ڈیم کب شرمندۂ ’’تعمیر‘‘ ہوں گے

تربیلا اورمنگلا ڈیم کے بعد چھوٹے ڈیمز کے سوا کوئی بڑا ڈیم ’’شرمندہ تعمیر‘‘ نہ ہوا ، کالا باغ ڈیم سیاست کی نذر ہوا


Editorial December 17, 2013
پاکستان کا شمار ان ملکوں میں ہو سکتا ہے، جہاں پانی کی قلت کا خدشہ ہے، حکومت قلت پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرے.فوٹو: فائل

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے توانائی کی سپلائی کا فرق دور کرنے کے لیے صنعتی یونٹوں میں بجلی کی فراہمی میں اضافے اور تسلسل کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے 2014سے 2018 تک مجوزہ طلب و رسد کی صورتحال سے آگاہ کیا جائے۔ ملک میں توانائی کی صورتحال کے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ صنعتوں کو ہفتے میں2 روز گیس بھی فراہم کی جانی چاہیے ، بجلی کی قلت پر قابو پانے کے لیے شمسی توانائی کے منصوبوں پرکام ضروری ہے، اجلاس میں وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار، وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال، وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ آصف اور وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے شرکت کی ، وزیراعظم کو ملک میں توانائی کی صورتحال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی ،اجلاس کے دوران جامشورو میں کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر، دیامربھاشا، داسو ڈیم اور تربیلا کے توسیعی منصوبے کا جائزہ لیا گیا۔

ملک کو درپیش توانائی بحران کی سنگینی اعصاب شکن رہی ہے جب کہ اکیسویں صدی کے جدید عہد اور سائنس و ٹیکنالوجی کی عظیم پیش رفت و ایجادات کے باوجود اہل وطن کو لوڈ شیڈنگ ، اضافی اور ہوشربا بلنگ ، کنڈا سسٹم، نادہندگی کے حوالہ سے تاریکیوں نے جس بیدردی سے معاشی محرومیوں،ذہنی دبائو،مالی مصائب اور سماجی بدنظمی کے عذاب میں مبتلا کیا ہے کسی مہذب اور جمہوری ملک میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، الیکٹر سٹی کو منظم روشنی کہا گیا ہے، مگر ہمارے 67 سالہ سویلین اور عسکری دورانیے کے تلاطم خیز دور میں کسی بھی حکمراں کے ذہن میںبجلی کی بنیادی ضرورت کے احساس کا کوئی دیا نہیں جلا، بلکہ اقتدار میں آنے والوں نے بجلی کے مستقل نظام کے قیام کے بجائے ایڈہاک ازم اور چلتی کا نام گاڑی کے مصداق نہ تو دیو ہیکل ڈیم بنائے اور نہ وقت کے تقاضوں ، آبادی کے پھیلائو، بڑے شہروں کے رہائشی منصوبوں ، اقتصادی و تجارتی مراکزاور زرعی شعبے میںبجلی کی کھپت اور مستقبل میں توانائی کے محور پر ہر شے کے گھومنے کا کوئی ادراک نہیں کیا، جو دو ڈیم تربیلا اور منگلا بنے اس کے بعد چھوٹے ڈیمز کے سوا کوئی بڑا ڈیم ''شرمندہ تعمیر'' نہ ہوا ۔ کالا باغ ڈیم سیاست کی نذر ہوا اور آج پورا ملک اندھیر نگری چوپٹ راج کے طعنے سن رہا ہے۔جب ملک میں توانائی نہیں ہو گی تو پھر کاروباری سرگرمیاں کیسے جاری رہیں گی۔ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب ہر کسی کے پاس ہے لیکن مسئلہ پھر وہی ہے کہ اگر سب کو توانائی کی اہمیت کا پتہ تھا تو پھر اسے وافر کرنے کے لیے اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔

دہشت گردی ، بدامنی، بیروزگاری اور مہنگائی کا شور ہر طرف اٹھ رہا ہے، کیا جمہوریت ان بحرانوںسے نبرد آزما ہوسکتی ہے؟ جی ہاں! بشرطیکہ ارباب اختیار اپنا انداز نظر تبدیل کریں اور رقابتوں کے خوفناک سیاسی بھنور سے نکل کر عوامی اور ملکی مفادات کے تحت پوری قوم کو متحد کرتے ہوئے اچھی حکمرانی اور قانون کی بالادستی قائم کریں ۔ وزیراعظم نے توانائی منصوبوں پرکام کی رفتار میں اضافے کی صائب ہدایت کی، توانائی کی قلت پر قابو پانے اور عوام کو سستی بجلی فراہم کرنے کے لیے انھوں نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ سولر پاور پروجیکٹ قائم کیے جائیں۔وزیراعظم ہائوس میں پرنس کریم آغا خان کے ساتھ ملاقات کے دوران نواز شریف نے کہا کہ آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک دیگر تنظیموں کے لیے ایک ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے جو جدید اور سائنسی انداز میں اپنے منصوبے تیار اور ان پر عملدرآمد کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے بڑے مواقعے ہیں اورہمارا ملک توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتا ہے جس سے نہ صرف پاکستان اپنے توانائی کے بحران پر قابو پاسکے گا بلکہ پیداواری سرگرمیوں، روزگار، محصولات میں اضافہ ہوگا اور خدمات کی فراہمی میں حکومتی صلاحیت میں اضافہ سے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

