۔

پاکستان میں جس تیزی سے عورتوں کی توہین اور بے حرمتی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کا جائزہ لیا جائے تو یہ جنرل ضیاء الحق کی آمریت سے شروع ہوتا ہے جس میں عورت کی تذلیل اور توہین کی گئی۔ 47ء اور 48ء کے بعد بے لباس عورتوں کے جلوس نہیں نکلے تھے لیکن چادر اور چادر دیواری کے تقدس کی دہائی دینے والے کے دور اقتدار سے بے حرمتی کے ان واقعات میں اضافہ ہوتا گیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹوں کے مطابق 1980ء سے پاکستان میں سیاسی کارکن عورتوں کو برسر عام اور حوالات یا جیل میں بدترین جسمانی اذیتیں دینے کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ وہ دور ہے جب اخبارات سچ لکھتے ہوئے ڈرتے تھے، اس کے باوجود 11 مئی 1981ء کے ایک انگریزی روزنامہ میں صفورانی کے بارے میں خبر چھپی جس کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ سول اسپتال کراچی اور ڈسٹرکٹ اسپتال ٹھٹھہ کے سرکاری ڈاکٹروں کے مطابق اس کے جسم کو جلتے ہوئے سگریٹ سے داغا گیا تھا۔

صفورانی کا قصور یہ تھا کہ اس نے جنرل ضیاء کے خلاف سیاسی جدوجہد میں حصہ لیا تھا۔ اسی زمانے میں لاہور کے دو سیاسی کارکن جب گرفتاری کے خوف سے روپوش ہوئے تو ان پر دباؤ بنانے کے لیے ان کی بیویاں گرفتار ہوئیں، لاہور قلعے میں رکھی گئیں جہاں انھیں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے اور انھیں بے آبرو کیا گیا۔ 4 دسمبر 1981ء کے برطانوی اخباروں میں فرخندہ بخاری کو دی جانے والی جسمانی اذیتوں کی تفصیلات شایع ہوئیں۔

فرخندہ بخاری کو قلعے میں اس قدر اذیتیں دی گئیں کہ جب وہ لندن کے ہیتھرو ایئر پورٹ پہنچیں تو ہوم ڈپارٹمنٹ کی خاتون کارکن نے ان کے جسم پر سگریٹوں کے داغ اور تشدد کے دوسرے نشانات دیکھ کر انھیں فوراً سیاسی پناہ دے دی تھی۔

پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کے دعویدار جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں سیاسی جدوجہد کرنے والی عورتوں پر جو کچھ گزری، چادر اور چار دیواری کے محافظوں نے ان کے ساتھ جو سلوک روا رکھا، اس کی تفصیل میں جانے کے لیے دفتر کے دفتر درکار ہیں۔ آمریت کے نمایندوں کے حوصلے اتنے بڑھے ہوئے تھے کہ بیگم نصرت بھٹو، بیگم نسیم ولی خان اور بے نظیر بھٹو بھی ذہنی اور جسمانی اذیتوں سے محفوظ نہ رہ سکیں۔

ضیاء الحق کے زمانے میں عورتوں کی جس جدوجہد کا آغاز ہوا وہ محض اپنے چند مطالبات منوانے کے لیے نہیں تھی بلکہ یہ ملک کی عمومی سیاسی جدوجہد سے مکمل طور پر جڑی ہوئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں 1983ء کی ایم آر ڈی تحریک میں سندھیانی تحریک کی 256 عورتیں گرفتاریاں دیتی ہوئی اور جیلوں میں سزائیں کاٹتی اور اس سے بہت پہلے ہاری حقدار تحریک کی عورتیں گرفتار ہوتی اور جیل بھگتّی ملتی ہیں۔

اسی زمانے میں ہمیں کوٹ لکھپت جیل، شیخوپورہ جیل، ملتان، کراچی اور حیدرآباد جیلوں میں بہت سی سیاسی قیدی عورتیں نظر آتی ہیں۔ یہ ضیاء دور کے سورما اور محافظِ ناموسِ مملکت اسلامیہ تھے جو پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عورتوں کو شاہی قلعے لے گئے جہاں ان کے ساتھ بدترین جسمانی اور جنسی تشدد کیا گیا۔

یہی وہ زمانہ ہے جب سندھ میں جنگ شاہی کے قریب دو عورتوں کی بہیمانہ ہلاکت پر سندھ بھر کی عورتوں نے شدید احتجاج کیا۔ اس دور کی تاریخ کے صفحے پاکستانی عورتوں کی آزمائشوں کا سرنامہ ہیں، ان کی اذیتوں سے بھرے ہوئے ہیں۔

گزشتہ برسوں سے تین، چار اور پانچ برس کی بچیوں کی بے حرمتی اور قتل کے واقعات میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے۔ اخبارات ایسی ہولناک خبروں سے بھرے ہوئے ہیں۔ شادی شدہ خواتین کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اس کی تازہ ترین مثال موٹر وے پر ہونے والا واقعہ ہے۔

ہم اپنے نوجوان لڑکوں کی آنکھوں میں اپنے گھر کی لڑکیوں اور عورتوں کے لیے تکریم اور احترام کے جذبات نہیں دیکھتے۔ اب سے تین برس پہلے پاکستان میں نوجوانوں کو کنٹینر پر کھڑے ہوکر جس وضع کے افسوسناک جملوں کو فخریہ انداز میں بیان کرنا سکھایا گیا، اس نے عام نوجوانوں کے اندر سے حیا اور عفت کا احساس ختم کر دیا۔ اگر ان کا لیڈر پوچ اور بازاری زبان استعمال کررہا تھا تو وہ اس کی پیروی کیوں نہ کریں؟ آخر اس میں مضائقہ ہی کیا ہے؟ اگر اس کے پسندیدہ رہنما گری ہوئی زبان استعمال کرکے اقتدار کی بلندیوں تک پہنچ سکتے ہیں تو وہ کیوں نہ یہ آسان راستہ اختیار کرے۔

گزشتہ تین چار برسوں کے درمیان بوڑھے باپ اور ماں کا، پاس پڑوس کے لوگوں کی ہدایت یا نصیحت کو ہوا میں اڑا دینا، روزمرہ بن چکا ہے۔ احترام کا رشتہ گھر کی خواتین اور لڑکیوں سے شروع ہوتا ہے، جب وہاں اس رویے کا دقیانوسی اور فضول سمجھا جائے، جب ماں بہنوں سے تکرار یا ان پر ہاتھ اٹھانا ایک روز مرہ بن جائے تو پھر باہر نکلنے والی عورتوں کو آبروباختہ کیوں نہ سمجھا جائے۔

غضب یہ ہے کہ منبر سے یہ بات بار بار کہی جاتی ہو کہ عورتوں کا گھر سے باہر قدم نکالنا جنم کے راستے پر چلنے کے مترادف ہے۔ ننھی بچیوں سے بھائی، چچا اور ماموں کا رشتہ ختم ہوکر صرف ہوس کا تعلق رہ جائے تو جان لیجیے کہ کسی تنور سے طوفان ابلنے ہی والا ہے اور کسی بستی کے طبقے الٹنے والے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