تاہم بجلی اور پانی کے نئے وسائل اور ذخائر کے لیے بھی منتخب نمایندوں کی صدا بلند ہورہی ہے، سینیٹ نے ملک میں پانی کی قلت پر قابو پانے کی غرض سے نئے آبی ذخائر تعمیر کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی قرارداد کی اتفاق رائے سے منظوری دی ہے اور چیئرمین نے حکومت کو دوماہ میں رپورٹ دینے کی ہدایت کردی ہے ۔ قرارداد پر بحث کرتے ہوئے سنیٹرز نے کہا کہ ایوب دور کے بعد آبی ذخائر کی تعمیر کے معاملے پر پیشرفت نہیں کی گئی ۔ منڈا ڈیم کے لیے پی ایس ڈی پی میں رقم مختص نہیں کی گئی، اگر یہ ڈیم ہوتا تو سیلاب سے ہونے والی تباہی سے بچا جا سکتا تھا۔ بد قسمتی یہ ہے کہ کالا باغ ڈیم کا نام لیا جاتا ہے تو مخالفت شروع کر دی جاتی ہے، اسے بجلی کے حصول کے لیے تعمیر کیا جا سکتا ہے۔یو این رپورٹس کے مطابق پاکستان کا شمار ان ملکوں میں ہو سکتا ہے، جہاں پانی کی قلت کا خدشہ ہے، حکومت قلت پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرے۔ دنیا کی آیندہ جنگیں صاف پانی کے حصول اور ذخائر کے لیے ہوں گی۔

ملکی اقتصادی اور سماجی ترقی کا انحصار پانی و بجلی پر دیگر چیزوں کی بہ نسبت بہت زیادہ ہے ،لیکن ملکی معیشت، تجارتی مراکز، بیشتر شہری علاقوں اور دیہی شعبہ کو آج بھی پینے کے لیے میٹھا پانی دستیاب نہیں ، پنجاب اور سندھ میں زیر زمین پانی کی مقدار کثرت استعمال سے گھٹتی جارہی ہے، وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے سندھ اریگیشن اینڈ ڈرینج اتھارٹی(سیڈا)کی ازسرنوتشکیل کا حکم دیا ہے ۔ زرعی شعبہ کو خبردار کیا گیا ہے کہ سبزیوں کے کاشتکار سبزیوں کی کاشت نرسریوں کو شدید سردی اور ممکنہ کورے سے بچانے کے لیے پیشگی اقدامات کریں۔ زرعی ماہرین کے مطابق سخت سردی اور کورا مرچ، ٹماٹر کی نرسری اور بینگن کی فصل کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے جس کے لیے مناسب اقدامات بروقت ضروری ہیں۔ باغبان پھلدار پودوں کو شدید سردی سے محفوظ رکھنے کے لیے بروقت اقدام کریں۔

سدا بہار پھلدار پودوں میں آم' لیچی' پپیتا' کیلا اور کاغذی لیموں وغیرہ کے چھوٹے پودے شدید سردی اور کورے سے بری طرح متاثر ہوتے ہیں جس سے نہ صرف ان کی پیداوار متاثر ہوتی ہے بلکہ کوالٹی بھی متاثر ہوتی ہے ۔ادھر حکومت کو آیندہ 4 برسوں میں ٹیکسٹائل برآمدات دگنی کرنے کے لیے روڈ میپ پیش کر دیا جس کے تحت ٹیکسٹائل سیکٹر میں سالانہ 1ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی جائے گی، روئی کی پیداوار 13ملین سالانہ گانٹھوں سے بڑھا کر 16ملین گانٹھوں تک پہنچائی جائے گی اور 10لاکھ افراد کو ملازمتیں دی جائیں گی جب کہ ملکی ٹیکسٹائل برآمدات 13ارب ڈالر سے بڑھا کر 26ارب ڈالر تک بڑھائی جائیں گی۔مگر اس پیداواری عمل میں بجلی درکار ہے،وہ کہاں سے آئے گی؟ تھامس ایڈیسن نے کہا تھا۔ '' میں اتنی سستی بجلی پیدا کرونگا کہ صرف امیر لوگ موم بتی جلانے کے متحمل ہوسکیں گے۔''

بلاشبہ توانائی کے بحران کی پرورش وقت نے برسوں کی ہے جس کی شدت اور ہولناکی جس سطح پر آپہنچی ہے اسپر اب کسی عالمانہ اور فاضلانہ بحث کی ضرورت اس لیے بھی نہیں ہے کہ اس مملکت خداد میں اب بجلی کی پیداوار ، تقسیم اور اس کے ہولناک منفی اثرات ونتائج کے ازالے کے لیے وہی کچھ ہونا چاہیے جس کی موجودہ حکومت ابتدا کرنے تو جارہی ہے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکومت توانائی کے مسئلہ کو ایک نکاتی ایجنڈہ کے طور پر ہر مسئلہ پر فوقیت دے ،افراتفری ، محاذ آرائی ، میڈیا میں بیانات کے شور سے نڈھال دلدلی سیاست میںقوم کو روشنی کی بھیک نہیں جمہوری ثمرات اور استحقاق کی عوامی میراث چاہیے۔ ہر پاکستانی کا یہ حق ہے کہ اسے بجلی ، پانی ،علم دوستی،خرد افروزی اورترقی و زندگی بسر کرنے کے یکساں مواقعے ملیں ۔